اٹھارویں ترمیم کو نہ چھیڑا جائے: سیاسی جماعتوں کا انتباہ

Senat

Senat

اسلام آباد (اصل میڈیا ڈیسک) پاکستان ميں قوم پرست جماعتوں اور قومی سیاسی تنظیموں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کو نہ چھیڑا جائے کيونکہ ایسا کرنے کی صورت ميں ملکی وفاق خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

پاکستانی ٹيلی وژن چینل آے آر وائی کی نشريات کے دوران گزشتہ روز یہ خبر نشر کی گئی کہ حکومت این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم میں تراميم کے بارے ميں سوچ رہی ہے۔ اس خبر پر مقامی سطح کی پارٹیاں شدید ناراض ہیں جب کہ قومی سطح کی پارٹیوں نے بھی ایسی کسی منصوبہ بندی کا حصہ بننے سے انکار کر ديا ہے۔ البتہ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان پيپلز پارٹی اور مسلم ليگ نون ‘مصلحت پسندی‘ کی وجہ سے ایسی تبدیلیوں کے ليے شايد حامی بھر لیں گی۔ لیکن دونوں ہی جماعتوں کی طرف سے ايسے تاثرات کو مسترد کيا گيا ہے۔

پی پی پی کے رہنما اور سابق ایم این اے چوہدری منظور نے اس پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا، ”سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ہم ایسی کسی ترمیم کی حمایت کریں۔ اٹھارویں ترمیم سے وفاق مضبوط ہوا ہے اور ہم وفاق کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کی بھرپور مزاحمت کریں گے۔ حکومت نے ہم سے رابطہ نہیں کیا اور اگر وہ رابطہ بھی کرے گی، تو ہم اس تبدیلی پر بات بھی نہیں کریں گے۔‘‘

دوسری جانب مسلم لیگ نون کے رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ شہباز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کو اس حوالے سے کوئی یقین دہانی کرائی ہے۔ ”ہمارے خیال میں اٹھارویں ترمیم کو چھیڑنا پاگل پن ہے۔ ہم اس میں تبدیلی کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ ہم سے حکومت نے اس سلسلے ميں کوئی رابطہ نہیں کیا۔‘‘

اس معاملے پر قومی سطح کی پارٹيوں کے نسبتاً معتدل رد عمل کے برعکس قوم پرست جماعتیں، معاملے پر بہت زیادہ برہم ہیں۔ پی ٹی ایم کے رہنما ڈاکٹر سعد عالم محسود کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم نے پہلی بار صوبوں کے ليے بہتری کا باعث بنی۔ ”چھپن، باسٹھ اور انیس سو تہتر کے آئینوں نے ہمیشہ پنجاب کو فائدہ پہنچایا۔ تین صوبے ستاسی فیصد ریونیو جمع کرتے رہے لیکن اس ترمیم سے پہلے پنجاب اسی فیصد ریونیو خرچ کرتا رہا۔ اس ترمیم کے بعد این ایف سی میں صوبوں کو بہتر حصہ ملا اور اسی وجہ سے مراد علی شاہ کی کارکردگی بھی بہتر ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت این ایف سی ایوارڈ کا اعلان نہیں کر رہی۔ ”اٹھارویں ترمیم کے مطابق اس کا ہر سال اعلان ہونا ضروری ہے۔ اب یہ تبدیلی کی بات کر رہے ہیں، جس کا چھوٹے صوبوں میں سخت رد عمل سامنے آئے سکتا ہے اور وہ علیحدگی کی باتیں کریں گے۔‘‘

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما عثمان کاکڑ کا خیال ہے کہ یہ کوشش پی ٹی آئی کی طرف سے ممکنہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پوری کرنے کے ليے ہو رہی ہے۔ ”لیکن چاہے فوج اور ایجنسیوں کے کہنے پر ایسا کیا جائے یا کسی اور کے کہنے پر، اس کا اتنا خطرناک رد عمل سامنے آئے گا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ وفاق ایسی کسی بھی کوشش سے خطرے میں پڑ جائے گا۔‘‘ ان کا مزيد کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ شروع سے ہی اس ترمیم کے خلاف ہے۔ ”جب یہ ترمیم پاس ہوئی تو انہوں نے اسے شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات سے بھی زیادہ سخت قرار دیا لیکن در حقیقت اس ترمیم نے صوبوں کے احساس محرومی کو کم کرنے میں مدد کی۔ سینیٹ کو مزید خود مختار بنا کر صوبوں کی شکایات کو کم کیا جا سکتا ہے لیکن اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔‘‘

معروف بلوچ سیاست دان حاصل خان بزنجو کا خیال ہے کہ کچھ عناصر لوگوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ ترمیم ملک کے ليے بہتر نہیں ہے۔ ”اس کو تبدیل کرنے کے ليے دو تہائی اکثریت پی ٹی آئی کو چاہیے، جو اس کے پاس نہیں ہے۔ تو پھر یہ شوشہ کیوں چھوڑا ہے؟ یہ اس ليے کہ گراؤنڈ تیار کیا جائے اور عوام کو قائل کیا جائے۔ لیکن ایسی کسی بھی کوشش کی بھرپور مزمت ہوگی۔ پی پی پی اور ن لیگ سمیت کوئی بھی اس کی حمایت نہیں کرے گا۔‘‘

دوسری جانب جئے سندھ محاذ کے چیئرمین عبدالخالق جونیجو کا کہنا ہے کہ پی پی پی اور ن لیگ سے کسی خیر کی توقع نہ کی جائے۔ ”دونوں پارٹیاں ماضی میں اسٹیبلشنٹ سے سودے بازیاں کرتی رہی ہیں اور اب بھی مجھے حیرانی نہیں ہوگی اگر یہ دونوں جماعتیں اٹھارویں ترمیم پر ان سے سازباز نہ کر لیں۔ اگر ایسا ہوا تو وفاق کی یہ کچی ڈوری بھی ٹوٹ جائے گی۔‘‘