کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی

کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی

کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی ان سے پھر اپنی کوئی رفاقت نہیں رہی شاید اسے ہماری بھی حاجت نہیں رہی کچھ خواب تھے جو میرے وہ سارے بکھر گئے کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی کہتی تھی…

یہ قوم اب تمہاری وراثت نہیں رہی

یہ قوم اب تمہاری وراثت نہیں رہی

جس قوم کو ترقی کی حاجت نہیں رہی دنیا کو ان کی کوئی ضرورت نہیں رہی کچھ تو زمانے کا اثر ان پر بھی ہوا ہے پہلے سی بچوں میں وہ شرارت نہیں رہی محنت سے جی چرانے لگے لوگ اب یہاں…

الیکشن 2018

الیکشن 2018

الیکشن دیہاڑے عجب نظارے ویکھے چھِترو چھِتری ہُندے ووٹر بیچارے ویکھے بھُل گئی عزت ووٹراں دی تبدیلی دے ایسے آثارے ویکھے پین دی سری کر دے کئی اُتے تھلے ہُندے شمارے ویکھے ووٹ نئیں لبھیا کسے دا پاگلاں وانگ پِھر دے خوارے…

اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے

اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے

دل کے ویرانے سے اکثر یہ ندا آتی ہے پوچھ اس سے کہ مری یاد بتا آتی ہے ساری محفل کو وہ مسحور بنا جاتی ہے اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے کل جو کہتے تھے مری آنکھ کا…

جو بھولنا تھا مجھ کو وہی یاد رہ گیا

جو بھولنا تھا مجھ کو وہی یاد رہ گیا

میں سمجھا اس کو اپنا سو برباد رہ گیا وہ کسی اور کا تھا سو آباد رہ گیا کتنا عجیب شخص تھا جو مل کے ایک بار کر کے مجھے تباہ خود آباد رہ گیا چلا گیا وہ سارے مرے خواب توڑ…

چھپ کے تنہائی میں کچھ اشک بہالے تو بھی

چھپ کے تنہائی میں کچھ اشک بہالے تو بھی

اپنی آنکھوں میں نئے خواب سجا لے تو بھی اب نہ دے مجھ کو محبت کے حوالے تو بھی میں بھی سینے میں لیئے زخم سدا ہنستا رہا آنکھ میں اشک جو آئیں تو چھپا لے تو بھی اس سرِ عام تماشے…

یہ دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نہیں

یہ دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نہیں

یہ داستاں ہے میری کوئی دل کشی نہیں میری ہے آپ بیتی مگر آخری نہیں دنیا کو شوق تھا کے کہانی سنے مری ہم نے جو کی شروع کسی نے سنی نہیں تو بھی اپنے روز بدلے رویے کو دیکھ لے یہ…

ہم اور کانچ کا گلدان

ہم اور کانچ کا گلدان

کمرے کی میز پر رکھا ہوا کانچ کا اک خوبصورت گلدان ادھ کھلی کھڑکی سے آنے والے ہواکے تیز جھونکے کی زد میں آکر گلدان کا میز پر سے گرنا ایک چھنناکے کی آواز کا ابھرنا کانچ کا فرش پر بکھرنا ان…

اٹھو تاریک راتوں سے کوئی سورج نکالیں ہم

اٹھو تاریک راتوں سے کوئی سورج نکالیں ہم

چلو کچھ خاب پھر سے اپنی آنکھوں میں سجا لیں ہم تمہارا خوبصورت چہرہ آنکھوں میں بسا لیں ہم کئی وعدے ابھی باقی ہیں جو ہم کو نبھانے ہیں ابھی بھی وقت ہے ساری وفاؤں کو نبھا لیں ہم بہت رنجور ہیں…

محبت میں خسارے کا سدا امکان رہتا ہے

محبت میں خسارے کا سدا امکان رہتا ہے

محبت میں خسارے کا سدا امکان رہتا ہے رہِ غم کے اشارے کا سدا امکان رہتا ہے محبت میں خسارے کا سدا امکان رہتا ہے غمِ دوراں سے بوجھل ہو گئیں سانسیں مگر اب بھی ہمیں تیرے سہارے کا سدا امکان رہتا…

آنکھیں اُٹھا کہ قافلہ سالار ہم ہوئے

آنکھیں اُٹھا کہ قافلہ سالار ہم ہوئے

آنکھیں اُٹھا کہ قافلہ سالار ہم ہوئے اقرارِ خاص و عام میں انکار ہم ہوئے ظلم و جبر سے برسرِ پیکار ہم ہوئے ہم کو بتا اے شہر کے فرماں روا ذرا کس وقت تیرے حاشیہ بردار ہم ہوئے ہونٹوں پہ انقلاب…

گناہ گارِ وفا ہیں سزا بحال رہے

گناہ گارِ وفا ہیں سزا بحال رہے

گناہ گارِ وفا ہیں سزا بحال رہے سفر کٹھن ہے بڑا حوصلہ بحال رہے یہ وحشتوں کا حسیں مشغلہ بحال رہے زمانے تجھ کو ہے جو ناگوار صدیوں سے میرے سخن کا وہی ذائقہ بحال رہے بغاوتوں کے یہ موسم دہائی دیتے…

پکی ہے فصل سروں کی کٹائے دیتے ہیں

پکی ہے فصل سروں کی کٹائے دیتے ہیں

پکی ہے فصل سروں کی کٹائے دیتے ہیں بہ فیضِ عشق و جنوں لب ہِلائے دیتے ہیں لو آج جھگڑے مٹا کر عروج و پستی کے ہم اس زمیں کو فلک سے ملائے دیتے ہیں اُگیں گے موسمِ صد رنگ راکھ سے…

اپنی تصویر ڈھونڈتا ہوں میں

اپنی تصویر ڈھونڈتا ہوں میں

اپنی تصویر ڈھونڈتا ہوں میں سو رہا ہوں نہ جاگتا ہوں میں کِس اذیت کو جھیلتا ہوں میں ساری دنیا سے بے خبر ہوکر تیرے بارے میں سوچتا ہوں میں جانے کس جرمِ بے گناہی میں اب بھی سولی پہ جھولتا ہوں…

ماں

ماں

میں ہوں اِک موج تُو کنارا ہے تیری قُربت ہی اب سہارا ہے یہ تیرے میرے بیچ کارشتہ ماں مجھے جان سے بھی پیارا ہے زندگی کی اداس راہوں میں میں نے اکثر تجھے پکارا ہے تیرے ہونٹوں کا لمس ماتھے پہ…

یادیں خوبصورت ہوتی ہیں

یادیں خوبصورت ہوتی ہیں

آئو کے دل کو کچھ بہلائیں ان وحشتوں سے کہیں دور لے جائیں چلو پرانے محلے کی سیر کر آئیں سلام کریں سب کو اور دیکھ دیکھ مسکرائیں جہاں گلی کے کونے پر یونہی گھنٹوں گزر جائیں نا کوئی موبائل کی گھنٹی…

برس رہی ہیں نشیمن پہ بجلیاں لوگو

برس رہی ہیں نشیمن پہ بجلیاں لوگو

اگرچہ چاہتے ہو تم بلندیاں لوگو ذرا حساب کرو اپنی پستیاں لوگو تمہاری بستی میں امن و اماں کی قلت ہو تم اپنے پاس رکھو اپنی بستیاں لوگو ذرا سا سوچ کو بدلو تو کامراں ہوں گے وگر نہ محنتیں ہوجائیں رائگاں…

وقت کیساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں

وقت کیساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں

وقت کیساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں شائد اس کو یاد جو آنا بھول گیا ہوں یہ بات بھی اسکو بتانا بھول گیا ہوں اب میں روٹھنا منانا بھول گیا ہوں زمانے بیت گئے ہوں خود سے ملاقات کئے بھیج کر کہیں…

ماں باپ کا  کچا مکاں مسمار بہت ہے

ماں باپ کا کچا مکاں مسمار بہت ہے

ماں باپ کا کچا مکاں مسمار بہت ہے اس مٹی کی خوشبو سے مجھے پیار بہت ہے رہتے تھے بہن بھائی جو ماں باپ کے گھر میں اب کہتے ہیں ملنے کو تو تہوار بہت ہے ماں باپ بھی بٹ جاتے ہیں…

تو   زر دار بہت ہے

تو زر دار بہت ہے

اس شہر میں ہر شخص ہی بیزار بہت ہے یہ مان لیا میں نے تو زر دار بہت ہے کیوں تم نے دکھایا تھا مجھے پیار کا رستہ یہ بھی بتا دیتے کہ یہ پر خار بہت ہے ہر راستہ ہو سہل…

میں پوچھ تو لوں پاؤں کی زنجیر سے پہلے

میں پوچھ تو لوں پاؤں کی زنجیر سے پہلے

روتا ہے قلم اب مرا تحریر سے پہلے لکھتا ہوں میں اب شام کو کشمیر سے پہلے کب تلک رکھے گی مجھے مجبور بنا کر میں پوچھ تو لوں پاؤں کی زنجیر سے پہلے کرتا نہ تمنا کبھی اس پیار کی ہرگز…

آٹے کی چیڑیا

آٹے کی چیڑیا

پھر زندگی میں بہت خسارہ ہوا اور سارے کا سارا ہمارا ہوا ماں منوں مٹی تلے سو گئی اور آٹے کی چڑیا بھی کھو گئی انور جمال فاروقی…

چھوڑ جائیں گے

چھوڑ جائیں گے

تیرے اس شہر کے موسم سہانے چھوڑ جائیں گے نجانے کس گھڑی گزرے زمانے چھوڑ جائیں گے طلب ہوگی نہ پھر تجھ کو کسی حرف و حکایت کی تیرے ہونٹوں پہ ہم ایسے فسانے چھوڑ جائیں گے عَلم لے کر بغاوت کے…

تمھاری آنکھوں میں کانٹے ہونگے

تمھاری آنکھوں میں کانٹے ہونگے

ایک راستہ سمجھ کر، میں یہ کیا کر رہا تھا دن رات مشقت کر رہا تھا بڑھ بڑھ کر کانٹے چن رہا تھا مگر یہ کیا کہ یہاں توکانٹوں سے اٹی انگنت راہیں ہیں اور ان پر لگی انگنت آنکھیں ہیں انگنت…