fbpx

سی پیک کا سب سے مہنگا منصوبہ سست روی کا شکار

Pakistan-China Economic Corridor

Pakistan-China Economic Corridor

اسلام آباد (اصل میڈیا ڈیسک) پاکستان چین اقتصادی راہداری کا سب سے مہنگا پروجیکٹ ایم ایل ون سست روی کا شکار ہوگیا ہے۔ بیجنگ اس مہنگے پروجیکٹ کی فنانسنگ کے حوالے سے شرائط کو تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔

یہ پروجیکٹ چھ بلین ڈالرز سے زیادہ کا ہے، جس کو پاکستان ریلوے کی بحالی کے لیے بہت اہم گردانا جاتا ہے۔ اس سست روی اور شرائط نے کئی حلقوں میں یہ سوال بھی پیدا کردیا ہے کہ آیا سی پیک کا مستقبل تاریک ہے یا روشن۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کچھ عرصے سے یہ باتیں گردش کررہی ہیں کہ بیجنگ پاکستان سے اضافی گارنٹیز چاہتا ہے۔ وزارت خزانہ کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، “پاکستان چین پر یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ کوئی اضافی گارنٹی نہیں دے گا اور یہ کہ کام مقتدر گارنٹی پر ہی ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان کبھی کسی قرضے پر ڈیفالٹ نہیں ہوا۔”

اب یہ باتیں سامنے آرہی ہیں کہ چین ایم ایل ون کی فنانسنگ کے حوالے سے شرائط میں تبدیلی چاہتا ہے۔ پشاور ریلوے سے تعلق رکھنے والے اشفاق باچا کا کہنا ہے کہ انہیں ایم ایل ون کے حوالے سے کوئی کام عملی طور پر ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ “ہمیں بتایا گیا ہے کہ نقشے تیار ہوئے ہیں لیکن لیکن نصر پور سے لنڈی کوتل کی طرف ایک لائن جانی تھی، جس پر کام کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ اسی طرح پشاور میں بھی اس حوالے سے زمین پر کوئی کام نہیں ہے۔”

حکومت کی طرف سے اس پروجیکٹ کی خبر رکھنے والے پلاننگ کمیشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، “یہ پروجیکٹ دوہزار سولہ میں شروع ہونا تھا۔ پھر مختلف پروجیکٹس کے آنے کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔ پھر یہ طے ہوا کہ یہ جنوری دوہزار اکیس میں شروع ہوگا لیکن اب پھر تاخیر ہورہی ہے۔ چین اور حکومت پاکستان کے درمیان اس کی فناسنگ کی شرائط پر بات چیت ہورہی ہے۔ جس میں وقت لگ سکتا ہے اور یہ مزید تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔”

کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ ایم ایل ون پروجیکٹ کی مد میں لیے جانے والے قرضے کی شرح سود پاکستان اور چین کے درمیان وجہ نزاع ہے اور یہ کہ چین اس شرح میں خاطر خواہ اضافہ چاہتا ہے۔ ڈی ڈبلیو کے اس سوال پر کہ کیا یہ ایک اہم مسئلہ ہے، اس اعلیٰ عہدیدار نے جواب دیا، ” ایم ایل ون پر شرح سود صرف ایک فیصد ہے، جو واقعی بہت کم ہے کیونکہ چینی کمپنیاں اپنے ملک کے کمرشل بینکوں سے قرضہ لے رہی ہیں اور اس حوالے سے ایک فیصد بہت کم ہے۔ ہم نے چین کو دو اعشاریہ اڑتیس فیصد آفر کیا ہے۔ یہ شرح ہم سی پیک کے تمام پروجیکٹس پر لیے جانے والے قرضوں پر شرح سود کے طور پر دے رہے ہیں لیکن چین نے اب تک ہماری اس پیشکش کا جواب نہیں دیا۔”

سینیٹ کی سی پیک کمیٹی کے رکن سینیٹر میر کبیراحمد محمد شہی کا کہنا ہے کہ ایم ایل ون، اسپیشل اکنامک زونز سمیت تقریبا تمام سی پیک پروجیکٹس پر کام رکا ہوا ہے۔ “اور اس کی وجہ یہ ہے کہ چین ناراض ہے اور اس کی دلچسپی موجودہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے کم ہوتی جارہی ہے۔ یہ حکومت سی پیک میں سنجیدہ نہیں ہے۔ ہم نے سی پیک کی کمیٹی میں افسران سے سی پیک پروجیکٹس میں پیش رفت کے حوالے سے پوچھا لیکن وہ کوئی بھی ایسی رپورٹ نہ دے سکے، جس سے ثابت ہو کہ کسی پروجیکٹ پر کوئی عملی کام بھی ہورہا ہے۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ چین فناسنگ کی شرائط پر بات کر رہا ہو۔ “لیکن پارلیمنٹ اور اس کی کمیٹیوں کو اس بارے میں لا علم رکھا گیا ہے کیونکہ حکومت نے سی پیک کے حوالے سے کیے جانے والے معاہدوں کو پارلیمنٹ سے چھپایا ہوا ہے۔ لہٰذا ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں پتا۔”

سینیٹ کی سی پیک کمیٹی کے رکن سینیٹر عثمان کاکڑ کا کہنا ہے کہ چین پاکستان میں اب ایک پائی بھی دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ “اس ڈھائی سال میں چین نے دس پیسے بھی پاکستان کو نہیں دیے کیونکہ چین اس حکومت سے سخت ناراض ہے، جس نے آتے ساتھ ہی چینی کمپنیوں پر ملتان کراچی موٹروے کی تعمیر میں کرپشن کا الزام لگایا۔ ایم ایل ون پر کام کچھ نہیں ہوا اور اسکے علاوہ سی پیک کے جتنے بھی پروجیکٹس ہیں۔ ان پر کام جوں کا توں ہے۔ یہاں تک کہ ملتان کراچی موٹروے کا افتتاح بھی نہیں ہوا۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک کا مستقبل تاریک ہے اور اس کی وجہ یہ نا اہل حکومت ہے، جس نے چین کو ناراض کیا ہوا ہے۔ “مغربی روٹ، گوارد پورٹ کے منصوبے اور دیگر تمام پروجیکٹس روکے ہوئے ہیں اور وجہ صرف اس حکومتی کی نااہلی ہے۔”

ڈی ڈبلیو نے سیکریٹری ریلوے سے کئی بار موقف جاننے کی کوشش کی لیکن نہ ہی انہوں نے فون اٹھایا اور نہ اس خبر کے فائل ہونے تک تحریری سوالات کے جواب دیے۔