fbpx

امریکا سے مذاکرات پر خامنہ ای اور روحانی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے

Hassan Rouhani - Ayatollah Khamenei

Hassan Rouhani – Ayatollah Khamenei

ایران (اصل میڈیا ڈیسک) ایران کی اعلیٰ قیادت کے درمیان امریکا سے مذاکرات کی حمایت اور مخالفت کے حوالے سے اختلافات بدستور موجود ہیں۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ بات چیت کے امکانات موجود ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد سخت گیرسپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب اخبار’کیھان’ نے صدر روحانی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جمعرات کو “کیہان” کے چیف ایڈیٹر اور ایرانی رہ نما کے نمائندے حسین شریعتمداری نے اپنے ادارتی مضمون میں کہا ہے کہ “مذاکرات اور مزاحمت کے بارے میں صدر روحانی کے بیانات متضاد اور رہبر انقلاب کی ہدایات کے منافی ہیں۔”

خامنہ ای نے تہران میں سابق امریکی سفارتخانے پرقبضے کی 40 ویں برسی کے موقع پر ایک تقریر میں کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ بات چیت کرنے سے ہمارے مسائل حل ہوجاتے ہیں وہ 100 فی صد غلطی پر ہیں۔ امریکیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا کیونکہ وہ یقینی طور پر کوئی مراعات نہیں لائیں گے۔ .

قبل ازیں منگل کے روز صدر حسن روحانی نے ایک تقریب سے خطاب میں کہ “مزاحمت صرف نعروں سے نہیں ، بلکہ سائنس ، علم ، کوشش ، کام اور گفت و شنید کے ساتھ ہے بھی ہوتی ہٓے۔ مزاحمت مذاکرات کے منافی نہیں ہے بلکہ اس سے مذاکرات کی راہ ہموار ہوتی ہے”۔

سپریم لیڈر کے مقرب حسین شریعت مداری نے اپنے اداریے میں ایرانی صدر کے تبصرے کا مذاق اڑایا۔

وہ لکھتے ہیں کہ کیا صدر واقعی میں بات چیت کے امریکا کے ارادے کو نہیں جانتے ہیں؟۔ پیشگی شرائط پر مذاکرات کا نتیجہ دوسری طرف سے آنے والی ڈکٹیشن کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے’۔

شریعت مداری نے کہا کہ روحانی کو اپنے بیان کو درست کرنا چاہیے کہ “مزاحمت مذاکرات کی راہ ہموار کرتی ہے” دوسرے الفاظ میں کہ “مزاحمت ہتھیار ڈالنے سے روکتی ہے”۔

جمعرات کو سپریم لیڈر کے پرنسپل سیکرٹری محمد محمدی کالبایکانی نے حسن روحانی کے بیان پر تبصرہ کیا کہ “امریکیوں کے مطالبات لامحدود ہیں۔ امریکا کا ایران سے مطالبہ جوہری پروگرام تک محدود نہیں۔ یہاں تک کہ اگر حکومت امریکا کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ جاتی ہے تو بھی امریکی کسی بھی بات پر قائل نہیں ہوں گے”۔ .

امریکی سفارت خانے پر قبضے کی برسی کے موقع پر جب سپریم لیڈر امریکا کے خلاف برس رہے تھے تو قم شہر میں مذہبی شدت پسندوں نے ان کی حمایت اور صدر حسن روحانی کے خلاف ایک ریلی نکالی۔ اس ریلی شریک افراد نے صدر حسن روحانی کو’کذاب’ کہا اور انہیں سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کے انجام سے دوچار کرنے کی دھمکی دی۔