fbpx

ال سلواڈور کی سابق خاتونِ اول کو دس سال کی قید

 Ana Ligia de Saca

Ana Ligia de Saca

ال سلواڈور (اصل میڈیا ڈیسک) ال سلواڈور کی سابق خاتونِ اول کو دس سال کی قیدوسطی امریکی ملک ال سلواڈور کی عدالت نے سابق خاتونِ اول کو غیر قانونی طریقے سے اثاثے جمع کرنے کا مجرم قرار دے دیا ہے۔ اس جرم پر انہیں دس برس کی سزائے قید سنائی گئی ہے۔

انا لیخیا ڈی ساکا یکم جون سن 2004 سے لے کر یکم جون سن 2009 تک ال سلواڈور کی خاتونِ اول تھیں۔ اسی دور میں ان کے شوہر الیاس انتونیو ساکا گونزالیز ملک کے صدر تھے۔ ساٹھ سالہ سابق خاتونِ اول کو حکومت میں رہتے ہوئے اپنے مال و دولت میں غیر قانونی اور ناجائز طریقوں سے اضافہ کرنے کا الزام استغاثہ نے عدالت میں ثابت کر دیا۔ عدالت نے اس پر انہیں سزائے قید سنانے کے علاوہ ساڑھے سترہ ملین ڈالر (ساڑھے چودہ ملین یورو) کا جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم سنایا۔

انا لیخیا ڈی ساکا کے شوہر اور سابق صدر الیاس انتونیو ساکا گونزالیز عرف ٹونی ساکا کو اپنی مدتِ صدارت کے دوران بے بہا کرپشن کا مرتکب قرار دے کر ملکی عدالت سن 2018 میں انہیں دس برس قید کی سزا سنا چکی ہے۔

سابق صدر ٹونی ساکا کو عدالت نے دو سو ساٹھ ملین ڈالر (دو سو چودہ ملین یورو) واپس کرنے کا حکم بھی دیا۔ یہ رقم حکومتی خزانے میں جمع کرانے کا بھی عدالت نے حکم دیا۔ سابق خاتونِ اول کے بھائی آسکر ایڈگارڈو کو بھی کرپشن الزامات کے تحت دس برس کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

الیاس انتونیو ساکا گونزالیز وسطی امریکی ملک ال سلواڈور کے پہلے صدر ہیں، جن کو کرپشن الزامات کے تحت مجرم قرار دیا گیا اور سزا سنائی گئی۔ استغاثہ نے ان پر یہ جرم ثابت کیا کہ انہوں نے تین سو ملین کی خطیر رقم ملکی خزانہ سے حاصل کر کے اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے علاوہ اپنے دوستوں رشتہ داروں کو بھی نوازا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ سابق صدر اپنی مدتِ صدارت کے دوران 65 لاکھ ڈالر کمانے کی تفصیل فراہم کرنے سے قاصر رہے۔ اس فیصلے کے تحت وہ مستقبل میں کوئی بھی عوامی عہدہ سنبھالنے سے بھی محروم کر دیے گئے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ ال سلواڈور کے دو سابق صدور فرانسسکو فلوریس اور ماریسیو فیونز پر بھی کرپشن الزامات لگائے گئے ہیں۔

بحر الکاہل پر واقع اس ملک کو برسوں سے سیاسی عدم استحکام اور عدم مساوات کا سامنا ہے۔ اس کے دارالحکومت کا نام سان سلواڈور ہے۔ اس کے موجودہ صدر نایب بوکیلی سن 2019ء میں ملک کے صدر منتخب ہوئے۔ سن 2019ء میں ہی اس ملک میں دو پارٹی نظام کا خاتمہ ہوا۔ اس ملک میں ماورائے قانون قتل، بچوں کے اغوا اور خواتین کے خلاف جرائم بارے انسانی حقوق کا ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اپنی آواز بارہا بلند کر چکا ہے۔