fbpx

کرفیو کے بعد اپنی جانیں قربان کریں گے

Eid ul Adha in Kashmir

Eid ul Adha in Kashmir

کشمیر (جیوڈیسک) بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عید الاضحیٰ کے موقع پر حکام نے مظاہروں کے خدشات کے باعث لوگوں کی نقل و حرکت مزید محدود کر دی۔

وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے ٹھیک ایک ہفتہ قبل جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تب سے جموں و کشمیر میں رابطوں کے ذرائع مسلسل منقطع ہیں۔

بھارتی حکام نے عید کے روز بڑے اجتماعوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور عید کے روز بھی سڑکیں سنسان رہیں۔ سری نگر کی سب سے بڑی جامع مسجد کو عید کے روز بند رکھا گیا اور انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے گھروں کے قریب واقع چھوٹی مساجد میں عید کی نماز ادا کریں۔

بھارتی حکومت نے اتوار کے روز کرفیو میں نرمی کا اعلان کیا گیا تھا تاہم بھارت مخالف مظاہروں کے خدشات کے پیش نظر بعد میں دوبارہ سختی کر دی گئی۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے سری نگر کے ایک شہری شاہنواز شاہ کا کہنا تھا، ”مجھے یقین نہیں آ رہا کہ عید کے دن بھی ہمیں گھروں میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ یہ تہوار کو خوشی منانے کا دن ہے۔‘‘

بھارتی زیر انتظام کشمیر کی پولیس نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا کہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں عید کی نمازیں ‘پر امن طور پر ادا کی گئیں اور اب تک کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاعات نہیں ہیں‘۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس بیان کی تصدیق نہیں ہو پائی۔

اسی طرح بھارتی وزارت خارجہ نے بھی عید کی نماز ادا کرتے ہوئے کشمیری شہریوں کی تصاویر شیئر کیں۔ تاہم وزارت داخلہ کے ترجمان یہ نہیں بتا پائے کہ یہ تصاویر جموں و کشمیر کے کس علاقے میں لی گئی تھیں۔

سری نگر کے ایک حکومتی عہدیدار شاہد چوہدری نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں بتایا کہ اتوار کی شب انہوں نے نماز عید کے لیے انتظامات سے متعلق کشمیر کے مذہبی رہنماؤں سے ملاقاتی کی تھیں۔

کشمیر پولیس کے سربراہ دل باغ سنگھ نے بھی دعویٰ کیا کہ کشمیری شہریوں نے پر امن طور پر عید کی نماز ادا کی۔ سنگھ کا کہنا تھا، ”شہریوں کو قریبی مساجد میں نماز ادا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔‘‘ انہوں نے صورت حال کے پر امن رہنے پر اصرار کرتے ہوئے کہا، ”سری نگر شہر میں پیش ایک آدھ واقعہ ریاست بھر کی نمائندی نہیں کرتا۔‘‘

کشمیری مسلمانوں کے لیے عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی کی روایت اہم ہے۔ اتوار کے روز کرفیو میں کچھ نرمی کی گئی تو سری نگر کے ایک شہری بشیر احمد نے قربانی کے لیے جانور خریدنے کا فیصلہ کیا۔

بشیر احمد نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کئی ناکوں پر موجود فوجیوں سے اجازت لے کر متعدد رکاوٹیں عبور کر کے بیس کلو میٹر دو گئے لیکن اس دوران وہ کسی ایک بھی اے ٹی ایم مشین سے جانور خریدنے کے لیے پیسے نہ نکلوا پائے۔ احمد کے مطابق، ”میں نے سڑک پر آنے کا رسک بھی لیا لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس مرتبہ میں قربانی کے لیے جانور حاصل کر پاؤں گا۔‘‘

شمشیر خان اور اس کے بھائی خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ ہر برس عید کے موقع پر جانور فروخت کر کے اپنا سال بھر کا خرچہ نکالتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی وہ ڈھائی سو کلومیٹر کا پیدل سفر کر کے گزشتہ ہفتے سری نگر پہنچے تھے۔ تاہم جب وہ ڈیڑھ سو بھیڑ بکریوں کے ساتھ سری نگر پہنچے تو اسی روز وادی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

شمشیر خان نے اے ایف پی کو بتایا، ”بھیڑ بکریوں کی فروخت کے علاوہ ہمارے لیے آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔ اس برس ہم کوئی جانور فروخت نہیں کر پائے۔ یہاں صورت حال اس قدر خراب ہے کہ کوئی بھی اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل پا رہا اور لوگوں کے پاس پیسے بھی نہیں ہیں۔‘‘

بتیس سالہ شجاع رسول نے نئی دہلی حکومت کے سخت اقدامات کو ‘مذہب میں مداخلت‘ قرار دیا۔ جانوروں کی تجارت کرنے والے ایک اور کشمیری تاجر نے اپنی شناخت مخفی رکھتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا، ”مودی حکومت نے صورت حال ناقابل یقین حد تک سخت کر دی ہے۔ جب کرفیو ختم ہو گا تو ہم خود کو قربان کریں گے۔ جیسے عید پر ہم جانوروں کی قربانی کرتے ہیں اسی طرح کرفیو کے بعد ہم اپنی قوم کے لیے اپنی جانیں قربان کریں گے۔‘‘

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان اقدامات سے کشمیر میں معیشت ترقی کرے گی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو گا۔ لیکن فی الوقت کشمیر کی صورت حال ہندو قدامت پسند بھارتی رہنما کے ان دعووں کے برخلاف دکھائی دے رہی ہے۔