مرگی کے علاج کے لیے جدید تحقیق

Epilepsy Treatment

Epilepsy Treatment

پاکستان میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ہر ایک ہزار میں سے نو افراد مرگی یا اپیلیپسی کی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ جرمنی میں اس کے علاج پر جدید تحقیق جاری ہے۔

صرف پاکستان، بھارت یا جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ کئی افریقی ممالک میں بھی دماغی بیماری ایپیلپسی یا مرگی سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں موجود ہیں۔ عام طور پر بیشتر افراد اسے کالے جادو یا جِنات اور خلائی مخلوقات تک سے بھی وابستہ کرتے ہیں لیکن دراصل مِرگی کی وجہ ان غلط فہمیوں سے بالکل برعکس ہے۔

انسانی دماغ قدرت کا ایک ایسا کرشمہ ہے جسے تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود ابھی تک سائنسدان سمجھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ تین پاونڈ کا یہ عضو 86 ارب نیورانز یا دماغ کے بنیادی خلیوں پر مبنی ہے۔ ان نیورانز کے درمیان ہر وقت آپس میں رابطہ کاری ہوتی رہتی ہے جو انسانی جسم کے تمام تر افعال کو چلاتی ہے۔ یہ رابطہ برقی موجوں یا الیکٹریکل امپلسز کے ذریعے ہوتا ہے جس کے لیے نیورنل فائرنگ کی اصلاح استعمال کی جاتی ہے۔ ایک نیوران ہر سیکنڈ میں تقریباً 200 مرتبہ فائر کرتا ہے اور کُل ملا کر 86 ارب نیورانز کی یہ فائرنگ ہمیں اپنے روز مرہ کے کام سر انجام دینے میں مدد کرتی ہے۔ لیکن نیورانز کی یہی فائرنگ اگر توازن سے ہٹ جائے تو انسان اپنا ہوش کھو بیٹھتا ہے اور اس کا جسم بےقابو ہو کر ہلنے لگتا ہے۔ اس کیفیت یا مرض کو مرگی کا دورہ یا ایپیلپٹک سیزر کہا جاتا ہے۔ دماغ میں ورم یعنی انفلیمییشن بھی اس غیر متوازن نیورنل فائرنگ کا باعث بن سکتی ہے۔

اس غیر معمولی نیورانل فائرنگ اور دماغی ورم کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں جینیات (جنیٹکس)، سر میں لگنے والی چوٹ، دماغ کا ٹیومر یا اسٹروک، اور کچھ انفیکشنز بھی شامل ہیں۔ بچوں میں اکثر بخار کی وجہ سے بھی مرگی کا مرض ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں سائنسدان اس بیماری کا اعلاج ڈھونڈنے میں مصروف ہیں لیکن چونکہ اس بیماری کی کئی اقسام ہیں اور وجوہات ہیں اسی بدولت اس کا اعلاج ڈھونڈنا بےحد مشکل ہے۔

ڈاکٹر محمد سجاد نیورو سرجن ہیں اور جرمن شہر ڈسلڈورف کے یونیورسٹی ہسپتال کے شعبہ نیورالوجی کے سینیئر ڈاکٹر ہیں۔ وہ مرگی کی کچھ اقسام کا علاج بذریعہ سرجری کر چکے ہیں اور اس پر ان کا تحقیقی کام بین الاقوامی ریسرچ جرنلز میں شائع ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر سجاد کے مطابق مرگی کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے طریقہ کار میں، ”سب سے پہلے دماغی اسکین اور ٹیسٹ کے ذریعے مریض کی بیماری کا سبب، اور دماغ میں موجود اپیلیپٹک فوکس یا مرکز کو جا نچا جاتا ہے۔ جس کے بعد اسے ان اسباب کے مطابق دوا دی جاتی ہے۔ اگر اس مقصد کے لیے دستیاب مختلف ادویات اثر نہ کریں تو اس صورت میں آپریشن کیا جاتا ہے جب ایپیلیپٹک مرکز صرف ایک ہو۔‘‘

مرگی کا دورہ پڑنے کی صورت میں انسان اپنا ہوش کھو بیٹھتا ہے اور اس کا جسم بےقابو ہو کر ہلنے لگتا ہے۔

کیا سرجری کے ذریعے مرگی کا علاج نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ اسے بارے میں ڈاکٹر سجاد کا کہنا ہے، ’’ہمارے دماغ میں ہیپو کیمپس کا تعلق زیادہ تر یادداشت اور سیکھنے سے ہوتا ہے اس لیے یہ دماغ کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے۔ ہیپوکیمپس کے دو حصے ہوتے ہیں، دائیاں اور بائیاں۔ کچھ لوگوں میں اس کا دایاں حصہ زیادہ فعال ہوتا ہے اور جبکہ دیگر میں بائیاں۔ اگر میزیئل ٹیمپورل لوب ایپیلپسی ہیپو کیمپس کے اس حصے میں ہو جو فعال ہے تو وہاں آپریشن کرنا مریض کے لیے نہایت خطرناک ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ غیر فعال حصے میں ہو تو وہاں آپریشن کے ذریعے مرگی کے خاتمے کے 80 فیصد تک امکانات ہوتے ہیں۔‘‘

ادویات کے ذریعے مرگی کی مختلف اور اب تک لاعلاج اقسام پر تحقیق کا سلسلہ جرمن شہر بون کے یونیورسٹی ہاسپٹل میں بھی جاری ہے۔ ابھی تک یہ تجربات چوہوں پر کیے جا رہے ہیں کیونکہ انسانوں اور چوہوں میں کافی حد تک جنییاتی مماثلت پائی جاتی۔

پروفیسر ڈاکٹر کرسچیان شٹائن ہوئزر، یونیورسٹی آف بون میں انسٹی ٹیوٹ برائے سیلولر نیورو سائنس کے ڈائریکٹر ہیں۔ ڈاکٹر اشٹائن ہوئزر کے مطابق، ”اگر ہم میزیل ٹیمپورل لوب اپیلیپسی کی بات کریں جو مرگی کی سب سے چیلنجنگ قسم ہے اور یہ زیادہ تر کیسز میں لا علاج ہے، تو آج بھی صورتحال 30 سال پہلے کی طرح ہی ہے کیونکہ آج بھی 65 سے 75 فیصد مریضوں پر عام طور پر دستیاب مرگی کی ادوایات اثر نہیں کرتیں۔ یہاں تک کے میرے بہت سے ساتھی اب تک یقین رکھتے ہیں کہ نیوران وہ خلیات ہیں جو میزیل ٹیمپورل لوب اپیلیپسی کا سبب بنتے ہیں ۔تاہم موجودہ ادوایات زیادہ تر ہائپریکسٹیبلٹی یا نیورانل فائرنگ کو دبانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور یہ بیماری میں اضافے کو روکنے میں مددگار نہیں ہوتیں۔ لیکن موجودہ تحقیق اب یہ ظاہر کر رہی ہے، کہ نیورانل فائرنگ بیماری کا سبب نہیں بلکہ نتیجہ ہیں۔ ہماری ریسرچ میں واضح ہے کہ بیماری کے سب سے پہلے مرحلے میں نیوران کے بجائے کچھ اور خلیات تبدیل ہوتے ہیں جیسے کے مائیکروگلیا اور آسٹروسائیٹز۔ ان کی وجہ سے دماغ میں ورم یا inflammation ہو جاتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر اشٹائن ہوئزر اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق اب تک کہاں پہنچی ہے اور اس کی کامیابی کے کتنے امکانات ہیں؟ ڈاکٹر اشٹائن ہوئزر نے بتایا، ”ہماری تحقیق کے مطابق اگر دماغ میں مرگی سے قبل تبدیل ہونے والے خلیات میں اس تبدیلی کے عمل کو اگر ابتدائی مراحل میں ہی روک دیا جائے تو اس سے جانوروں کے ماڈل میں مرگی کا مرض ختم ہوسکتا ہے۔ اس لیے اگر آنے والے وقت میں ایسی ادویات دستیاب ہوئیں جو ان خلیات کے افعال کو توازن میں رکھ سکتی ہیں تو مجھے امید ہے ہم لوگ میزیل ٹیمپورل لوب اپیلیپسی کے علاج میں زیادہ کامیاب ہوں گے۔‘‘

جرمنی کے علاوہ بھی دنیا کے کئی ممالک میں مرگی کے علاج کے حوالے سے تحقیق کا عمل جاری ہے۔ لہذا امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں مرگی کی تما اقسام کا اعلاج ممکن ہو جائے گا، لیکن شاید اس کو ابھی کئی برس لگ جائیں کیونکہ کچھ سوالات کے جوابات اب بھی ادھورے ہیں۔