پیپلز پارٹی ، الیکشن، اپوزیشن اور امکانات

PPP

PPP

آج سے دو تین سال ادھر جب اسٹیبلشمنٹ کے لیپ ٹاپ زدہ سیاسی بزرجمہروں کے ساتھ گپ شپ ہوئی تو سب ایک ہی بات کیا کرتے کہ ہم پیپلز پارٹی کو بہرصورت مدت پوری کرنے دیں گے تاکہ ان پانچ سالوں میں یہ اس قدر ذلیل و رسوا ہو جائے کہ آئندہ کئی سالوں تک یہ اقتدار کے قریب بھی نہ پھٹک سکے ۔

مگر آج جبکہ پی پی پی اور اس کے اتحادی اپنی باری کے ساڑھے چار سال پورے کر چکے ہیں تو محسوس یہ ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے ان نام نہاد سیاسی ماہرین کے کان پکڑوا کر انکی باقاعدہ چھترول کر رہی ہو گی کیونکہ پیپلز پارٹی تمام تر نامساعد حالات کے باوصف جتنی مضبوط آج دکھائی دیتی ہے پچھلے تیس سالوں میں پہلے کبھی نہ تھی ? وفاق ، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت، بلتستان اور کشمیر میں اس کی حکومت لوہے کی مانند مضبوط ہے ? سینٹ میں نہ صرف اگلے کئی سال تک اس کی اکثریت قائم ہے بلکہ گزشتہ روایت کے برعکس اس مرتبہ قائد ایوان بھی پارٹی کا اپنا وفادار جیالا ہی ہے۔ اپوزیشن کا عالم یہ ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کم از کم شہری حلقوں کی حد تک تو نواز لیگ کا جینا خوب حرام کرے گی ?رہی سہی کسر اصحاب ق نکالیں گے کہ چودھری برادران کا اثرورسوخ اس حد تک تو یقینا ہے کہ نواز لیگ کو تقریبا ہر دیہی حلقے میں واضح ڈینٹ ڈال سکیں ۔

اس ساری صورتحال پر مستزاد وہ لڑائی جھگڑے ہیں جن کا ن لیگ اندر واندری شکار ہے ? گو کہ مخدوم جاوید ہاشمی کا جانا سیاسی سے زیادہ علامتی نقصانات کا موجب ہے مگر سردار ذوالفقار کھوسہ جیسے بزرگ اور بااثر ساتھی کی علیحدگی خاصی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ? حالانکہ جنوبی پنجاب میں تو پیپلز پارٹی ق لیگ کے ساتھ ملکر ویسے ہی ن لیگ کا مکو ٹھپ چکی ہے کہ سرائیکی صوبے والی بات اپنا رنگ ضرور جمائے گی۔خیبر پختونخوا میں بھی پارٹی توڑ پھوڑ نہیں تو شدید کھچا کا شکار ضرور ہے جس کے لئے سب سے اہم مثال سردار مہتاب عباسی اور پیر صابر شاہ کی دی جا سکتی ہے اور اب تو سندھ سے بھی اسی قماش کی خبریں آنے لگی ہیں ? غوث علی شاہ کو صوبہ سندھ کا شہباز شریف کہا جا سکتا ہے مگر ذرائع بتاتے ہیں سندھ کا یہ شہباز شریف ہر دوسرے دن پارٹی چھوڑنے کا مصمم ارادہ کرتا ہے مگر پھر کوئی نہ کوئی مصلحت اس کے قدم روک لیتی ہے ?واقفان حال کا کہنا ہے کہ مشرف دور کے وزیر پانی و بجلی اور ضرورت سے کچھ زیادہ ہی لوٹا صفت واقع ہوئے لیاقت جتوئی کو نواز لیگ میں شامل کئے جانے پر غوث علی شاہ نے شدید احتجاج کیا ہے اور شنوائی نہ ہونے کے سبب اب فنکشنل لیگ کی طرف سرکتے چلے جا رہے ہیں ۔

چنانچہ موجودہ صورتحال میں اگر تو انتخابات ہو گئے تو کم از کم ہماری ذاتی رائے میں تو صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہو گی اور اگر معروضی حالات کو بغور دیکھا جائے تو نواز لیگ کے لئے تو پنجاب حکومت بچانا بھی خاصا مشکل ہو جائے گا ?اور یہی وہ باریک سی بات ہے کہ جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے ملک کی پوشیدہ اور پر اسرار قوتیں ہرگز ہرگز نہیں چاہیں گی کہ عام انتخابات منعقد ہوں ? تاہم یہ قوتیں خود تو بیچاری اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ حسب روایت نچلی اپر اور اپر کی نیچے کر سکیں البتہ یہ نگران سیٹ اپ کو طول دینے کی کوشش ضرور کریں گے ۔

Election commision

Election commision

نگران سیٹ اپ میں آج بھی شوکت ترین کا نام سرفہرست ہے جنکی زندگی کا مقصد ہی صرف ان بائیس لاکھ اہم کاروباری شخصیات پر ہاتھ ڈالنا ہے جو گزشتہ پچاس برس سے ٹیکس چرا رہی ہیں ? ساتھ ہی ساتھ احتساب کے نعرے میں بھی جان ڈالی جا سکتی ہے اور عام انتخابات کو مزید دو ایک سال پرے دھکیلا جا سکتا ہے ? چند اہل نظر ایسے بھی ہیں کہ جو یہ پیش گوئی بھی کر رہے ہیں کہ ایک انتہائی نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر چیف الیکشن کمشنر ہمارے فخرو بھائی نہایت پراسرار حالات میں استعفی? داغ دیں گے اور پھر آئین کے مطابق فوری طور پر ایک نیا الیکشن کمشنر مقرر کیا جائے گا اور یہ تقرری زرداری صاحب نہیں بلکہ کوئی اور کرے گا !ٹیکس نادہندگان کی شامت کا تذکرہ یہاں ایک بار پھر اس لئے بھی کرنا پڑے گا کہ اب بھول جائیے کہ آپ کو بیرونی امداد مزید ملے گی? حتی? کہ قرضے کا حصول بھی بتدریج مشکل ہوتا جائے گا چنانچہ ملک چلانے کے لئے اب لے دے کر فقط ٹیکس نیٹ ہی بچتا ہے اور یہ وہ جال ہے کہ جس کا بہترین استعمال شوکت ترین جیسے ماہر شکاری ہی کر سکتے ہیں۔

PML N and PTI

PML N and PTI

مذکورہ منظر نامے میں ہمیں نہ زرداری نظر آتے ہیں اور نہ ہی نواز شریف، عمران خان ویسے تو انگنت خامیوں کا مرکب ہیں اور انکی ٹیم پیپلز پارٹی کی ٹیم سے بھی زیادہ ناقص ہے مگر چند اہم خوبیوں کے سبب اس وقت خان صاحب کا سکوپ پیدا ہو سکتا ہے اور وہ بھی یوں کہ ہماری پوشیدہ اور پراسرار قوتیں ایک بار پھر خان صاحب کی گڈی چڑھانے کے لئے دوچار پاشا صاحبان کا بندوبست کریں اور نگران سیٹ اپ کے دوران ایسی ہوا بنا دیں کہ دونوں بڑی پارٹیوں کے اکابرین ٹوٹ ٹوٹ کر تحریک انصاف میں شامل ہونے لگیں اور عوام ہمارے تو چونکہ دیکھتے ہی یہی ہیں کہ ہوا کس کی بندھی ہے اور گڈی کس کی چڑھی ہے?خیر یہ تو تھا معاملہ آنے والے وقت کو چشم تصور سے دیکھنے کا البتہ اگر اسٹیبلشمنٹ کا دھیان اس طرف نہ گیا تو پھر وہی ہو گا جس کا اپر تذکرہ کیا گیا ہے اور صورتحال تقریبا وہی رہے گی جو آج ہے۔