fbpx

کورونا وائرس: قومی کرکٹرز بھی آگاہی کیلیے میدان میں آ گئے

National Cricketers

National Cricketers

لاہور (اصل میڈیا ڈیسک) کورونا وائرس کی وجہ سے ہر جگہ خوف و ہراس چھا گیا ہے اور اسی کے پیش نظر متعدد معروف شخصیات کی جانب سے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے قوم کو آگاہی پہنچانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

سوشل میڈیاپر جہاں شوبز شخصیات کی جانب سے قوم کو وائرس سے متعلق آگاہی دی جا رہی ہے وہیں قومی کھلاڑیوں کی جانب سے بھی قوم کو کورونا وائرس سے متعلق پیغام دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہور سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے قوم کو ویڈیو کے ذریعے پیغام دیا۔

شعیب اختر نے اپنے پیغام میں کہا کہ ‘ابھی بھی وقت ہے، سنبھل جائیں، گھر بیٹھ جائیں، اس سے بہتر خدمت نہیں ہو سکتی اس وقت ملک کی، تاریخ کی صحیح سمت میں گنے جائیں گے’۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان اور تجربہ کار آل راؤنڈر محمد حفیظ نے قوم کو کورونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ویڈیو پیغام دیا۔

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے قوم کو کورونا وائرس سے بچنے کےلیے احتیاطی تدابیر اپنانے کے ساتھ ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے بھی اہم پیغام دیا۔

شاہد آفریدی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہم پر ذرا بھی مشکل وقت آتا ہے تو صاحب استطاعت طبقہ مارکیٹوں سے چیزیں خرید کر اپنے گھروں میں جمع کر لیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب غریب آدمی مارکیٹ جاتا ہے تو اسے ایک سینیٹائزر اور ماسک تک نہیں مل رہا کیونکہ ہم بڑے لوگوں نے یہ ساری چیزیں گھروں میں جمع کر لی ہیں۔

شاہد آفریدی نے عوام سے درخواست کی کہ غریب لوگوں کی مدد کریں، ایسے موقع پر ایک ملک بن کر دکھانا ہے۔

قومی کھلاڑی حسن علی نے قوم کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اپنے اور اپنے گھر والوں کا خیال کریں، بار بار ہاتھ دھوئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم بطور ایک قوم مل کر اس وائرس کو شکست دے سکتے ہیں، آئیں ہم سب مل کر اپنے ملک کو کورونا سے پاک کریں، بعد ازاں حسن علی نے پاکستان زندہ بادکا نعرہ بھی لگایا۔

ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 803 ہوگئی جب کہ مہلک وائرس سے بچاؤ کے لیے سندھ بھر میں 22 مارچ کی رات 12 بجے سے لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔

آج ملک بھر سے کورونا وائرس کے اب تک 7 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے اسلام آباد میں 4 اور پنجاب میں 3 کیسز کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ بلوچستان میں دو کیسز کے ساتھ وائرس سے پہلی ہلاکت کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔