fbpx

ماحولیات کانفرنس: پوٹن نے بائیڈن کی دعوت قبول کر لی

Vladimir Putin

Vladimir Putin

روس (اصل میڈیا ڈیسک) واشنگٹن اور ماسکو میں کشیدگی کے باوجود روسی صدر نے ماحولیات کے بحران پر ہونے والی کانفرنس میں شرکت کرنے سے اتفاق کر لیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے روسی ہم منصب کے درمیان تعلقات گرچہ قدرے تلخ ہیں تاہم اس کے باجود ولادیمیر پوٹن نے ماحولیات کے بحران پر آئندہ جمعرات کو ہونے والی ورچوول کانفرنس سے خطاب کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس کانفرنس میں کئی دیگر عالمی رہنما بھی شرکت کرنے والے ہیں۔

کریملن نے 19 اپریل پیر کے روز ایک بیان میں کہا، ”ولادیمیر پوٹن عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کے منفی نتائج پر قابو پانے کے لیے وسیع پیمانے پر بین الاقوامی تعاون کے قیام کے تناظر میں روسی نقطہ نظر کا خاکہ پیش کریں گے۔”

امریکی صدر جو بائیڈن نے ماحولیات کی تبدیلی اور عالمی سطح پر حدت میں اضافے سے نمٹنے کے لیے جو آن لائن کانفرنس بلائی ہے اس میں شرکت کے لیے چین کے صدر شی جن پنگ سمیت دنیا کے بڑے چالیس رہنماؤں کو دعوت دی گئی ہے۔

روسی صدر پوٹن کی شرکت کا مطلب یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں متعدد پابندیوں کے باوجود بھی وہ امریکا کے ساتھ کسی بھی موضوع پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ روسی حکومت کے سب سے بڑے ناقد الیکسی ناولنی کی قید اور یوکرائن کے مسئلے پر اختلافات کی وجہ سے فی الوقت امریکا اور یورپی یونین کے ساتھ روس کے سفارتی تعلقات کافی کشیدہ ہیں۔

صدر جو بائیڈن نے جنوری میں جب سے اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے روس اور چین کے ساتھ امریکا کے تعلقات سرد جنگ کے دور کی طرح کافی کشیدہ رہے ہیں۔ تاہم ان کی انتظامیہ نے ماحولیات کے تئیں بڑھتی ایمرجنسی کو ان ممالک کے ساتھ ایک درمیانی راستہ تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

اسی برس امریکا اور روس نے ماحولیات کی تبدیلی کے حوالے سے مذاکرات کیے تھے اور دونوں ممالک نے جنگل میں لگنے والی آگ، جوہری توانائی اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں باہمی تعاون کی نشاندہی کی تھی۔

روسی معیشت کا اب بھی زیادہ تر انحصار کوئلہ،گیس اورپٹرولیم جیسے ایندھن پر ہے۔ تاہم روس میں محکمہ موسمیات کے ماہرین نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ سائبیریا میں تباہ کن آگ کی وجہ سے موسم گرما میں سمندری برف میں کمی کی وجہ ماحولیات کی تبدیلی کی طرف واضح اشارہ ہے۔

انقرہ میں ترک صدر کے لیے نیا ’سفید محل‘ تعمیر کیا گیا ہے۔ اس عالی شان محل میں ایک ہزار کمرے ہیں، جن میں کچھ ایسے بھی ہیں جہاں جاسوسی کے خفیہ آلات کارگر نہیں ہوتے اور ایسے بھی جو ایٹمی حملے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ تاہم عدالت میں متعدد درخواستوں کے باوجود تعمیر کیے جانے والے اس محل کو ناقدین سفید محل کی بجائے سیاہ محل قرار دے رہے ہیں۔

ماحولیات سے متعلق امریکی سفیر جان کیری نے گزشتہ دنوں شنگھائی کا دورہ کر کے چینی حکام سے ملاقات کی اور چینی صدر کو اس کانفرنس میں شرکت کے لیے با ضابطہ دعوت دی تھی۔

کیا مزیددو طرفہ میٹنگیں ہوں گی؟
امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ روس کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور پر بات چیت کے لیے اس برس موسم گرما میں یورپ میں روسی صدر پوٹن سے روبرو ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم پوٹن نے اس تجویز کو قبول یا مسترد رکنے کا فی الحال کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔