fbpx

دائیں بازو کی شدت پسندی سب سے بڑا خطرہ، جرمن خفیہ ایجنسی

des BfV and der AfD

des BfV and der AfD

جرمنی (اصل میڈیا ڈیسک) جرمنی کی داخلہ خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے ملک کو درپیش مختلف خدشات اور چیلنجز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی دائیں بازو کی شدت پسندی کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

جرمنی کی داخلہ خفیہ ایجنسی بی ایف وی کے سربراہ تھوماس ہالڈن وانگ کے ملک کو درپیش مختلف خدشات اور چیلنجز کے حوالے سے خدشات جرمن ہفت روزہ بلڈ ام زونٹاگ میں آج اتوار چھ جون میں شائع ہوئے ہیں۔

جرمنی کی داخلہ انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ کے بقول روس کی جرمنی میں سرگرمیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں جتنی سرد جنگ کے زمانے میں تھیں۔ تھوماس ہالڈن وانگ کے بقول روس جرمنی میں بہت پیچیدہ انٹیلیجنس مفادات رکھتا ہے۔ جرمن ہفت روزہ ویلٹ ام زونٹاگ میں چھپنے والے ان کے الفاظ کے مطابق روس کی طرف سے اختیار کردہ طریقہ کار زیادہ تند اور ظالمانہ ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے اس حوالے سے برلن میں 2019ء میں ایک جرمن شہری کے قتل کا حوالہ بھی دیا جس کی ذمہ داری یہ ایجنسی روسی خفیہ ایجنسی پر عائد کرتی ہے۔

دائیں بازو کی شدت پسندی جمہوریت اور جرمن سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ

ہالڈن وانگ کے مطابق ملک میں بڑھتی دائیں بازو کی شدت پسندی ایک بار پھر ملک میں جمہوریت اور سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے علاوہ گروپس اور سیاسی پارٹیاں بھی انتہائی دائیں بازو کے سوچ کا حصہ ہیں۔

جرمنی کی داخلہ انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ کے بقول دائیں بازو کی سوچ ملک میں اہمیت اختیار کر رہی ہے اور یہ کہ دائیں بازو کے شدت پسندوں کے آن لائن پروپیگنڈے پر اس خفیہ ایجنسی کو شدید تحفظات ہیں۔

ہالڈن وانگ نے ساتھ ہی اس بات پر بھی خبردار کیا کہ ملک میں مسلمان شدت پسندوں کی اس حد تک تعداد موجود ہے جو کسی بھی وقت اور کہیں بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انتہائی بائیں بازو کے شدت پسندوں کے درمیان تشدد بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پیشہ ورانہ، سازشی نظریات پر مبنی، منصوبہ بندی کے ساتھ اور نشانہ بنا کر کی جانے والی سرگرمیاں ملک میں شدت پسندی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بدترین صورتحال میں دہشت گردانہ ڈھانچے بننے کے امکانات بھی موجود ہیں۔

ہالڈن وانگ نے ساتھ ہی اس بات پر بھی خبردار کیا کہ ملک میں مسلمان شدت پسندوں کی اس حد تک تعداد موجود ہے جو کسی بھی وقت اور کہیں بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں۔