fbpx

چین کے شہر چینگڈو میں امریکی قونصل خانہ بند ہو گیا

China Chengdu - US Consulate

China Chengdu – US Consulate

چینگڈو (اصل میڈیا ڈیسک) چین نے یہ اقدام ٹرمپ حکومت کی طرف سے پچھلے ہفتے امریکی شہر ہیوسٹن میں چینی قونصل خانہ بند کرنے کے جواب میں اٹھایا۔

اتوار 26 جولائی کو چینگڈو میں امریکی اسٹاف کو عمارت سے نکلتے دیکھا گیا، جس کے بعد قونصل خانے پر نصب امریکی پرچم بھی اتار لیا گیا۔ حکام نے امریکی سفارتکاروں کو قونصل خانہ خالی کرنے کے لیے تین دن کی مہلت دی تھی، جس کے اختتام پر چینی حکام قونصل خانے میں داخلے ہوئے اور عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس قونصل خانے نے 35 سال تک امریکا اور تبت سمیت مغربی چین کے درمیان تعلقات کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ”ہمیں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اس فیصلے پر افسوس ہے اور ہماری کوشش ہوگی کہ ہم چین میں اپنے دیگر مراکز کے ذریعے اس اہم خطے کے لوگوں سے رابطے میں رہیں۔‘‘

امریکی حکومت نے ہیوسٹن ٹیکساس میں چین کا قونصل خانہ یہ کہہ کر بند کرایا تھا کہ وہ جاسوسی کا مرکز بن چکا ہے۔ ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چین پر الزام لگایا کہ اس قونصل خانے کے ذریعے بیجنگ، امریکی ٹیکنالوجی اور تجارتی راز چوری کرنے میں ملوث تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ قونصلیٹ بند کرنے کا مقصد امریکیوں کی نجی معلومات اور انٹلیکچوئل پراپرٹی کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔

اپنے جوابی اقدام کا جواز دیتے ہوئے چین نے بھی واشنگٹن پر اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ چینگڈو قونصلیٹ میں متعین امریکی اہلکار ”چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر کے اس کے سکیورٹی اور مفادات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔‘‘

اس سلسلے میں چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے ایک عوامی سروے شروع کیا تھا کہ چین میں کس امریکی قونصل خانے کو بند کیا جائے۔ اخبار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سیاست کرنے کا الزام لگا تے ہوئے لکھا تھا، ”نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات نے واشنگٹن کو پاگل کردیا ہے۔‘‘

اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے دھمکی دی تھی کہ چین کے مزید قونصل خانے بھی بند کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ہمیشہ ممکن ہے۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی لندن کے اپنے حالیہ دورے میں برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور وزیر خارجہ ڈومنک راب سے تبادلہ خیال کے بعد چین کے خلاف ایک عالمی اتحاد قائم کرنے کی اپیل کی تھی۔

امریکا کا چین پر الزام ہے وہ کورونا وبا میں دنیا کی مدد کرنے کے بجائے اپنے پڑوسیوں پر ‘دھونس‘ جما رہا ہے اور اس بحران کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کررہا ہے۔ چین ٹرمپ حکومت کی الزام تراشی رد کرتا ہے۔