صدقہ جاریہ‎

Sadqa

Sadqa

تحریر : شاہ بانو میر

غور کریں
مسجد سے ایک انوکھا اعلان ہوا اور سننے والا ہر بندہ دنگ رہ گیا. اعلان یوں تھا کہ مسجد کے قریب ہی ایک ریڑھی پہ مختلف ریسٹورنٹ کے گاہکوں کا بچا ہوا سالن دستیاب ہے. وہ غریب اور نادار لوگ جو سالن پکانے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ اپنے برتن لے آئیں اور سالن فی سبیل اللہ لے جائیں.

مارے تجسس کے میں بھی مسجد کی طرف چل دیا کہ دیکھوں آخر ماجر کیا ہے. میں جیسے ہی وہاں پہنچا تو مردوزن کا ایک ہجوم برتن لے کر پہنچا ہوا تھا.کوئی سالن لے کے گھر کو جا رہا تھا تو کوئی حاصل کرنے کی تگ و دو میں تھا. ریڑھی پہ تین پتیلے پڑے ہوۓ تھے.ایک پتیلے میں دال دوسرے میں قورمہ اور تیسرے میں مختلف اقسام کی مکس سبزیوں کا سالن رکھا ہوا تھا.

تھوڑی ہی دیر میں اس کے تینوں پتیلے خالی ہو گئے . سالن لے جانے والوں کے چہروں پر خوشی دیدنی تھی اور وہ سب دعائیں دیتے ہوۓ جا رہے تھے. میں سالن بانٹنے والے کے پاس کھڑا ہو گیا اور اس سے استفسار کیا کہ یہ آئیڈیا اس نے کہاں سے لیا تو اس نے کہا کہ ”بس جی ایک دن ہوٹل میں کھانا کھایا تو آدھے سے زیادہ سالن بچ گیا. میں نے سوچا کہ انہوں نے ویسے ہی ضائع کر دینا ہے.

چنانچہ ایک ویٹر کو بلا کر سالن شاپر میں ڈلوایا اور کسی ضرورتمند کے گھر دے آیا. اس کام سے دل کو بہت خوشگوار راحت حاصل ہوئی اور یقین کریں سالوں سے نیند کی گولی کھا کر سونے کا عادی تھا لیکن حیرت انگیز طور پر اس رات بغیر گولی کھاۓ بہت پرسکون ہو کر سویا. بس پھر اس سلسلے کو بڑھانے کا تہیہ کر لیا. پانچ بڑے ریسٹورنٹ مالکان سے رابطہ کیا تو بہت مثبت جواب ملا اور پھر ہر ریسٹورنٹ پر تین تین برتن رکھوا دیے.

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میری وجہ سے بہت سے غریب گھروں میں بہترین کھانا پہنچتا ہے“وہ بتاتے ہوۓ ایسے خوش ہو رہا تھا جیسے اس کی لاکھوں کی کمیٹی نکل آئی ہو. لیکن میں سوچ رہا تھا کہ واقعی اس کی لاکھوں کی کمیٹی تو نکل چکی تھی اور وہ کمیٹی تھی بے پناہ اجر وثواب کی. اللہ کے ہاں مقرب ہونے کیلئے ضروری نہیں کہ آپ کروڑوں روپے خرچ کریں یا سالوں سال مراقبے کریں. بعض اوقات ایک چھوٹی سی نیکی بھی ان سب نیکیوں کو مات کر دیتی ہے جن کیلئے ہم عمر بھر ریاضت میں گزار دیتے ہیں. آپ بھی اللہ کی مخلوق کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر کوئی چھوٹی سی نیکی کر کے دیکھیں شاید یہی نیکی آپ کا جنت کا پلڑہ بھاری کر دے۔

منقول

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر