افغان امن مذاکرات بحال لیکن غیر یقینی صورت حال برقرار

Taliban

Taliban

دوحہ (اصل میڈیا ڈیسک) دوحہ اب مسئلہ یہ ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے موقف میں کتنی لچک پیدا کرتے ہیں، کن امور پر بات چیت کے لیے تیار ہوتے ہیں اور معاملات کو طے کرنے کی ترتیب پر کس طرح متفق ہوتے ہیں۔

تقریباً ایک ماہ سے زیادہ عرصے کے تعطل کے بعد افغانستان میں متحارب فریق طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن مذاکرات ایک بار پھر شروع ہو گئے ہیں۔

افغانستان میں حالیہ دنوں میں تشدد کے واقعات میں زبردست اضافے کے درمیان سفارتی کوششوں کے نتیجے میں افغان امن مذاکرات شروع ہوئے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ فریقین تشدد میں کمی اور جنگ بندی پر اتفاق کر سکتے ہیں۔

طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے ایک ٹوئٹ کرکے مذاکرات بحال ہونے کی اطلاع دی۔

انہوں نے تاہم بات چیت کے دوران ”ماحول خوشگوار رہنے”، فریقین کے مذاکرات کو جاری رکھنے کے عزم اور امن مذاکرات کے لیے ایجنڈا طے کرنے پر بات چیت جاری رکھنے کے اعلان کے سوا کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔

اس سے قبل جنوری میں جب مذاکرات شروع ہونے کے چند دن بعد ہی اچانک ختم ہو گئے تھے، اس وقت فریقین نے اپنا اپنا ایجنڈا پیش کیا تھا۔ اب دونوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہوگا کہ وہ اپنے اپنے ایجنڈے میں شامل کن نکات پر نظر ثانی کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، اور جن معاملات پر بات چیت ہونی ہے ان پر اتفاق کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی طے کرتے ہیں کہ پہلے کون سا معاملہ نمٹایا جائے گا۔

افغان حکومت، امریکا اور نیٹو کی ترجیح ہے کہ تشدد میں سنجیدگی کے ساتھ کمی لائی جائے تاکہ جنگ بندی ہو سکے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم وہ حالیہ دنوں تک کسی بھی فوری جنگ بندی کی مزاحمت کرتے رہے ہیں۔

امریکا کی نئی جو بائیڈن انتظامیہ فروری 2020 میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں طالبان کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے پر نظر ثانی کر رہی ہے۔ اس معاہدے کے تحت تمام بین الاقوامی افواج کو یکم مئی تک افغانستان چھوڑ دینا ہے۔

گوکہ طالبان نے افغانستان میں بین الاقوامی فوج کی موجودگی میں توسیع کی تجویز کی مخالفت کی ہے تاہم امریکا میں اس بات پر اتفاق رائے میں اضافہ ہو رہا ہے کہ فوج کی واپسی کی آخری تاریخ میں توسیع کر دی جائے۔

یہ تجویز بھی ہے کہ انٹلیجنس کی بنیاد پر کام کرنے والی چھوٹی فورس کو افغانستان میں رکھا جائے جو اپنی توجہ صرف انسداد دہشت گردی اور اسلامک اسٹیٹ پر مرکوز کرے۔ کہا جاتا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ نے افغانستان میں اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

امریکا اور نیٹو نے افغانستان میں موجود تقریباً دس ہزار غیر ملکی فوجیوں کے مستقبل کے بارے میں اب تک کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔ ان میں امریکا کے ڈھائی ہزار فوجی بھی شامل ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان میں جاری جنگ کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ اس نے امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے میں اہم کردار ادا کرنے والے زلمے خلیل زاد کی ذمہ داریاں برقرار رکھی ہیں لیکن مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے کوئی واضح بیان اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔

طالبان کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے اور طالبان تحریک پر افغانستان میں تشدد کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو اہم ترین سمجھا جا تا ہے۔

دوحہ میں بات چیت کا دوبارہ آغاز اُس زبردست سفارتی سرگرمی کے بعد ہوا ہے، جس میں متعدد عہدیداروں نے پاکستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں بھی کیں۔

گزشتہ ہفتے امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل کینتھ ایف مکینزی اسلام آباد میں تھے۔ ان کے علاوہ، افغانستان کیلئے روس کے ایلچی ضمیر کابلوف اور قطر کے خصوصی ایلچی ڈاکٹر مطلق بن ماجد القطحانی نے بھی اسلام آباد کا دورہ کیا۔ افغان صدر اشرف غنی کے خصوصی ایلچی عمر داؤد زئی بدھ کے روز اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔