کیسے وہ لوٹ آئے کہ فرصت اسے نہیں

Alone

Alone

کیسے وہ لوٹ آئے کہ فرصت اسے نہیں
دنیا سمجھ رہی ہے محبت اسے نہیں

لگتا ہے آ چکی ہے کمی اس کی چاہ میں
کافی دنوں سے مجھ سے شکایت اسے نہیں

دل کی زمین اس کی ہے بنجر اسی لیے
جذبوں کی بارشوں کی جو عادت اسے نہیں

ہر چیز اختیار میں رکھتا ہے وہ مگر
دل سے رہائی پانے پہ قدرت اسے نہیں

اس پہ زمانہ رنگ جماتا بھی کس طرح
حیرت کدے میں رہ کے بھی حیرت اسے نہیں

صحرا کے ہر ورق پہ ہے تحریر اس کا نام
کل تک جو کہہ رہا تھا کہ وحشت اسے نہیں

فاخرہ بتول