fbpx

آذربائیجان میں آرمینیا کا بیلسٹک میزائل سے حملہ، 13 شہری ہلاک، 50 سے زیادہ زخمی

 Armenia Bissile Attack

Armenia Bissile Attack

آذربائیجان (اصل میڈیا ڈیسک) آذربائیجان کے دوسرے بڑے شہر گنجہ میں بیلسٹک میزائل کے حملے میں 13 شہری ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

آذربائیجان نے آرمینیا پر اس میزائل حملے کا الزام عاید کیا ہے جبکہ آرمینیا کی وزارت دفاع نے ایسے کسی حملے کی تردید کی ہے۔ناگورنو قراباغ کے علاحدگی پسند حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گنجہ شہر میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن انھوں نے واضح الفاظ میں اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

آذر بائیجان کے حکام کا کہنا ہے کہ سوویت ساختہ سکڈ میزائل کے حملے میں گنجہ شہر میں کم سے کم 20 رہائشی عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں یا انھیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ سابق سوویت یونین نے 1960ء کے عشرے میں سکڈ میزائل تیار کیے تھے اور یہ آج تک سابق سوویت ریاستوں کے پاس چلے آرہے ہیں۔ان میں بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد ہوتا ہے لیکن یہ اپنے ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔

آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف نے قوم سے نشری خطاب میں اس میزائل حملے کی مذمت کی ہے اور اس کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔انھوں نے آرمینیا کی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ اس کو اس حملےکی ذمے داری قبول کرنا ہوگی۔

انھوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ ’’آذربائیجان اس حملے کا جواب دے گا مگر یہ صرف اور صرف میدان جنگ میں دیا جائے گا۔‘‘

آذر بائیجان اور آرمینیا دونوں کے حکام ایک دوسرے کے شہری علاقوں کو حملوں میں نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہیں لیکن 27 ستمبر سے متنازع علاقے ناگورنوقراباغ پر کنٹرول کے لیے جاری لڑائی میں اب متحارب فورسز شہری اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

ناگورنو قراباغ کے علاقائی دارالحکومت اسٹیپنکرٹ پر رات بھر شدید گولہ باری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں تین شہری زخمی ہوگئے ہیں۔

الہام علیوف نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ آذربائیجان کی فورسز نے قصبے فزولی اور آس پاس واقع سات دیہات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور انھیں تزویراتی برتری حاصل ہوگئی ہے۔

فزولی ناگورنو قراباغ سے باہر سات آذربائیجانی علاقوں میں سے ایک ہے۔ان پر آرمینیا کی فوج نے 1990ء کے عشرے کے اوائل میں قبضہ کر لیا تھا۔

دریں اثناء آذربائیجان کے حکام کا کہنا ہے کہ اب تک لڑائی میں 60 شہری ہلاک اور 270 زخمی ہوچکے ہیں لیکن انھوں نے اپنی فوج کے جانی نقصان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔

دوسری جانب ناگورنوقراباغ کے علاحدگی پسند حکام کا کہنا ہے کہ آذری فوج سے گذشتہ تین ہفتے سے جاری لڑائی میں ان کے 600 سے زیادہ فوجی اور 30 شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

گذشتہ ہفتے کے روز متحارب فریقوں نے ماسکو میں روس کی ثالثی میں ناگورنو قراباغ میں جاری لڑائی روکنے پر اتفاق کیا تھا مگر اس کے باوجود اس متنازع علاقے میں متحارب فورسز کے درمیان بدستور لڑائی جاری ہے اور وہ ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر گولہ باری کررہے ہیں۔

آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان 1991ء میں سابق سوویت یونین کے انہدام کے بعد سے ناگورنو قراباغ پر کنٹرول کے لیے تنازع چل رہا ہے۔1990ء کے عشرے کے اوائل میں ناگورنو قراباغ نے آذر بائیجان کے خلاف جنگ کے بعد اپنی آزادی کا اعلان کردیا تھا۔اس لڑائی میں 30 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ تین سال کے بعد 1994ء میں آرمینیا اور آذربائیجان میں جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا تھا مگر اس کے باوجود اپریل 2016ء میں دوبارہ قراباغ میں لڑائی چھڑ گئی تھی۔اس کے بعد اب دوبارہ خونیں لڑائی ہورہی ہے اور اس میں فریقین کے سیکڑوں شہری مارے گئے ہیں۔