fbpx

چین دوست ہے، حریف ہے، یا دونوں؟

America and China

America and China

چین (اصل میڈیا ڈیسک) مغربی دنیا کو مقابلے کا سامنا ہے، خاص طور پر چین کے ساتھ۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں اور تخفیف اسلحہ جیسے شعبے تعاون کے متقاضی ہیں۔ میونخ سکیورٹی رپورٹ میں ایک صحت مندانہ توازن تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے۔

میونخ سکیورٹی رپورٹ کا اجراء صحیح اور مناسب موقع پر کیا گیا ہے۔ مناسب اس لیے کہ امریکی صدر جو بائیدن یورپی دورہ شروع کرنے والے ہیں۔ امریکی صدر جی سیون سمٹ اور نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

رواں برس جاری کی جانے والی اس رپورٹ کا عنوان ‘ اہم ریاستوں کے درمیان پایا جانے والا تعاون اور مسابقت‘ تجویز کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ ایک سو ساٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں کئی اہم اور پیچیدہ موضوعات کو سمویا گیا ہے۔ ان میں مغربی جمہوریتوں کو درپیش چین کے حوالے سے چیلنج کو اہم قرار دیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک ہی وقت پر مغربی جمہوریتیں اور چین ایک دوسرے کی ضرورت بھی ہیں یعنی تجارتی شراکت دار بھی اور دوسری جانب عالمی مسائل میں ایک دوسرے کے کے مدِ مقابل بھی۔ یہ ایک دوسرے کے حریف بھی ہیں اور اسٹریٹیجیک پارٹنر بھی ہیں۔ انہیں کووڈ انیس کی وبا میں یقینی طور پر ایک دوسرے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

کمیونسٹ ملک چین میں حکمران پارٹی ریاست کی نگرانی میں سرمایہ دارانہ نظام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اِس کمیونسٹ پارٹی نے وہ نہیں کیا جس کا ارتکاب سابقہ سوویت یونین سے سرزد ہوا تھا۔ مطلق العنانیت کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی نے ملکی عوام میں خوشحالی پیدا کی ہے۔ اسی باعث امریکی صدر جو بائیڈن اپنی تقاریر میں بارہا کہہ چکے ہیں کہ جمہوری حکومتیں بھی اپنے لوگوں کو وہ کچھ دے سکتی ہیں، جس سے دنیا میں تبدیلی یقینی ہے۔

دوسری جانب چین کی حکومت نے یہ ہدف مقرر کیا ہے کہ وہ سن 2049 تک مکمل طور پر ترقی یافتہ، جدید اور سوشلسٹ طاقت کا منبع بن جائے گا۔ اس میں ٹیکنالوجی، معیشت اور ثقافت کے اہداف بھی شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق چین کے اس ہدف کا بنیادی مقصد اقوام عالم میں طاقت کا مرکز و محور بننا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے منصبِ صدارت بیس جنوری سن 2021 کو سنبھالا تھا۔ وہ اپنے پہلے آٹھ روزہ یورپی دورے کے دوران انگلینڈ میں منعقد ہونے والی جی سیون سمٹ اور پھر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے برسلز منعقدہ سربراہ اجلاس میں شریک ہوں گے۔

جی سیون دنیا کے امیر ترین ملکوں کا گروپ ہے، ان ممالک کے رہنماؤں کا سالانہ اجلاس گیارہ اور بارہ جون کو برطانوی ساحلی قصبے کارن وال میں ہو گا۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا سربراہ اجلاس پیر چودہ جون کو ہو گا۔

امریکی صدر سولہ جون کو اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ملاقات کریں گے۔ اس دورے کے پس منظر میں میونخ سکیورٹی رپورٹ کے اجراء کو بہت اہمیت حاصل دی گئی ہے۔

میونخ سکیورٹی رپورٹ میں لبرل جمہوریتوں کے نمائندوں نے واضح کیا کہ لبرل مسابقت پیدا کرنے میں فیصلہ کن موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ سکیورٹی کانفرنس کے شعبے پالیسی اور تجزیے کے سربراہ ٹوبیاس بُونڈے ان افراد میں شامل ہیں، جنہوں نے رپورٹ مرتب کی ہے۔ وہ بھی لبرل کمپیٹیٹرز کے مقابل ایک واضح اور مضبوط موقف اپنانے کے حامی ہیں۔

بُونڈے نے امریکی صدر کی تقریر کا اقتباس بھی استعمال کیا ہے۔ اس میں جو بائیڈن کہتے ہیں کہ ٹرانس اٹلانٹک رہنماؤں میں یہ اتفاق پایا جاتا ہے کہ دنیا کی بڑی جمہوریتوں کے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنا اشد ضروری ہو گیا ہے۔ بائیڈن کے مطابق اس تعاون اور اتفاق سے ہی مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ ممکن ہے۔

ٹوبیاس بُونڈے کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی اداروں میں بھی مغرب کے نظریاتی تسلط کے پھیلاؤ کو مشکلات کا سامنا ہے جیسا کہ عرب دنیا اور چین میں انسانی حقوق کی صورت حال وغیرہ۔ اس تناظر میں بیجنگ حکومت کا اپنی پالیسیوں کے سہارے پر سنکیانگ یا ہانگ کانگ کی صورت حال پر درجنوں ممالک کی حمایت حاصل کرنا ممکن ہے۔