ڈونلڈ ٹرمپ اور کورونا وائرس: کورونا سے متاثرہ امریکی صدر والٹر ریڈ ہسپتال سے وائٹ ہاؤس منتقل، انتخابی مہم میں جلد واپسی کا اعیادہ

Donald Trump

Donald Trump

وائٹ ہاؤس (اصل میڈیا ڈیسک) کورونا وائرس سے متاثرہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو والٹر ریڈ ہسپتال سے وائٹ ہاؤس منتقل کر دیا گیا ہے اور انھوں نے انتخابی مہم میں جلد واپسی کا اعیادہ بھی کیا ہے۔

پیر کے روز ان کی جانب سے ایک ٹویٹ کے ذریعے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ اب بہت بہتر محسوس کر رہے ہیں اور انھیں آج ہی وائٹ ہاؤس منتقل کر دیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک اور ٹویٹ بھی سامنے آئی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان کی ’انتخابی مہم میں جلد واپسی ہو گی۔‘

صدر ٹرمپ کو والٹر ریڈ ہسپتال سے مرین ون ہیلی کاپٹر کے ذریعے وائٹ ہاؤس منتقل کیا گیا۔ ہسپتال سے نکلتے وقت انھوں نے نیلے رنگ کا پینٹ کوٹ کے علاوہ ٹائی اور ماسک بھی پہن رکھا تھا۔ جب ٹرمپ والٹر ریڈ ہسپتال سے باہر آ رہے تھے تو وہ مکا دکھا رہے تھے۔

اگر ٹرمپ بیماری کے باعث صدارتی ذمہ داریاں پوری کرنے کے قابل نہ رہیں تو؟

انھوں نے کہا ‘سب کا بہت شکریہ’۔ تاہم انھوں نے میڈیا کے سوالات کا جواب نہیں دیا جن میں ایک صحافی کا یہ سوال بھی شامل تھا کہ ‘صدر صاحب، کیا آپ ایک سپر سپریڈر ہیں؟’

صدر ٹرمپ ہسپتال سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے مختصر دورانیے میں وائٹ ہاؤس پہنچ گئے جہاں انھوں نے ٹرومین بالکنی میں کھڑے ہو کر تصاویر بنوائیں اور حفاظتی ماسک اتار دیا۔

خیال رہے کہ اب تک امریکہ میں 74 لاکھ سے زیادہ افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اس کے نتیجے میں دو لاکھ 10 ہزار افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ کی بیماری کی نوعیت کے حوالے سے سوالات اب بھی موجود ہیں کیونکہ سنیچر اور اتوار کے روز متضاد بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ جبکہ وائٹ ہاؤس میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے تاحال کچھ بھی واضح نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ کو ایک ایسے موقع پر ڈسچارج کیا گیا ہے جب وائٹ ہاؤس سٹاف کے مزید افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اب تک ٹرمپ کے قریبی کم از کم 12 افراد کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آ چکا ہے جبکہ متعدد جونیئر سٹاف اراکین بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

ایسے متعدد افراد جن کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے انھوں نے 26 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس میں شرکت کی تھی جسے ممکنہ طور پر ‘سپر سپریڈر تقریب’ کا نام دیا جا رہا ہے۔

اب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس حوالے سے وضاحت سامنے نہیں آئی کہ صدر ٹرمپ میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد سے اب تک کتنے سٹاف اراکین میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

کورونا وائرس سے متاثرہ تازہ ترین شخصیت کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے وزیر پادری گریگ لاری ہیں۔ جو اس تقریب کا حصہ تھے جس میں صدر ٹرمپ نے امریکی سپریم کورٹ کے لیے امیدوار کا اعلان کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں ہونے والی اس تقریب سے قبل لاری امریکی نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہونے والی ایک دعائیہ تقریب میں بھی شریک ہوئے تھے

ٹرمپ کے معالجین کا کیا کہنا تھا؟

ان کے اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد ان کے معالجین کی جانب سے ایک پریس بریفنگ کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ’ٹرمپ ابھی پوری طرح صحتیاب نہیں ہوئے لیکن ان کی وائٹ ہاؤس منتقلی محفوظ ہے۔‘

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں جمعے کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انھیں والٹر ریڈ ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

سرکاری معالج ڈاکٹر شان کونلی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر ٹرمپ کی صحت بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور اب ہم انھیں ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران انھوں نے بخار یا سانس لینے میں تکلیف جیسی کوئی شکایت نہیں کی اور ان کے آکسیجن لیول بھی معمول پر ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جو سہولیات صدر ٹرمپ کو والٹر ریڈ میں دی جا رہی ہیں وہ وائٹ ہاؤس میں بھی دی جا سکتی ہیں۔ تاہم وہ ٹرمپ کی صحتیابی کے حوالے سے ’محتاط طور پر پُرامید‘ ہیں۔

ادھر صدر ٹرمپ کا اپنی ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ’کووڈ 19 سے ڈریں نہیں، اس اپنی زندگی پر سوار نہ ہونے دیں، میری انتظامیہ میں اس بیماری کے بارے میں معلومات بھی اکھٹی کی ہیں اور اس سے نمٹنے کے لیے مؤثر دوائیں بھی بنا لی ہیں۔‘

طبی ماہرین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے حامیوں سے ملنے کے لیے ہسپتال سے باہر آنے کے اقدام پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

امریکی صدر نے ماسک تو پہن رکھا تھا لیکن اس بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ ان کی وجہ سے گاڑی میں بیٹھے خفیہ ایجنسی کے اہلکار بھی کورونا وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

تاہم وائٹ ہاؤس کے ترجمان جڈ ڈیری نے کہا ہے کہ اتوار کے روز صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ‘میڈیکل ٹیم کی جانب سے محفوظ قرار دیا گیا تھا۔’

دوسری جانب صدر ٹرمپ کی بیماری سے متعلق متضاد بیانات پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ میں جمعے کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد صدر ٹرمپ کو والٹر ریڈ ملٹری میڈیکل ہپستال میں داخل کیا گیا تھا جبکہ میلانیا ٹرمپ وائٹ ہاؤس ہی میں ہی قرنطینہ ہیں۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس سے اب تک تقریباً 70 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر جبکہ دو لاکھ سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد ان کی انتخابی مہم میں خلل آیا ہے۔ واضح رہے کہ 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن ٹرمپ کے مدمقابل ہیں۔

امریکی صدر کے اردگرد موجود رہنے والے افراد میں میلانیا ٹرمپ سمیت ریپبلکن پارٹی کے سینٹرز میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

والٹر ریڈ ملٹری ہسپتال جہاں امریکی صدر زیر علاج ہیں، کے ڈاکٹر جیمز فلپس کے مطابق صدر ٹرمپ کی گاڑی میں موجود تمام اہلکاروں کو اب 14 دن قرنطینہ میں رہنا پڑے گا۔

امریکہ کی نیشنل براڈکاسٹنگ کمپنی (این بی سی) کے مطابق میلانیا ٹرمپ نے، جو کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد وائٹ ہاؤس میں ہی قرنطینہ ہیں، تمام خدشات کے باوجود اپنے شوہر کو ہسپتال جا کر ملنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس وقت امریکہ سمیت دنیا بھر میں لوگوں کی دلچسپی اب نومبر میں ہونے والے امریکی انتخابات کی بجائے امریکی صدر کی صحت اور علاج کے حوالے سے تازہ ترین معلومات حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی متعدد صارفین دھرا دھر اپنے خیالات اور شکوک و شبہات کا ذکر رہے ہیں۔

امریکی صحافی ہوورڈ فائن مین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ ویڈیو پیغام کے بارے میں ٹوئٹر پر لکھا: ٹرمپ کے ساتھ کئی برسوں کی ملاقاتوں اور سنہ 2016 کی انتخابی مہم کے بعد اور ٹرمپ کی ویڈیو کو دوبارہ غور سے دیکھنے کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ٹرمپ خوفزدہ ہیں، بہت زیادہ خوفزدہ ہیں۔ ان کو دیکھنا بھی تقریباً مشکل ہے۔’

امریکہ میں معاشی امور کے ماہر رابرٹ ریچ ٹوئٹر پر لکھا: ‘جب عالمی ادارہ صحت نے امریکی عوام کوعلاج کے لیے قواعد تجویز کیے تو ٹرمپ نے انھیں نظر انداز کیا لیکن جب ان اپنی صحت پر بات آئی تو وہ ان قواعد پر عمل کر رہے ہیں۔’

ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما حکیم جیفریز نے اتوار کے روز ٹرمپ کو ہستال کے باہر دیکھے جانے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے مختصر انداز میں لکھا:’ 205000 امریکی مر چکے ہیں۔ ہمیں تصاویر نہیں قیادت چاہیے۔’

سی این این کی نامہ نگار ایم جے لی نے بھی ٹرمپ کے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ‘ٹرمپ والٹر ریڈ کے باہر موجود اپنے حمایتیوں کے لیے گاڑی میں بیٹھے باہر آئے۔ اس فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کورونا وائرس کا شکار ٹرمپ کے ساتھ اس گاڑی میں اہلکار بھی سوار ہیں۔’

امریکی گلوکارہ بابرہ سٹریسینڈ نے لکھا: ‘بدھ کو اپنی انتخابی ریلی میں جاتے ہوئے ممکنہ طور پر ٹرمپ کو علم تھا کہ انھیں کورونا وائرس ہے۔ وہ بہت سی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتے تھے۔ پھر وہ نیوجرسی میں بغیر ماسک پہنے فنڈ جمع کرنے بھی گئے۔ یہ بہت غیر ذمہ دارانہ ہے۔’

امریکی ٹی وی میزبان جوئے ریڈ ڈونلڈ ٹرمپ پر انتہائی برہم دکھائی دیں اور لکھا: ‘وائٹ ہاؤس کے خانساموں اور سٹاف، خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں اور کورونا وائرس کا شکار ستر لاکھ سے زیادہ امریکی شہریوں اور 207000 افراد کے خاندان، جو ٹرمپ کے دور حکومت میں مارے گئے اور ماشی تباہی کا شکار لاکھوں افراد کے لیے دعائیں۔’

صدر ٹرمپ کے ارد گرد اور کون کورونا سے متاثر ہوا ہے؟

ڈاکٹر کونلی نے اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا کہ صدر ٹرمپ کب اور کہاں سے کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

تاہم گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کے پرہجوم روز گارڈن والے جلسے میں جہاں انھوں نے ایمی کونی بیرٹ کی بطور سپریم کورٹ جج نامزدگی کی تھی، اس ضمن میں کافی زیر بحث ہے۔

صدر ٹرمپ اور خاتون اول کے علاوہ چھ اور افراد جنھوں نے اس تقریب میں شرکت کی تھی، ان میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

سنیچر کو انتخابی مہم کی مشیر اور سابق نیو جرسی گورنر کرس کرسٹی میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کے قریب دیگر افراد میں ان کی قریبی معاون ہوپ ہکس، انتخابی مہم کے منیجر بل سٹیپین اور سابق وائٹ ہاوس کونسلر کیلین کونوے شامل ہیں۔

جبکہ ریپبلکن پارٹی کے رہنما مچ میکونل کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے اجلاس کی کارروائی کو 19 اکتوبر تک مؤخر کیا جاتا ہے تاہم جج بیرٹ کی بطور سپریم کورٹ جج نامزدگی کا جائزہ لینے والی سینیٹ کی کمیٹی برائے عدلیہ کام کرتی رہے گی۔

بعدازاں سنیچر کو سینیٹر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ انھوں نے صدر ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور انھیں ’صدر ٹرمپ کی صحت بہتر لگی اور وہ اچھا محسوس کر رہے ہیں۔‘

صدر ٹرمپ اب بھی سرکاری ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جبکہ نائب صدر مائیک پینس جنھیں امریکی آئین کے تحت صدر بہت زیادہ بیماری اور ذمہ داریاں نہ نبھانے کے قابل رہنے کے باعث اپنے اختیارات سونپ سکتے ہیں، کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔

صدر ٹرمپ کو جمعے کی شام ہسپتال منتقل ہونے سے قبل عوامی سطح پر دیکھا گیا تھا جب انھوں نے ہیلی کاپٹر پر سوار ہونے سے قبل رپورٹروں کی جانب ہاتھ ہلایا تھا تاہم وہ کچھ بولے نہیں تھے۔