بلومنگ رائٹرز آرگنائزیشن پاکستان ایک خالص ادبی تنظیم

Writer

Writer

تحریر: مہر اشتیاق احمد

ملک ِ پاکستان میں اس وقت بے شمار صحافتی اور رائٹرز کی تنظیمیں قائم ہیں جو کہ اپنے اپنے طریقہ کار کے تحت کام کر رہے ہیں۔ یہ تنظیمیں کچھ عرصہ تک باقاعدہ طور پر رفاہ عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ پھر بعد میں یہی تنظیمیں مختلف سیاسی پارٹیوں کا حصہ بن جاتی ہیں۔ پھر اس کے بعد جو ہوتا ہے وہ الحفیظ و الامان ۔ بلومنگ رائٹرز آرگنائزیشن پاکستان ایک خالص ادبی تنظیم ہے۔ یہ تنظیم کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کا ونگ نہیں ہے ۔ لہذا اس میں ہر مسلک جن میں اہلحدیث ، اہل سنت، دیوبند اور ساتھ ہوسکتے ہیں ۔ لہذا ہر ساتھی دوسرے کے مسلک کا احترام کرے گا اور کسی پر اپنا مسلک مسلط نہیں کرے گا۔ بلومنگ رائٹرز آرگنائزیشن ایک خالص ادبی ، اسلام کی سربلندی اور دفاع پاکستان کے مشن پر گامزن تنظیم ہے۔ جس کی سرپرستی سابق آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل کے صاحبزادے محمد عبداللہ حمید گل چیئرمین تحریک جوانان پاکستان کر رہے ہیں ۔ بلومنگ رائٹر آرگنائزیشن پاکستان کی تنظیم کے مرکزی چیئرمین عزت مآب جناب نسیم الحق زاہدی ہیں۔ جو کہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ۔انہوں نے جنوری 1998 سے باقاعدہ لکھنے کا آغاز ماہنامہ پھول میگزین سے کیا تھا ۔ الحمدللہ 24 سال مکمل ہو چکے ہیں ۔ اب تک مختلف موضوعات پر 5 ہزار سے زائد کالمز ، مضامین ، فیچرز قومی اخبارات و میگزینز میں شائع ہو چکے ہیں ۔ اسکے علاوہ الحمداللہ انکی چار عدد کتب بھی منظرِ عام پر آچکی ہیں۔

نسیم الحق زاہدی کو درجنوں کے حساب سے گولڈ میڈلز ، شیلڈز ، سرٹیفکیٹس اور سرکاری تعریفی لیٹرز شامل ہونے کے ساتھ ساتھ 2 مرتبہ تمغہ پاکستان بھی مل چکے ہے ۔ اس کے علاوہ نسیم الحق زاہدی چیئرمین بلومنگ رائٹرز آرگنائزیشن پاکستان کے متعلق کچھ بتاتا چلوں کہ یہ سیرت النبیۖ نگار ، کالم نگار ، مصنف ، تجزیہ نگار اور حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھنے والے شخص ہیں ۔ انکے ساتھ ساتھ دو عدد اور نام ایسے ہیں کہ جن کا ذکر کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں ۔ عزت مآب جناب طارق مسعود وٹو مرکزی صدر اور عزت مآب جناب انعام الحسن کاشمیری مرکزی سینئر وائس چیئرمین، جو کہ نسیم الحق زاہدی کے ہم رکاب ہیں۔

بلومنگ رائٹرز آرگنائزیشن پاکستان یہ تنظیم کسی بھی قسم کے تعصبات ، فرقہ واریت ، حسد ، بغض ، لالچ ، خوشامد ، سیگمنٹ ، فوٹو سیشن اور جمع خرچ سے پاک ایک خالص ادبی تنظیم ہے ۔ جسکا مقصد اسلام کی سربلندی اور دفاع پاکستان کے لیے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ چھوٹے، بڑے لکھاریوں کے امتیازات کا خاتمہ کرنا ہے ۔ بلومنگ رائٹرز آرگنائزیشن پاکستان کے پلیٹ فارم سے کئی سو لوگوں میں علمی ، ادبی ، ایوارڈز ، گولڈ میڈلز ، شیلڈز اور سرٹیفکیٹس سے لوگوں کو نوازہ جا چکا ہے اور ان شا اللہ تعالی یہ سلسلہ تادم مرگ تک جاری و ساری رہے گا ۔ بلومنگ رائٹرز آرگنائزیشن پاکستان اپنی اغراض و مقاصد میں لکھتے ہیں کہ ہمارا کسی تنظیم سے کوئی مقابلہ نہیں ہے ۔ ہمارا ایجنڈا واطیعو اللہ اور واطیعو الرسول اور صرف پاکستان ہے ۔ دفاع اسلام ، دفاع پاکستان اور مثبت صحافت کے علمبردار تنظیم ہے۔

ہمارا عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھنا اور اس کا دفاع کرنا ہے ۔ اس کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنا اور دفاع صحابہ ہے ۔ قلم کے ذریعے اسلام ، پاکستان اور افواج پاکستان کا دفاع کرنا ہے ۔ پڑھے لکھے افراد کے اندر جذبہ اسلام اور جذبہ حب الوطنی کو فروغ دینا ہے ۔ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے شعائر اسلام کا تحفظ کرنا ہے ۔ پڑھے لکھے دین اسلام سے بیزار افراد کو دلائل اور حسن اخلاق کے ساتھ ان کی اصلاح کرنا ہے ۔ دنیا بھر میں بسنے والے مظلومیت کے شکار مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز کو بلند کرنا ہے ۔ قلم کی حرمت کو پامالی سے بچانا اور زد صحافت کا خاتمہ کرنا ہے ۔ نوجوانوں کو سوچ دینا ، ذہنی یرغمالی سے آزادی دلانا اور فرسودہ روایات کا خاتمہ کرنا ہے ۔ نئے لکھنے والوں کی اصلاح کرنے کے ساتھ ساتھ تنقید برائے تنقید کا خاتمہ کرنا اور تنقید برائے اصلاح کو فروغ دینا ہے ۔ پڑھے لکھے افراد کوصوفیوں ، خود ساختہ دانشوروں اور نام نہاد مذہبی اسکالرز کے جاہلانہ عقائد سے بھی آزادی دلوانا ہے ۔ اس کے ساتھ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنی زبان اردو کے بھی فروغ کیلئے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

آج ہماری قومی زبان اردو کو لوگ جس انداز میں تروڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں وہ سوشل میڈیا پر آپ لوگوں کی بھی سامنے ہے ۔ دوسروں کی زبان بولنے کی بجائے اپنی زبان اردو جوکے قومی زبان ہے ۔ اس کو فروغ دیا جائے ۔ مجھے ایک بات یاد آگئی کہ وائسرائے ہند ، مولانا ابو الکلام آزاد سے ملنے انکے رہائش گاہ آتا ہے ۔ مولانا آزاد کے ساتھ ترجمان بیٹھا ہوتا ہے ۔ وائسرائے جو بات کرتا ترجمان اسکا ترجمہ کرکے مولانا آزاد کو بتاتا ہے ۔ پھر مولانا آزاد کی ہر بات کا ترجمہ انگریزی میں کرکے وائسرائے کو بتاتا ۔ یوں ہوا کہ ترجمان کچھ ترجمہ درست نا کرسکا تو مولانا آزاد نے اسکی غلطی درست کرکے کہا کہ یوں کہو ۔ ملاقات کے اختتام پر وائسرائے مولانا آزاد سے بولا جب آپ کو انگریزی آتی ہے تو پھر ساتھ ترجمان کیوں بٹھایا؟مولانا ابوالکام آزاد نے فرمایا:” آپ پانچ ہزار میل چل کر اپنی زبان نہیں چھوڑ سکے تو میں گھر بیٹھے ہوئے کیسے اپنی زبان چھوڑ دوں ” ۔ بلومنگ رائٹرز آرگنائزیشن پاکستان جس طرح آہستہ آہستہ اپنا کام کامیابی سے کر رہی ہے ۔ ان کو دیکھ کر دوسری بہت سی تنظیموں کے لوگوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں کہ یہ لوگ کس قدر آگے بڑھ رہے ہیں۔

ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے کہ ہمارا کسی بھی تنظیم سے کوئی مقابلہ نہیں ہے ۔ لیکن پھر بھی حسد ، بغض کے مارے لوگ ہم پر انگلیاں اٹھانا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ گندگی کے ڈھیر پر بیٹھا یا سڑک کے کنارے سویا ہوا کتا گاڑی کے پیچھے کچھ فاصلے تک بھونکتا اور دوڑتا ہے ۔ نہ یہ کتا آپ سے گاڑی چھیننا چاہتا ہے ، نہ ہی گاڑی میں بیٹھنا چاہتا ہے اور نہ ہی اسے گاڑی چلانی ہے ۔ بس خوامخواہ بھونکنا اس کی عادت ہے ۔ ایسے ہی زندگی کے سفر میں جب آپ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں تو اسی عادت کی لوگ بنا کسی مقصد کے آپ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس لئے جب آپ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوں اور لوگ آپ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کریں تو ان سے الجھنے کی بجائے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوں ۔ کیونکہ ہر بھونکنے والے کتے کے پیچھے پتھر لے کر بھاگنا دانشمندی نہیں۔ اپنی توانائیوں ، صلاحیتوں اور کوششوں کو مثبت انداز میں آگے بڑھاتے جائیں ۔ ان شااللہ کامیابی آپکی منتظر رہے گی۔ وتعزمن تشا وتذِل من تشا

Mehr Ishtiaq Ahmed

Mehr Ishtiaq Ahmed

تحریر: مہر اشتیاق احمد ​