امریکا: کرفیو ختم، پولیس اصلاحات کا وعدہ

 Protest in New York

Protest in New York

نیو یارک (اصل میڈیا ڈیسک) امریکا میں پولیس زیادتیوں کے خلاف گوکہ اتوار کو بھی مظاہرے جاری رہے تاہم پرامن مظاہروں کے سبب کئی شہروں میں کرفیو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا اور محکمہ پولیس میں اصلاحات کا وعدہ کیا گیا ہے۔

اامریکا میں نیو یارک، شکاگو، اٹلانٹا اور لاس انجیلس جیسے کئی بڑے شہروں میں پر تشدد مظاہروں کے سبب کرفیو نافذ کیا گیا تھا تاہم اتوار کو بیشتر احتجاجی مظاہرے پر امن رہے جس کے بعد حکام نے کرفیو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس دوران کئی ریاستوں نے مظاہرین کے مطالبات کے پیش نظر عوامی سکیورٹی اور محکمہ پولیس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا وعدہ بھی کیا ہے۔

نیو یارک میں اس طرح کے کرفیو کا نفاذ عشروں بعد ہوا تھا جس پر شدید نکتہ چینی ہو رہی تھی۔ شہر کے میئر بل ڈی بلساسیو کا کہنا تھا، ”میں نے کرفیو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور ایمانداری سے کہوں تو نیو یارک میں یہ آخری بار کا کرفیو ہونا چاہیے۔” اتوار سات جون کو بھی نیو یارک میں پولیس زیادتیوں کے خلاف مظاہرے جاری رہے۔ مینہیٹن کی طرف مارچ کرنے والے ہزاروں مظاہرین ‘بلیک لائیو میٹر’ اور جارج فلوئیڈ کے نعرے لگا رہے تھے۔

جارج فلوئیڈ کو ریاست مِنیسوٹا کے مرکزی شہر منییاپولس میں چار سفید فام پولیس والوں نے حراست میں لے کر انہیں سڑک پر پیٹ کے بل گرا دیا اور پھر ایک سفید فام پولیس اہلکار اپنے گھٹنے سے ان کی گردن پر پوری طاقت سے تقریبا ًنو منٹ تک دباؤ ڈالتا رہا۔ اس دوران فلوئیڈ کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے اور وہ پولیس سے التجا کرتے رہے، ”پلیز، مجھے سانس لینے میں پریشانی ہورہی ہے۔ میرا دم گھٹ رہا ہے۔ مجھے جان سے نہ مارنا۔“ لیکن پولیس اہلکار نے ان کی ایک نہ سنی اور اس کارروائی کے چند منٹوں کے اندر جارج کا وہیں سڑک پر دم نکل جاتا ہے۔

ایک شخص نے پولیس کی ان زیادتیوں کی ویڈیو بنا لی اور اس کے منظر عام پر آتے ہی مظاہرے شروع ہوگئے جو دیکھتے ہی دیکھتے امریکا کی تمام ریاستوں میں پھیل گئے۔ بیشتر شہروں میں پر امن مظاہروں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

شکاگو کے میئر لوری لائٹ فوٹ نے شہر میں نافذ کرفیو کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ڈاؤن ٹاؤن اور میٹرو سروسز کو پھر سے بحال کیا جا رہا ہے۔ شکاگو میں 30 مئی سے کرفیو نافذ تھا تاہم اس کے باوجود مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ حکام کا خیال تھا کہ کرفیو کے خاتمے سے تشدد میں کمی واقع ہوسکتی ہے اور توقع کے مطابق نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں سنیچر کے روز ہی کرفیو ختم کر دیا گیا تھا۔

امریکا میں پولیس زیادتیوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے ایک اہم تجویز ‘پولیس فنڈنگ میں کمی’ کرنے کی آئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شہروں میں عموما محکمہ پولیس کی فنڈنگ تعلیم اور ہاؤسنگ جیسے دیگر شعبوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جس میں فوری طور پر کمی کی ضرورت ہے۔ کئی حلقوں نے اس کی حمایت کی ہے اور پولیس کی فنڈنگ کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

مینیاپولس میں محکمہ پولیس کی اصلاحات پر زور دینے والے ایک ادارے ‘ایم پی ڈی 150’ کا کہنا ہے کہ وسائل اور فنڈنگ کو پولیس کے حوالے کرنے کے بجائے سیفٹی، سپورٹ اور احتیاط کے لیے کمیونٹی سطح پر ایک نئے ماڈل کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے بہت سے ارکان پارلیمان بھی ‘پولیس ڈی فنڈنگ’ کے حامی ہیں۔ رکن پارلیمان الیکزنڈریا اوکاسیو کورٹیز نے بھی اس کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیو یارک سٹی کی پولیس کی فنڈنگ کو کم کرنے کی ضرورت ہے جس کا بجٹ چھ ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔

منیاپولس کاؤنسل، جہاں پولیس کے ہاتھو جارج فلوئیڈ کی موت ہوئی تھی، کے بھی کئی ارکان نے پولیس کی فنڈنگ میں کمی کی حمایت کرتے ہوئے محکمہ پولیس کو ختم کرکے تشکیل نو کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

کاؤنسل کی صدر لیزا بینڈر کا کہنا تھا کہ شہر کی کاؤنسل جلد ہی اس بات پر بات چیت کرنے والی ہے کہ آیا محکمہ پولیس کا متبادل کیا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پولیس کی فنڈنگ کو دوسرے محکموں کے سپرد کرنے کی ضرورت ہے۔

نیو یارک کے میئر نے بھی شہر کو مزید انصاف پسند بنانے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے ایک سیکشن کا بجٹ اب نوجوانوں اور سوشل ورک کو فراہم کیا جائیگا۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کی تادیبی کارروائیو ں سے متعلق فائلوں میں زیادہ شفافیت برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحی اقدامات بس ایک آغاز ہے اور جلد ہی مزید تبدیلیوں کا اعلان کیا جائیگا۔