fbpx
اگرچہ پار کاغذ کی کبھی کشتی نہیں جاتی
موج کا منجدھار سے رشتہ ہے کیا
اتر چکے ہو سمندر میں حوصلہ رکھنا
جو رستہ چن لیا اس کو بدلنا کیوں نہیں آیا
زمیں مدار سے اپنے اگر نکل جائے
جو بھی ممکن تھا وہ زیرِ التوا رکھنا پڑا
رات بھر کوئی نہ دروازہ کھلا
دوستوں کے ہوبہو پیکر کا اندازہ لگا
مرے نصیب کا روشن ستارہ ملنے تک
موت جب آئی تو گھر میں جاگتا کوئی نہ تھا
دور دور تک کوئی جب نظر نہیں آتا
یہ زمیں ہم کو ملی بہتے ہوئے پانی کے ساتھ
جب بھی کسی شجر سے ثمر ٹوٹ کر گرا
ایک بیکار آنسو کی صورت گرے