fbpx
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں
جاناں جاناں
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
تجھ پر بھی نہ ہو گمان میرا
کب تک درد کے تحفے بانٹو, نذرِ جالب
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے