fbpx

فکسرز کیخلاف قانون کا سخت شکنجہ تیار ہونے لگا

Match Fixing

Match Fixing

لاہور (اصل میڈیا ڈیسک) فکسرز کو قانون کی گرفت میں لانے کیلیے سخت شکنجہ تیار ہونے لگا، کریمنل ایکٹ کا ابتدائی مسودہ وزیر اعظم اور پی سی بی کے چیف پیٹرن عمران خان کو پیش کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں فکسنگ کے معاملے میں کوئی قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے ملوث کرکٹرز کو پی سی بی یا آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت پابندی یا جرمانے کی سزائیں دی جاتی رہی ہیں، 2000میں سامنے آنے والی جسٹس قیوم رپورٹ کی سفارشات کے تحت بھی کسی کھلاڑی کو جیل کی ہوا نہیں کھانا پڑی۔

اسپاٹ فکسنگ کیس 2010 میں سزا پانے والے سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف کو انگلینڈ میں فکسنگ کی وجہ سے کراؤن کورٹ کے فیصلے میں جیل جانا پڑا، اگر وہ پاکستان میں ہوتے تو صرف پابندی کی سزا ملتی، پی ایس ایل 2017میں سامنے آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں بھی شرجیل خان، خالد لطیف سمیت کرکٹرز کو پی سی بی نے پابندی اور جرمانے کی سزائیں دیں۔
اسی کیس میں ملوث ناصر جمشید کو انگلینڈ میں جیل بھیجا گیا، عمر اکمل کے کیس میں پی سی بی نے پابندی کا فیصلہ کیا، اپنی سزا کی مدت مکمل کرنے کے بعد محمد عامر، سلمان بٹ، محمد آصف اور شرجیل خان پر کرکٹ کے دروازے بھی کھلے، محمد عامر نے پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔

اس سے قبل جسٹس قیوم رپورٹ میں ملوث پائے جانے والے کھلاڑی نہ صرف انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آئے بلکہ پی سی بی میں مختلف عہدوں پر کام بھی کیا۔

رواں سال اپریل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا تھا کہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور سری لنکا نے فکسنگ کیخلاف کریمنل ایکٹ منظور کیے ہیں، ہم نے اس ضمن میں حکومت پاکستان سے بات کی ہے، سری لنکا کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے قوانین کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مزید پیش رفت کرتے ہوئے پی سی بی نے فکسنگ سے متعلق قانون سازی کیلیے ابتدائی مسودہ وزیر اعظم عمران خان کو پیش کر دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعے کو ہونے والی ملاقات میں چیئرمین احسان مانی نے اینٹی کرپشن یونٹ اور لیگل ٹیم کی مشاورت سے تیار کردہ سفارشات سے وزیر اعظم اور چیف پیٹرن کوآگاہ کیا۔ اس موقع پر بورڈ کے ہمراہ موجود وکلاء نے بریفنگ بھی دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسودے کو حتمی شکل دینے کیلیے وزارت قانون سمیت متعلقہ اداروں کی معاونت درکار ہوگی، طریقہ کار کے مطابق ابتدائی مراحل مکمل کرنے کے بعد یہ مسودہ منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہوگا جس کے بعد فکسرز کیخلاف کریمنل ایکٹ کے تحت کارروائی ہوسکے گی، قانون پاس ہونے پر کرپشن میں ملوث کھلاڑیوں کیخلاف فوجداری مقدمات درج کرائے جا سکیں گے، جرم ثابت ہونے پرانھیں جیلوں میں ڈالا جاسکے گا، فکسرز کی مشکوک سرگرمیوں پر چھاپے مارنے اور بینک اکاؤنٹ وغیرہ کی معلومات حاصل کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان فکسرز کیخلاف کریمنل ایکٹ کی منظوری میں دلچسپی لے رہے ہیں، قانون سازی میں تیزی سے پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔