چین: سونے کی کان میں دو ہفتوں سے پھنسے 11 مزدور بچا لیے گئے

Rescue

Rescue

چین (اصل میڈیا ڈیسک) چین میں ایک سونے کی کان میں پھنسے مزدوروں میں سے گیارہ کو حادثے کے دو ہفتے بعد زندہ بچا لیا گیا۔ اس کان میں دھماکے کے وقت بائیس مزدور کام کر رہے تھے۔

دو ہفتے قبل دس جنوری کے روز چینی صوبے شانڈونگ میں واقع سونے کی ایک کان میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر ایک دھماکا ہوا تھا اور بائیس کان کن چھ سو میٹر گہری سرنگ میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ اس حادثے کے ایک ہفتے بعد امدادی کارکنوں کو یہ معلوم ہوا تھا کہ کم از کم گیارہ متاثرہ افراد زیر زمین زندہ ہیں۔

حکام نے کان کنوں کے زندہ ہونے کی تصدیق ہوتے ہی بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں شروع کر دی تھیں۔ تاہم 600 میٹر گہرائی میں پھنسے ان مزدوروں کو بچانے کے عمل میں کئی رکاوٹیں حائل تھیں۔

جمعرات کے روز ریسکیو اہلکاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ کان میں بہت زیادہ ملبہ ہونے کے باعث مزدوروں تک پہنچنے میں کم از کم دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ تاہم ان خدشات کے برعکس یہ کام تین روز میں مکمل کر لیا گیا۔

آج اتوار 24 جنوری کے روز چین کے سرکاری ٹی وی پر نشر کردہ رپورٹوں میں گیارہ کارکنوں کو ریسکیو کیے جانے کے مناظر نشر کیے گئے۔ دو ہفتوں سے زیر زمین تاریک منہدم کان میں پھنسے ان افراد کو ریسکیو کیا گیا تو ان کے چہروں کو ڈھانپ دیا گیا تھا تاکہ سطح زمین کی روشنی انہیں متاثر نہ کرے۔

چین کے سرکاری اخبار کے مطابق سات کان کن ریسکیو کیے جانے کے بعد خود چل کر باہر نکلے جب کہ چار مزدوروں کو ریسکیو کارکن اٹھا کر لائے۔ تاہم حکام نے ان مزدوروں کی صحت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

چینی صوبے شانڈونگ میں واقع سونے کی اس زیر تعمیر کان میں حادثے کے وقت 22 مزدور موجود تھے۔ حادثے کے چند روز بعد ریسکیو اہلکار ان میں سے گیارہ کان کنوں ہی سے رابطہ کر پائے تھے، جنہیں آج ریسکیو کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں زیر زمین پھنسے مزدوروں نے ایک کان کن کے مرنے کی تصدیق بھی کی تھی۔ اس مزدور کے سر پر چوٹیں آئی تھیں، جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔

تاہم دیگر دس مزدوروں کے بارے میں اب تک کوئی معلومات موجود نہیں ہیں۔ ریسکیو اہلکار ان مزدوروں کی نشاندہی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حکام نے مذکورہ کان کے مینیجر کو حراست میں لے لیا ہے، جس نے حکام کو حادثے کی اطلاع دینے میں تاخیر سے کام لیا تھا۔

چین میں کوئلے، سونے اور دیگر دھاتوں کے لیے کھودی جانے والی کانوں میں پیش آنے والے حادثوں میں ہر برس اوسطا پانچ ہزار افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران بیجنگ حکومت نے ایسے حادثوں میں کمی لانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن کے باعث ماضی کے مقابلے میں صورت حال کافی بہتر ہوئی ہے۔