fbpx

ہم نبی کریم ۖ کے دیوانے

Eid Milad-e-Nabi

Eid Milad-e-Nabi

تحریر : ڈاکٹر تصور حسین مرزا

اہل ایمان بلخصوص عاشقان ِ رسول اللہ ۖیکم ربیع الاول سے ہی گھر گھر اور مساجد میں میلاد النبی اور نعت خوانی (مدحِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی محافل شروع کر دیتے ہیں ۔ علماء کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت، آپ کی ذات مبارکہ اور سیرت طیبہ کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اسی طرح مختلف شعراء اور ثناء خواںِ رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نعتیہ گلہائے عقیدت اور درود و سلام پیش کرتے ہیں۔یہ کوئی رسم یا دیگر تہواروں کی طرح کوئی تہوار نہیں بلکہ یہ ایک سعادت ہے جو صرف عاشقان ِ رسول اللہ ۖ کے حصہ میں آتی ہے۔

اہل ایمان کا یقین کامل و ایمان ہے کہ ماہ ربیع الاول کہ اس مہینے نبی آخرالزماں ۖ کی دنیا میں تشریف آوری ہوئی، جو انسان کامل، ہادی عالم اور وجہ تخلیق کائنات ہیں،ربیع الاول امت مسلمہ کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل مہینہ ہے، اس ماہ مبارک میں ہی حضورانور سرور کونین حضرت محمدۖ کو دنیا کو اندھیروں سے نکالنے کیلئے بھیجا گیا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری دنیا کے لئے نمونہ بن کر آئے، وہ ہر شعبے میں اس اوج کمال پر فائز ہیں کہ ان جیسا کوئی تھا اور نہ ہی آئندہ آئے گا۔ان شااللہ

عید میلاد النبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ یہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ میں آتا ہے ۔ ویسے تو میلاد النبی اور محافلِ نعت کا انعقاد پورا سال ہی جاری رہتا ہے لیکن خصوصاّ ماہِ ربیع الاول میں عید میلاد النبیۖ کا تہوار پوری مذہبی عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے۔
اللہ پاک نے اپنی کتاب لاریب میں فرمایا ہے کہ

” اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ”۔ ( سورة ابراہیم، 5) امام المفسرین سیدنا عبد اللہ بن عباس (رضی اللہ عنہما) کے نزدیک ایام اللہ سے مراد وہ دن ہیں۔ جن میں رب تعالیٰ کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو۔ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں، ان کی یا د قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے)۔ (تفسیر خزائن العرفان)۔

عرش و فرش والے عاشقانِ رسول ۖ اپنی عقیدت اپنی محبت اپنی لگن اپنی چاہت اور اپنی اطاعت میں حسب ِ توفیق اپنے گھروں ، گلیوں ، محلے ، گاؤں قصبے اور شہروں میں چراغاں کرتے ہیں ، درودواسلام کے نذرانے پیش کرتے ہیںاور ایسے خوش نصیبوں کی قسمت پر جتنا بھی ناز کیا جائے کم ہے۔ یہ روشنیاں چراغاں اور فانوس کی حقیقت سمجھنے کے لئے فرمانِ عالی شان امی جان رسالتِ مآب ۖ ہے

”حضرت آمنہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں، (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق سے مغرب تک ساری کائنات روشن ہوگئی)۔ مسلمان تو عید میلاد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں اپنے گھروں ا ور مساجد پر چراغاں کرتے ہیں، خالق کائنات نے نہ صرف سا ر ی کائنات میں چراغاں کیا بلکہ آسمان کے ستاروں کو فانوس اور قمقمے بنا کر زمین کے قریب کردیا۔’

اسی طرح حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی والدہ فرماتی ہیں، (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی میں خانہ کعبہ کے پاس تھی، میں نے دیکھا کہ خانہ کعبہ نور سے روشن ہوگیا۔ اور ستارے زمین کے اتنے قریب آگئے کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ کہیں وہ مجھ پر گر نہ پڑیں)۔

محسن ِ انسانیت کی ذات اقدس اس کائنات کے لئے باعث رحمت ہے ۔ آپ ۖ کو ہر شعبہ زندگی میں وہ معراج حاصل ہے، جس کی مثال ہی نہیں ملتی، حضور پاک کی زندگی کی صفات و کمالات کا احاطہ کرنا تو انسان کے لئے ممکن نہ ہے لیکن ہر شعبہ ہائے زندگی میں وہ عام انسان کے لئے بہترین عملی نمونہ نظر آتے ہے۔

جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعات کی تاریخی خوشی میں مسرت و شادمانی کا اظہار ہے اور یہ ایسا مبارک عمل ہے جس سے ابولہب جیسے کافر کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ اگرابولہب جیسے کافر کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی میں ہر پیر کو عذاب میں تخفیف نصیب ہوسکتی ہے۔ تو اُس مومن مسلمان کی سعادت کا کیا ٹھکانا ہوگا جس کی زندگی میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشیاں منانے میں بسر ہوتی ہو۔

آج افسوس ہم نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد ۖ کی ولادت و باسعادت کی خوشی منانے میں شریعت محمدی پر عمل پیرا نہیں ہو رہے ۔ خوشی منانے آپ سے محبت کرنے اور آپ ۖ کی اطاعت میں ہی دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے مگر وہ کام جن کا دین اسلام میں تصور بھی نہیں ایسا کرنا ایسا کروانا محبت رسول ۖ کیسے ہو سکتی ہے؟
آپۖ نے علم و نور کی ایسی شمعیں روشن کیں جس نے عرب جیسے علم و تہذیب سے عاری معاشرے میں جہالت کے اندھیروں کو ختم کر کے اسے دنیا کا تہذیب یافتہ معاشرہ بنا دیا، آپۖ نے اپنی تعلیمات میں امن،اخوت،بھائی چارہ،یکجہتی اور ایک دوسرے کو برداشت کا درس دیا۔

عاشقان رسول اللہ ۖ سے گزارش ہے کہ عشقِ رسول اور اطاعت رسول کا دعویٰ کرنے کی بجائے عشقِ رسول کا عملی کردار ادا کرنا ہوگا جس سے یہ بتانے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے کہ ہم عاشقان نبی ۖ ہے بلکہ ہمارا چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھنا یعنی کردار بتائے کہ ہم نبی کریم ۖ کے دیوانے ہیں۔

 Dr Tasawar Hussain Mirza

Dr Tasawar Hussain Mirza

تحریر : ڈاکٹر تصور حسین مرزا