احسان اللہ احسان ایک حساس آپریشن کے دوران فرار ہوا: ذرائع

Ehsanullah Ehsan

Ehsanullah Ehsan

اسلام آباد (اصل میڈیا ڈیسک) ذرائع نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا سابق ترجمان احسان اللہ احسان ایک حساس آپریشن کے دوران فرار ہوا۔

گزشتہ روز کالعدم ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے آڈیو بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ سرکاری تحویل سے فرار ہو گیا ہے۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان ایک حساس آپریشن کے دوران فرار ہوا، اسے اپنے جرائم کی سزا ملنا تھی۔

ذرائع کے مطابق احسان اللہ احسان اور دیگر دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان نے2017 میں رضاکارانہ طور پر خود کو انٹیلی جنس اداروں کے حوالے کیا، احسان اللہ احسان نے سرنڈر کرنے سے قبل ہی حساس معلومات فراہم کرنا شروع کر دی تھیں۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش کے بعد احسان اللہ احسان نے 26 اپریل 2017 کو اعترافی بیان دیا جس میں اس نے اپنے ہینڈلرز اور سہولت کاروں کو بےنقاب کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ تفتیش کے دوران احسان اللہ احسان نے انتہائی حساس اور اہم معلومات فراہم کیں، اس کی معلومات پر سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک توڑے اور بہت سے دہشت گردوں کوپکڑا بھی گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشنز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اہم معلومات کا حصول ضروری تھا، حاصل کردہ معلومات کے نتیجے میں کچھ آپریشنز ابھی بھی جاری ہیں۔

خیال رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک مبینہ آڈیو پیغام کے ذریعے دعویٰ کیا ہے کہ وہ سرکاری تحویل سے فرار ہوگیا ہے۔

کالعدم ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی جانب سے سرکاری تحویل سے فرار ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر دیے گئے آڈیو پیغام کے معاملے پر حکومتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ احسان اللہ احسان نے ایک معاہدے کے تحت خود کو رضا کارانہ طور پر سرنڈر کیا تھا۔