امریکا کے بعد چین اسلحہ بنانے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا

China

China

ڈنمارک (اصل میڈیا ڈیسک) عالمی سطح پر اسلحہ سازی کی نگرانی کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے ‘اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ’ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ چین امریکا کے بعد دنیا بھر میں اسلحہ تیار کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ تازہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین دنیا بھر میں اسلحہ سازی کے میدان میں دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے “بڑی چینی کمپنیوں کی اسلحہ کی فروخت کے حجم کا سنہ 2015 سے 2017ء کے دوران کے لئے متعلقہ معلومات کا تعین کیا۔ اس دوران چین کی تین شعبوں کے اسلحہ سے متعلق چار بڑی کمپنیوں کی اسلحہ سازی کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں ہوا بازی، الیکٹرانکس اور زمینی نظام کے شعبے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسلحہ اور فوجی ساز و سامان کی تیاری کے لیے دنیا کی سب سے بڑی 100 کمپنیوں کی سالانہ درجہ بندی میں چینی اسلحہ ساز کمپنیوں کو شامل نہ کرنے کی وجہ چینی کمپنیوں کے ہتھیاروں کی فروخت کی قیمت کے بارے میں ماضی میں شفافیت کا فقدان ہے۔

انسٹی ٹیوٹ نے مزید کہا کہ ان کمپنیوں کے بارے میں دستیاب اعداد و شمار میں اضافے کے ساتھ اب چینی اسلحے کی صنعت اور ان چار اہم چینی اسلحہ کمپنیوں کے حجم کا قابل اعتماد تخمینہ لگانا ممکن ہے جن کا مطالعہ جاری ہے۔ ان کمپنیوں کا دنیا کی باقی ہتھیاروں کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ نے 2017 کے اعداد و شمار جاری کیے اور انکشاف کیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی 20 کمپنیوں میں سے امریکا کی 11، مغربی یورپ میں 6 اور روس میں 3 کمپنیاں میں شامل ہیں۔

اور اگر اس مطالعے میں چار چینی اسلحہ ساز کمپنیوں کو شامل کیا جائے تو امریکا کے بعد بہ حیثیت ایک ملک کے چین اسلحہ سازی کے اعتبار سے دوسرا بڑا ملک بن جاتا ہے۔ چین کی اسلحہ سازی کی صنعت کا حجم 54 ارب 10 کروڑ ڈالر ہے۔