fbpx

ماحولیاتی تحفظ: کیا امریکا پھر بھرپور کردار ادا کے لیے تیار ہے؟

Joe Biden

Joe Biden

امریکا (اصل میڈیا ڈیسک) سالانہ ”ارتھ ڈے‘‘ کے موقع پر صدر بائیڈن چالیس ممالک کی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کر رہے ہیں۔

اس دو روزہ آن لائن کانفرنس میں امریکا کے روایتی حریفوں کی شمولیت یقینی بنانے کے لیے ماحولیات پر امریکی حکومت کے سینئیر سفیر اور سابق وزیر خارجہ جان کیری نے کئی ممالک کے دورے کیے۔

بیجنگ اور ماسکو کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود، چین کے صدر شی جِن پِنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پوٹن دونوں اس سربراہی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

توقع ہے کہ اس کانفرنس میں صدر بائیڈن ماحولیاتی تحفظ کے لیے امریکا کی طرف سے نئے اقدامات کا وعدہ کریں گے۔ برطانیہ اور یورپی یونین پہلے ہی اپنی معاشی پالیسیوں کو تحفظ ماحول سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مختلف اقدامات کے اعلانات کر چکے ہیں۔

امریکی حکام کو امید ہے کہ صدر بائیڈن کی طرف سے نئے ماحول دوست معاشی اہداف کے اعلان سے آلودگی پھیلانے والے دیگر ممالک بھی مشکل فیصلے کرنے کے لیے ہمت و حوصلہ پکڑیں گے۔

یوں صدر بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے تین ماہ کے اندر امریکا ماحول کے تحفظ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے ایک بار پھر سرگرم نظر آتا ہے۔

چین اور امریکا کی مشترکہ ذمہ داریاں
اس میں چین کا کلیدی کردار ہو گا۔ دنیا میں موسمیاتی تبدیلی اور ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں اس وقت چین اور امریکا پیش پیش ہیں اور ماحول کو نقصان پہنچانے والی کاربن گیسوں کا تقریبا نصف صرف ان دو ملکوں سے آتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب تک توانائی کے لیے دونوں مل کر کوئلے اور تیل پر انحصار کم نہیں کرتے، ماحول کو تباہی سے بچانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

چین نے کہا ہے کہ وہ سن دو ہزار ساٹھ تک آہستہ آہستہ کاربن پر اپنا انحصار ختم کر دے گا۔ تاہم ماہرین کے مطابق آئندہ چالیس برس کے اس عرصے میں اگر چین نے کوئلے پر اپنا روایتی انحصار برقرار رکھا تو اس سے ماحول کو ناقابل تلافی پہنچ سکتا ہے۔

امریکا نے صدر باراک اوباما کی قیادت میں سن دو ہزار پندرہ میں پیرس میں طے پانے والے تاریخی ماحولیاتی معاہدے میں وعدہ کیا تھا کہ واشنگٹن سن دو ہزار پچیس تک نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں چھبیس سے اٹھائیس فیصد کمی لائے گا۔

اوباما حکومت کے اس موقف کی امریکا کی طاقتور آئل لابی، گاڑیوں کی انڈسٹری اور دیگر صنعتی شعبوں کی طرف سے مخالفت کی گئی تھی۔

سن دو ہزار سولہ کے امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ اس لابی کے نمائندے کے طور پر سامنے آئے۔ اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے یک طرفہ طور پر امریکا کو پیرس معاہدے سے الگ کر دیا تھا۔

ٹرمپ کے چار سالہ دور میں امریکا تحفظ ماحول سمیت کئی دیگر بین ا لاقوامی سمجھوتوں سے نکل گیا تھا۔ لیکن صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں امریکا تنہائی سے نکل کر ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار ہے۔