fbpx
وہ کانچ جیسے بدن کی گرمی
حوصلہ جب بھی اسکا بکھر گیا ہو گا
اپنی تنہائی کے قصے ہیں
محبتیں اور فاصلے
ہے ساتھ سدا رہتی تنہائی گلیوں میں
چپ رہنا عادت ہے
دل لگانا نہ دل لگی کرنا
ریت اور ہاتھ
وفا کو ڈھونڈنے نکلو، تو مجھ کو پائو گے
رات کے رنگ
شہرِدلِ سنسان سے کوئی گزرے تو پتہ ہو
ہوا کے ہاتھ ایک پیغام
ایک دُعا
جب میری آنکھ سے ٹوٹا ہوا تارہ دیکھا
ابھی کچھ دن لگیں لگے
پہلی محبت کے لیے آخری نظم
ہجر راتوں کے زمانے آئے