fbpx
تمہارے بعد اس دل کا کھنڈر اچھا نہیں لگتا
تمام عمر تڑپتے رہیں کسی کے لیے
تجھے بھلا کے جیوں ایسی بددعا بھی نہ دے
نہ خط لکھوں نہ زبانی کلام تجھ سے رہے
مجھے کوئی شام ادھار دو
معلوم نہ تھا ہم کو ستائے گا بہت وہ
میرے خط مجھے واپس کر دو
لو، خدا حافظ تمہیں کہنے کی ساعت آ گئی
لب پہ نہ لائے دل کی کوئی بات اُسے سمجھا دینا
ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری
بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھی
کاش میری کوئی بیٹی ہوتی
بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ
بالآخر یہ حسیں منظر مٹا دینا ہی پڑتا ہے
رات کچھ یارِ طرحدار بہت یاد آئے
اک بار مجھے آواز تو دے
آنے والی تھی خزاں، میدان خالی کر دیا
عجب حالات تھے میرے عجب دن رات تھے میرے
اگر ملنا ضروری ہے
اب آنے والی ہے فصلِ بہار، سوچتے تھے