فوائد بھی، نقصانات بھی: جرمنی کا وفاقی نظام کیسے کام کرتا ہے؟

Meeting

Meeting

جرمنی (اصل میڈیا ڈیسک) جرمنی امریکا، بھارت اور برازیل کی طرح ایک وفاقی جمہوری ریاست ہے، جس کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ اس نظام کی ایک تاریخی روایت بھی ہے۔ اس کے نقصانات برلن میں وفاقی حکومت کے لیے کئی طرح کے چیلنجز کا باعث بھی بنتے ہیں۔

یورپ کے دل میں وہ خطہ جسے دنیا جرمنی کے نام سے جانتی ہے، بڑی بھرپور اور متنوع تاریخ کا حامل ہے۔ جرمن ریاست میں وفاقی ڈھانچے کسی نا کسی شکل میں صدیوں سے چلے آ رہے ہیں۔ جرمنی کے ہمسایہ ملک فرانس میں پیرس قرون وسطیٰ کے اوائل میں ہی دارالحکومت اور ایک اہم عسکری مرکز بن گیا تھا۔ مگر دریائے رائن سے مشرق کی طرف واقع خطے میں زیادہ تر مقامی نوابوں اور جاگیر داروں کی حکومت تھی، جن کے زیر اثر علاقوں میں زبان تو ایک تھی مگر ایسی جرمن نوابی جاگیریں آپس میں بہت مربوط نہیں تھیں۔

جرمنی میں وفاقی سیاسی نظام کے تاریخی پس منظر کو سمجھنا ان نظام کے سمجھنے کے لیے ضروری ہے، جس کے تحت موجودہ وفاقی جمہوریہ جرمنی کے سولہ وفاقی صوبے، جو دراصل وفاقی ریاستیں کہلاتے ہیں، اس ریاست کی جدید شکل میں اپنا کام کرتے ہیں۔

جو علاقہ آج جرمن ریاست کہلاتا ہے، وہ ماضی میں زیادہ تر شاہی یا مقامی نوابی خاندانوں کے زیر اثر ایسے علاقوں پر مشتمل تھا، جن میں بریمن جیسی چھوٹی چھوٹی شہری ریاستیں بھی شامل تھیں اور پرُوشیا جیسی بڑی بادشاہتیں بھی۔

بعد میں اس ریاست میں کئی ایسی چھوٹی بادشاہتیں اور شہری ریاستیں بھی شامل ہو گئیں، جہاں عوامی حقوق بڑے متنوع تھے اور رائج سکے بھی ایک دوسرے سے بہت مختلف۔

اسی لیے یہ کوئی عجیب بات نہیں تھی کہ مختلف شاہی یا نوابی ریاستوں میں خود مختاری کی سطح بھی مختلف تھی۔ صدیوں تک اس خطے میں، جو آج جرمنی کہلاتا ہے، کوئی مرکزی حکمران طاقت نہیں تھی۔

ان خطوں کے حکمران پہلے مقدس رومن شہنشاہ کو مالی ادائیگیاں کرتے تھے اور پھر بعد میں جرمن شہنشاہ کو۔ ان ادائیگیوں کے بدلے رومن یا جرمن شہنشاہ ان خطوں کی بیرونی حملوں سے تحفظ اور غیر ملکی جنگوں میں مدد کرتے تھے۔

بادشاہوں اور شہنشاہوں والے نظام کے خاتمے اور وائیمار جمہوریہ کے پرآشوب برسوں کے بعد جرمنی کی وفاقی روایت کو پہلی بار نازیوں نے توڑا تھا۔ تیس جنوری 1933 کے روز اقتدار پر نازیوں کے قبضے کے بعد مقامی جرمن ریاستوں کو متحد کر کے ایک مرکزی نظام اور کنٹرول کے تحت لانے کا عمل شروع کیا گیا۔

ٹھیک ایک سال بعد تیس جنوری 1934ء کے روز ‘سلطنت کی تعمیر نو کا قانون‘ منظور کیا گیا اور تمام جرمن ریاستوں کے حقوق ختم کر دیے گئے۔

مقامی سطح پر مختلف علاقوں کے منتظم وفاقی اداروں کی جگہ ‘شاہی گورنر‘ مقرر کر دیے گئے جو جرمن زبان میں Reichsstatthalter کہلاتے تھے۔ یہ ‘شاہی گورنر‘ براہ راست برلن میں نازی حکومت کے ماتحت ہوتے تھے اور اس کی جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کے پابند بھی۔

دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر جب اتحادیوں کو جرمنی کے خلاف فوجی فتح حاصل ہوئی، تو یہ بحث شروع ہوئی کہ جرمنی میں ریاستی انتظام اور ڈھانچہ کیسا ہونا چاہیے؟ تب جنگ کی فاتح طاقتیں متفق تھیں کہ نازی رہنما اڈولف ہٹلر کی قیادت میں جرمن ریاست میں طاقت اور اختیارات کا ارتکاز ہی نازی آمریت کے عروج کی اہم ترین وجہ تھا۔ اس لیے مستقبل میں طاقت اور اختیارات کے ایسی کسی ارتکاز کو پوری طرح روک دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

پھر جنگ کے بعد جتنی بھی بین الاقوامی کانفرنسیں ہوئیں، ان میں فیصلہ یہ کیا گیا کہ تمام جرمن ریاستوں کے وہ اختیارات بحال کر دیے جائیں، جو نازیوں نے ختم کر دیے تھے۔ اس کے علاوہ جنگ سے پہلے کی جرمن ریاستوں کے علاوہ کئی ایسی نئی جرمن ریاستیں بھی وجود میں آئیں، جو جنگ کی وجہ سے اندرون ملک پیدا ہونے والی علاقائی صورت حال کا نتیجہ تھیں۔

مشرقی جرمن ریاستیں شروع میں (اب سابق) سوویت یونین کے انتظام میں تھیں۔ یہ ریاستیں بعد میں کمیونسٹ مشرقی جرمن ریاست بن گئیں، جس کا باقاعدہ نام جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک یا جی ڈی آر تھا۔ وہاں وفاقی ریاستیں 1945ء میں ‘سوویت فوجی انتظامیہ‘ کی طرف سے منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت قائم کی گئی تھیں مگر 1952ء میں جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک کے قیام کے ساتھ ہی انہیں عملاﹰ ختم کر دیا گیا تھا۔

‘اشتراکی انتظامی ڈھانچے‘ قائم کرنے کے لیے ان ریاستوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے اختیارات کاؤنٹی اور ضلعی سطح کے انتظامی اداروں کو منتقل کر دیں۔ یوں فیڈرل ازم کو اپنی جگہ جی ڈی آر کے دارالحکومت مشرقی برلن میں ملک سطح پر حکمران سوشلسٹ یونٹی پارٹی کو دینا پڑی۔