بائیڈن کی ترجیحات، امریکی پالیسی میں تبدیلی کی تیاریاں

Joe Biden

Joe Biden

واشنگٹن (اصل میڈیا ڈیسک) نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کی حکومت طاقت کے زور پر یکطرفہ فیصلے کرنے کی بجائے عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دے گی۔

نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ حکومت سنبھالنے کے پہلے ایک سو روز کے اندر صدر ٹرمپ کے یکطرفہ احکامات واپس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما کے مطابق صدر ٹرمپ کی طرف سے عالمی سمجھوتوں اور اداروں سے علیحدگی کا رجحان امریکا کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا، جس کا وہ جلد از جلد ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔

اس ضمن میں جو بائیڈن اور ان کی نو منتخب نائب صدر نے ایک نئی ویب سائٹ لانچ کی ہے، جس کے ذریعے انہوں نے اپنی اولین داخلی و عالمی ترجیحات واضح کرنا شروع کر دی ہیں۔ ان میں کورونا وائرس سے نمٹنا، معیشت کی بحالی، ماحولیاتی تحفظ اور امریکا میں نسل پرستی سے نمٹنا شامل ہو گا۔

جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے اوباما دور کے اس معاہدے سے امریکا کو نکالنا ایک غلطی تھی، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ اس معاہدے کا دوبارہ حصہ بنے گی۔

تاہم انہوں نے واضح کر رکھا ہے کہ ایران پر سے پابندیاں اٹھانے پر صرف تب ہی غور کیا جائے گا، جب ایران یہ ثابت کرے گا کہ وہ معاہدے کی شرائط پر پوری طرح عمل کر رہا ہے۔

نو منتخب امریکی صدر کے موقف پر سعودی عرب میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ اس سے قبل جو بائیڈن سعودی صحافی جمال خاشقجی کی قتل پر سعودی حکام پر تنقید کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت میں آ کر یمن کی لڑائی میں سعودی کردار کا جائزہ لیں گے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ امریکا میں انتخابی نتائج واضح ہونے کے بعد سعودی عرب کے سوا اکثر خلیجی عرب ممالک نے ہفتے کو ہی نو منتخب صدر کو مبارکباد دے دی تھی۔ بعد میں سعودی عرب نے مبارکباد کا اپنا پیغام اتوار کو بھجوایا۔

عالمی سطح پر آلودگی پھیلانے والے ملکوں میں امریکا چین کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے اس سال امریکا کو تحفظ ماحول سے متعلق پیرس معاہدے سے علیحدہ کر لیا تھا۔ تاہم نو منتخب صدر کا کہنا ہے کہ امریکا کو واپس اس معاہدے میں شامل کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔

جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ صدر بننے کے بعد امریکا فوری طور پر ڈبلیو ایچ او میں دوبارہ متحرک ہو گا اور عالمی سطح پر کورونا وائرس سے نمٹنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے عالمی وبا کے دوران عالمی ادارہ صحت پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اس پر چین کے زیر اثر ہونے کا الزام لگایا تھا اور اس کی فنڈنگ روکنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکا اس اہم عالمی ادارے کے بجٹ کے کوئی پندرہ فیصد اخراجات اٹھاتا آیا ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت کی کوشش ہو گی کہ اس ادارے کو مسترد کرنے کی بجائے اسے مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے۔

نومنتخب صدر کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت دیگر اہم عالمی اداروں سے متعلق بھی ٹرمپ حکومت کے رویے کا ازسر نو جائزہ لے گی۔ ان میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی، یونیسکو، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور نیٹو شامل ہیں۔