قائدِ اعظم محمد علی جناح کی برسی پر قلندرانِ اقبال کی یاد گار نشست

TARIQ BUTT

TARIQ BUTT

یو اے ا ی (14 ستمبر۔ ۔ا لعین ۔۔یو اے ا ی) یومِ دفاعِ پاکستان اور پھر قائدَ اعظم محمد علی جناح کی برسی کے حوالے سے قلندرانِ اقبال نے ایک بڑی ہی خوبصورت ادبی نشست کا اہتمام کیا ۔ اس دفعہ یہ نشست یو اے ای کے ایک بڑے ہی خوبصورت شہر العین میں منعقد کی گئی جس کی میز بانی کا شرف مجلسِ قلندرانِ اقبال کے سر پرست پروفیسر ڈاکٹر وحیدا لزمان طارق کے حصے میں آیا۔ اس نشست کی صدارت یو اے ای کی مشہو رو معروف ہستی ع۔س۔ مسلم کے حصے میں آئی جو اپنی پیرانہ سالی کے باوجود قندرانِ اقبال کی محفل میں شامل ہو نا اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔ اس نشست میں شارجہ ،عجمان، دبئی اور ابوظبی سے قلندرانِ اقبال کی شرکت نے محفل کو چار چاند لگا دیئے۔

مجلسِ قلندرانِ اقبال کا واحد مقصد اقبال کی آفاقی فکر سے عوام کو روشناس کراناہے اورعوام کی راہنمائی ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جانب کرنی ہے جو اقبالی فکر اور خواب کا آئینہ دار ہو۔ مجلسِ قلندراں اقبال اس لحا ظ سے خو ش قسمت ہے کہ اسے پروفیسر ڈاکٹر وحیدا لزمان طارق جیسی علمی شخصیت کی سرپرستی اور تعاون حاصل ہے جو فکرِ اقبال پر ایک اتھارٹی تصور کئے جاتے ہیں اور جن کے بلیغ خطبے سے فکرِ اقبال کے کئی بند گوشے نکھر کر سامنے آجاتے ہیں اور سامعین علم و ادب کی روشنی سے خو د میں ایک نئی جلا اور رفعت محسوس کرتے رہے ۔ ڈاکٹر صاحب کا اس نشست میں دیا گیا خطبہ بھی پہلے خطبوں کی طرح بڑا بلیغ اور عمیق تھا ۔ پروفیسر ڈاکٹر وحیدا لزمان طارق نے اس دفعہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے الہ آباد میں ١٩٣٠ کو دئے گئے خطبے کو بنیاد بنا یا ہوا تھا ۔ان کے خطبے کاموضوع چونکہ آزادی کی اساسی فکر سے تھا لہذا اس میں ہندوستان کے سیاسی حالات اور پھر ان حالات میں آزادی کی جانب سفر کی روداد بھی زیرِ بحت آگئی تھی ۔ ڈاکٹر صاحب کا اصرار تھا کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہے تھے بلکہ ایک مبشر کی حیثیت سے پیش نے والے واقعات کا نقشہ پیش کر رہے تھے۔ ان کا نداز پیغمبرانہ تھا جس میںوہ غیب میں رونما ہونے والے واقعات کی پردہ کشائی کر رہے تھے۔ خطبے کا ایک اقتباس قارئین کی خدمت میں پیش ہے تا کہ وہ اس نداز کی ایک جھلک محسوس کر سکیں اور دیکھ سکیں کہ ڈاکٹر علامہ اقبال اس وقت فکری لحاظ سے کتنی بلندی پر تھے۔

آپ حضرات نے آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت کے لئے ایک ایسے شخص کو منتخب کیا ہے جو یہ عقیدہ رکھتاہے اور اپنے عقیدے میں کوئی شائبہ نہیں پاتا کہ اسلام ایک زندہ و پائیندہ قوت ہے جو انسانی نگاہ کو جغرافیائی حدودو قیود کے قفس سے آزاد کرکے اسے اس کی فطری وسعتوں میں اذنِ بالِ کشائی دے گا ۔جس کا عقیدہ یہ ہے کہ دین انسان کی انفرادی اور اجتمائی زندگی میں ایک اہم ترین قوت کا حامل ہے اور جسے اس کا محکم یقین ہے کہ اسلام خود تقدیرِ الہی ہے ۔زمانے کی تقدیریں اس کے ہاتھ میں رہیں گی اور اس کی تقدیر کسی کے ہاتھ میں نہیں ہو گی ۔ایسا شخص مجبور ہے کہ وہ تمام مسائل کو اپنے خاص زاویہ نگاہ سے دیکھے ۔یہ ہر گز خیا ل نہ فرمائے کہ جس مسئلے کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں وہ کوئی نظری مسئلہ ہے۔نہیں یہ تو ایک زندہ اور عملی مسئلہ ہے جو خود نفسِ اسلام پر بحثیتِ ایک نظامِ حیات و عمل کے اثر انداز ہو گا۔اس مسئلے کے صحیح اور مناسب حل پر ہی اس امر کا انحصار ہے کہ آپ حضرات ہندوستان میں ایک ممتاز تہذیب کے علمبر داروں کی حیثیت سے زندہ رہ سکیں گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام خدا اور بندے کے درمیان ایک روحانی واسطہ کا نام نہیں ۔ یہ ایک نظامِ حکومت ہے جس کی حیتِ ترکیبی میں یہ صلا حیت رکھی گئی ہے کہ وہ ہر عملِ خیر کو اپنے اندر جذب کر لے ۔اس نظام کا تعین اس وقت ہو چکا تھا جب کسی روسو کے دماغ میں ایسے نظام کا خیال تک بھی نہیں آیا تھا۔اس نظام کی بنیاد ایک ایسے اخلاقی نصب العین پر رکھی گئی ہے جس کی ر وسے انسان جمادات و نبا تات کی طرح پا بگِل مخلوق نہیں سمجھاجاتا کہ اس کو کبھی اس خطہِ زمین سے منسوب کر دیا اور کبھی اس سے۔ بلکہ وہ ایک ایسی روحانی ہستی سمجھا جاتا ہے جس کی صحیح قدرو قیمت اس وقت معلوم ہوتی ہے جب وہ ایک خاص معاشرتی نظام کی مشینری میں اپنی جگہ فٹ ہو۔

quaid e azam anniversary 1

quaid e azam anniversary 1

وہ ایک فعال مشینری کا پرزہ ہوتا ہے اور اسے ٹھیک انداز میں چلانے کے لئے اس پر حقوق و فرائض کی ذمہ داریاں عائد ہو تی ہیں)(ہندوستان دنیا بھر میں سب سے بڑا اسلامی ملک ہے ۔اس ملک میں اسلام بہ حیثیتِ ایک تمدنی قوت کے اسی صورت میں زندہ رہ سکتا ہے کہ اسے مخصوص علاقے میں مرکوز کر دیا جائے۔مسلمانانِ ہند کے اس زندہ اور جاندار طبقے میں کہ جس کے بل بوتے پر یہاں برطانیہ کی حکومت قائم ہے اگر یوں ایک مرکزیت قائم کر دی جائے تو یہ نہ صرف ہندوستان بلکہ تمام ایشیا کی گتھیاں سلجھا دے گا۔تنہا ایک ملک میں سات کروڑ فرزاندانِ توحید کی جماعت کوئی معمولی چیز نہیں ۔تمام مسلم ا یشیا کے ممالک مجموئی طور پر بھی اسلام کے لئے اتنی گراں بہا متاع نہیں جتنی اکیلے ہندوستان کی ملتِ اسلامیہ ۔اس لئے ہمیں ہندوستان کے مسئلے کو صرف اس نقطہ نظر سے نہیں دیکھنا چائیے کہ ہندوستان میں اسلام کا حشر کیا ہو گا بلکہ اپنی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اس نقطہ خیال سے بھی کہ ہماری موت و حیات کا عالمِ اسلام پر کیا اثر ہو گا۔میری آرزو یہ ہے کہ پنجاب، صوبہ سرحد،سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک واحد ریاست قائم کی جائے۔ مجھے تو نظر آتاہے کہ شمال مغربی ہندوستان میں ایک متحدہ اسلامی ریاست کا قیام کم از کم اس علاقے کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔ میں اس ریاست کو بنتے ہو ئے دیکھ رہا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت اسے بننے سے روک نہیں سکتی)۔

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اور ان کے بیان کردہ حقائق 14 اگست 1947 کو ایک حقیقت بن کر دنیا کے نقشے پر سب سے بڑی اسلامی ریاست پاکستان کے نام سے ابھرے ۔پروفیسر ڈاکٹر وحیدا لزمان طار ق نے کہا کہ ڈا کٹر علامہ محمد اقبال نے جو خطبہ ١٩٣٠ کو الہ آباد کے مقام پر دیا اس کی تکمیل قائدِ اعظم محمد علی جناح کی عظیم الشان جدو جہد سے ممکن ہو ئی ۔پر وفیسر ڈاکٹر وحیدا لزمان طارق کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو قائدِ اعظم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں اور وہ سمجھتے تھے کہ صرف قائد ِ اعظم محمد علی جناح ہی ان کے پیش کردہ نظریے میں حقیقت کے رنگ بھر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے کانگریس کے بڑے قائدین اور کا بر ین سے قریبی تعلقات تھے۔ پندت جواہر لال نہرو فروری 1938 میں خود اقبال منزل میں علا مہ اقبال سے ملاقات کے لئے حاضر ہو ئے تھے اور ان سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا تھا لیکن جب بات ہندوستان کی قیادت تک آ پہنچی تو علامہ اقبال نے بڑے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح ہی مسلمانانِ ہند کے واحد راہنما ہیں اور میں ان کا ایک ادنی سا سپاہی ہوں۔۔طارق حسین بٹ نے نظامت کے فرائض سر انجام دئے جب کہ شیخ واحد حسن نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی۔طارق حسین بٹ نے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ پاک فوج کے جوانوں نے چھ ستمبر کو جس طرح بھارت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا وہ ان کی جراتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بھارت اس خو ش فہمی میں مبتلا تھا کہ وہ ایک ہی حملے میں پاکستان کو ہڑپ کر جائے گا لیکن بہادر افواج نے جس طرح بھارتی فوجوں کے دانت کھٹے کئے دشمن کو اس کی امید نہیں تھی۔بھارت کو ہر محاذ پر پسپائی اختیار کرنی پڑی اور پاکستان کی بہادر افواج نے ہر سو اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ دئے ۔پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی اور ان کے حوصلے بڑھا رہی تھی۔

quaid e azam anniversary

quaid e azam anniversary

اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمھارے لئے ہیں کہ پرسوز آواز فوجی جوانوں کو نیا عزم عطا کر رہی تھی اور اس عزم کے سامنے بھارت جیسی طاقت کے قدم اکھڑ گئے تھے۔ پوری قوم اپنے سپو تو ں کی جانبازی پر انھیں سلام پیش کرتی ہے اور دفاعِ پاکستان کا فریضہ سر انجام دینے پر ان کی احسان مند ہے۔
شرکائے محفل ۔چوہدی شکیل ۔ ملک خادم شاہین۔چوہدری ناصر ۔طاہر منیر طاہر۔(دبئی۔ شارجہ) ۔ انور شمسی ۔محمد عامر۔ حسیب اعجاز اشعر۔محمد عمر۔ ملک نعمان رشید۔ سفیان طارق بٹ (ابو ظبی) مسز پروین صادق۔ ڈاکٹر چوہدری حمید اور دیگر دوستوںکی شرکت نے اس ادبی شام کو یاد گار بنا دیا۔۔

شعرائے اکرام
ع ۔س۔مسلم
جبیں شرم سے آ ب آلود ہے
کہ داغِ سیہ دِل میں موجود ہے
تسنیم عابدی
اس با رہوا’کن کا اثر اور طرح کا
اس بار ہے امکانِ بشر اور طرح کا
سعید پسروری
مرے اُس کے تعلق میں ہمالہ کی بلندی ہے
اگر گہرا ئی کو دیکھوں سمندر چھوٹے لگتے ہیں
محمد یعقوب عنقا
تو ہے گر ساتھ تو پھر تیری صدا بھی آ ئے
کو ئی آہٹ میرے قدموں کے سوا بھی آئے
طارق حسین بٹ شان
ایمان و آگہی کی انتہا چاہتے ہیں۔۔ہم اپنی وفائوں کا صلہ چاہتے ہیں
نامِ ِوفا جگ میں رہ جائے باقی۔۔عشق میں ایسی سزا چاہتے ہیں
وحید الزمان طارق
قفس کو آشیاں کہنا ہے مشکل۔۔جہنم کو جہاں کہنا پے مشکل
بلاے ناگہانِ آسماں کو ۔۔۔نصیب دشمناں کہنا ہے مشکل
آصف رشید اسجد
میں دوست ر کھتا ہوں دشمن کبھی نہیں رکھتا
جبھی تو پشت پہ ہر وقت گھا ئو رہتا ہے
ارسلان طارق بٹ سراب
ہم تو جان ہتھیلی پہ لئے پھرتے ہیں
مرنے نہیں دیتی تیری دعا مجھ کو
حافظ یعقوب حجازی
پھر نکل کر تیری گلی سے ہم
ہر گلی ہر نگر خوار ہو ئے ہیں
محمد افراہیم بٹ
چند سِکوں کی بات ہے ورنہ
میں بھی لو گوں میں معتبر ہوتا۔

تحریر : طارق حسین بٹ