fbpx

ایف آئی اے کی چینی سٹہ مافیا کے خلاف رپورٹ تیار، طلبی کے نوٹسز جاری

Sugar

Sugar

لاہور / کراچی (اصل میڈیا ڈیسک) ایف آئی اے نے چینی سٹہ مافیا کے خلاف بائیو ڈیٹا رپورٹ تیار کرتے ہوئے انہیں 30 مارچ سے طلبی کے نوٹسز جاری کردیے جبکہ سندھ سے بھی چینی سٹہ مافیا کے سات ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق ایف آئی اے نے17 ہزار 500 صفحات پر مشتمل سٹہ مافیا کے خلاف بائیو ڈیٹا رپورٹ تیار کر لی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سٹہ مافیا نے 110، بیلن روپے کا فراڈ کیا۔

ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ سٹہ مافیا نے تین واٹس ایپ گروپ بنائے ہوئے تھے، ان گروپس میں پاکستان شوگر گروپ، دوسرا شوگر مرچنٹ گروپ اور تیسرا شوگر ٹریڈ گروپ تھا۔

ایف آئی کی رپورٹ کے مطابق سٹہ مافیا ان تینوں گروپس کے ذریعے چینی بحران اور قیمتوں کا اتار چڑھاؤ کرتا تھا، انہوں نے چینی کی مقررہ قیمت سے کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت کی، اور 69 روپے کلو والی چینی90 روپے میں فروخت کرتے رہے، سٹہ مافیا انہی تینوں واٹس ایپ گروپ کے ذریعے ملک بھر میں چینی اپنے ریٹس پر فروخت کرتے رہے۔

دریں اثنا ایف آئی اے نے چینی مافیا کے ارکان کو 30 مارچ سے ایف آئی اے لاہور آفس طلبی کے نوٹسز جاری کردیے۔ سٹّہ بازوں کو تمام ذاتی و کاروباری بینک اکاؤنٹس کی فہرست، بے نامی اکاؤنٹس کی فہرست ہمراہ لانے اور سٹّہ بازوں کو ایف بی آر/ ایمنیسٹی میں ظاہر کیے گئے تمام فیملی/ بے نامی اثاثہ جات کی فہرست ہمراہ لانے کا حکم دیا گیا ہے۔

سٹّہ بازوں کو ایک سال کے دوران اندرون و بیرون ملک کی تمام ٹی ٹیز کی فہرست ہمراہ لانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ عدم حاضری اور عدم تعاون کی صورت میں انہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شیخ عامر وحید (چوہدری شوگرگروپ ) کو یکم اپریل، مستنصر گوگی (رمضان و العربیہ شوگرگروپ ) کو 31 مارچ، ملک عباد ( JDW شوگرگروپ ) کو 30 مارچ، ملک ماجد ( JDW شوگرگروپ) کو 31 مارچ، اسد بھایا (RYK شوگر گروپ) کو دو اپریل، اسلم بھلّی (شریف /شمیم/ کنجوانی شوگر گروپ) کو 30 مارچ کو طلب کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے سندھ نے شوگر مافیا کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے شوگر مارکیٹ میں غیر قانونی سٹے میں ملوث اورنرخوں میں اضافے کے الزام میں 7 ملزمان کو گرفتارکرلیا۔

ترجمان ایف آئی اے بینکنگ سرکل کے مطابق کراچی کے اطراف میں شوگر سٹہ مافیا کی سرگرمیوں کے بارے میں مصدقہ ذرائع سے آگاہی کے نتیجے میں ڈپٹی ڈائریکٹر فہد خواجہ کی نگرانی میں چھاپے مارے گئے اور بروکر دال داس، سنتوش کمار اور راج کمارسمیت 7 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

ترجمان کے مطابق ملزمان شوگر مارکیٹ میں سٹہ بازی میں ملوث پائے گئے جبکہ سوشل میڈیا فورمز اور جعلی بینک اکاؤنٹس کا استعمال کرتے ہوئے شوگر کا ریٹ بڑھانے میں ملوث ہیں، گرفتار ملزمان کی غیرقانونی سرگرمیاں اوپن مارکیٹ میں شوگر کے نرخوں میں غیر مناسب اضافے کا سبب بن رہی تھیں۔

ترجمان کے مطابق ملزمان شوگر بروکر ہیں اور مل مالکان کے ساتھ مل کر چینی کا مصنوعی بحران پیدا کرنے میں ملوث ہیں، ملزمان کے بینک اکاؤنٹس منجمد اور دیگر دستاویزات ضبط کر لی گئیں ہیں، ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ، اکاؤنٹس چھپانے اور بے نامی اکاؤنٹس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

ترجمان کے مطابق نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی اے سی بی سی کراچی نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ الزام نمبر 04/2021 اور 05/2021 کی دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، گرفتار ملزمان کا ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔