چینی سرمایہ کاری سے بلوچستان میں غصہ کیوں؟

Chinese Investment

Chinese Investment

اسلام آباد (اصل میڈیا ڈیسک) بلوچستان میں ہونے والے حملوں کو خاطر میں لائے بغیر اسلام آباد حکومت نے ایک چینی کمپنی کے ساتھ 350 ملین ڈالر مالیت کے ایک معاہدے کی توسیع کر دی ہے۔ علیحدگی پسندوں کا دعویٰ ہے کہ بیجنگ ان کے وسائل کا استحصال کر رہا ہے۔

پاکستانی حکومت نے گزشتہ ہفتے ہی ایک چینی کمپنی کو مسلح حملوں سے متاثرہ مغربی صوبہ بلوچستان میں تانبے اور سونے کی کان کنی کے منصوبے پر اپنا کام بڑھانے کی اجازت فراہم کی ہے۔

سینڈک کاپر گولڈ منصوبہ پاکستان اور چین کے تعاون سے جاری ہے اور یہ کان چاغی ڈسٹرکٹ کے علاقے سینڈک کے قریب واقع ہے۔ یہ کان ابتدائی طور پر میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا لمیٹڈ کو 10 سال کی مدت کے لیے لیز پر دی گئی تھی۔ مقامی طور پر یہ کمپنی سینڈک میٹلز لمیٹڈ (ایس ایم ایل) کے نام سے رجسٹرڈ ہے۔ اس کے ساتھ دو مرتبہ سن دو ہزار بارہ اور دو ہزار سترہ میں اس معاہدے کی تجدید کی گئی۔ اب یہ کان مزید پندرہ برسوں کے لیے چین کی کمپنی کے حوالے کر دی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس طرح مزید 45 ملین کی سرمایہ کاری ملک میں آئے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کان میں تقریبا 412 ملین ٹن تانبے اور سونے کے ذخائر ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق سن دو ہزار دو سے سن دو ہزار سترہ تک پاکستان سینڈک منصوبے کے ذریعے دو بلین ڈالر کی کمائی کر چکا ہے۔

حالیہ چند برسوں کے دوران اسلام آباد حکومت نے اس صوبے میں کئی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کا سب سے کم آبادی والا یہ صوبہ سب سے زیادہ غریب ہے۔ باغی گروپوں نے کئی عشرے پہلے اسی وجہ سے بغاوت کا آغاز کیا تھا۔ ان گروپوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مرکزی حکومت اور سب سے بڑا صوبہ پنجاب ان کا استحصال جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسلام آباد حکومت نے سن دو ہزار پانچ میں باغی گروپوں کی عسکری کارروائیوں کا جواب دیتے ہوئے فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا تھا۔

سن دو ہزار پندرہ میں چین نے پاکستان میں 46 بلین ڈالر کے معاشی منصوبے کا اعلان کیا تھا اور بلوچستان اس منصوبے کا لازمی حصہ تھا۔ سی پیک منصوبے کے تحت چین نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی اور جنوبی ایشیا میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانا چاہتا ہے تاکہ امریکا اور بھارت کے اثرورسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ سی پیک منصوبے کا مقصد بلوچستان کی گوادر بندرگاہ کو چین کے مشرقی علاقے سنکیانگ سے جوڑنا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں نئی سڑکوں، ریل اور پائپ لائن کی تعمیر بھی شامل ہے تاکہ چین اور مشرق وسطیٰ کے مابین رابطوں کو بہتر بنایا جا سکے۔

دوسری جانب بلوچ علیحدگی پسند اور کئی سیاسی گروپ چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کے خلاف ہیں۔

گزشتہ ماہ کالعدم بلوچ تنظیم بی ایل اے نے پاکستانی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کیا تھا۔ یہ تنظیم اس سے پہلے بھی پاکستانی اور چینی مفادات پر مسلح حملے کرتی آئی ہے۔ دفاعی تجزیہ کار امجد شعیب کا کہنا ہے، ”بی ایل اے کو بھارت فنڈ کر رہا ہے۔ بلوچ عسکریت پسند کو بھارت کی تربیت یافتہ ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے۔‘‘

سینڈک منصوبے کے حوالے سے سینیٹر اکرم بلوچ کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ” چین کو راضی کرنے کے لیے حکومت بلوچ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر بیجنگ کے ساتھ معاہدے کر رہی ہے۔ ان معدنیات کے اصل مالک اس صوبے کے عوام ہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ”چینی سرمایہ کاری کے باوجود بلوچستان میں بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی ہے، صحت کی مناسب سہولیات نہیں ہیں، تعلیم اور رہائش، یہاں تک کہ پینے کا صاف پانی نہیں ہے۔‘‘

بلوچستان کے سابق وزیر اعلی عبدالمالک کا کہنا ہے کہ اس صوبے کو ان منصوبوں سے رائلٹی کا واجب الادا حصہ نہیں مل رہا۔ تاہم پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی اکانومک کونسل کے رکن اشفاق حسن کا کہنا ہے، ”پاکستان مخالف عناصر چین پر غلط الزامات عائد کر رہے ہیں۔ ہم چین کو اس وجہ سے کنٹریکٹ دے رہے ہیں کیوں کہ وہ ڈیلیور کر رہے ہیں۔ چینی سرمایہ کاری پاکستانی معیشت کے لیے ضروری ہے اور بلوچستان کو بھی اس سے فائدہ پہنچے گا۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ چینی سرمایہ کاری سے ہزاروں ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں اور کئی ہزار افراد ان منصوبوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔