fbpx

سعودی ولی شہزادہ محمد کا مستقبل کے شہر نیوم میں ’’دالائن‘‘منصوبہ کا اعلان

 Muhammad bin Salman

Muhammad bin Salman

سعودی عرب (اصل میڈیا ڈیسک) سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مستقبل کے شہر نیوم میں ’’دا لائن‘‘ کے نام سے ایک نیا شہری منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ مستقبل میں شہری سوسائٹیوں کا ایک منفرد جدید ماڈل ہوگا اور یہ جدت اور فطرت کے حسین امتزاج کا غماز ہوگا۔

شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’دا لائن 170 کلومیٹر پر محیط ہائپر سے مربوط ایک نئی پٹی ہوگی۔اس کو فطرت کے عین مطابق ڈیزائن کیا جائے گا اور اس میں کاریں اور شاہراہیں نہیں ہوں گی بلکہ وہاں کمیونٹیوں کو مصنوعی ٹیکنالوجی سے آراستہ اور ہم آہنگ کیا جائے گا۔اس کی بدولت وہاں کے مکین اور کاروباریوں کو اپنا معیارِزندگی بلند کرنے کے مواقع میسرآئیں گے۔‘‘

دالائن کا منصوبہ بھی نیوم اور سعودی عرب کے ویژن 2030ء کا حصہ ہے۔اس سے ملازمتوں کے تین لاکھ 80 ہزار نئے مواقع پیدا ہوں گے اور اس کی بدولت سعودی عرب کی مجموی قومی پیداوار(جی ڈی پی) میں 2030ء تک 180 ارب ریال (48 ارب ڈالر) کا اضافہ ہوگا۔

انھوں نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’پوری انسانی تاریخ میں شہران کے مکین شہریوں کے تحفظ کے لیے تعمیر کیے جاتے تھے لیکن صنعتی انقلاب کے بعد شہروں نے لوگوں پر کاروں ، مشینوں اور فیکٹریوں کو ترجیح دینا شروع کردیا۔جن شہروں کو دنیا کے جدید شہر کہا جاتا ہے،وہاں لوگ اپنی زندگیوں کے سالہا سال سفر میں گزار دیتے ہیں۔2050ء تک ان کے سفر کا دورانیہ دُگنا ہوجائے گا اور کاربن گیسوں کے اخراج میں اضافے اور سمندر کی سطح بلند ہونے کے بعد ایک ارب افراد کو محفوظ مقامات پرمنتقل کرنا پڑے گا۔تب تک 90 فی صد افراد آلودہ فضا میں زندگیاں گزار رہے ہوں گے۔‘‘

سعودی ولی عہد نے اس منصوبہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ترقی کے نام پر فطرت کو کیوں قربان کریں؟ ہرسال 70 لاکھ افراد کو آلودگی کی وجہ سے کیوں مرنا چاہیے؟ہر سال 10 لاکھ افراد کو ٹریفک حادثات کی نذر کیوں ہونا چاہیے؟نیز ہمیں سفر میں سالہا سال وقت کے ضیاع کے رجحان کو کیوں قبول کرنا چاہیے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں روایتی شہر کے تصور کو مستقبل کے شہر میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔آج میں نیوم کے بورڈآف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کی حیثیت سے دالائن کا منصوبہ پیش کررہا ہوں۔یہ 10لاکھ مکینوں کا مسکن شہر ہوگا اور یہ 170 کلومیٹر طویل ہوگا۔اس کے تحت نیوم میں 95 فی صد فطرت کو محفوظ بنایا جائے گا۔اس میں کوئی کاریں ہوں گی اور نہ شاہراہیں۔کاربن کا اخراج بھی صفرہوگا۔‘‘

ان کے بہ قول ’’دالائن کا منصوبہ شہری ترقی کا ایک نیا تصورپیش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔اس کے ڈیزائن میں لوگوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔شاہراہوں کے کسی انفرااسٹرکچر کے بغیر گذشتہ 150 سال میں یہ پہلا منصوبہ ہوگا۔‘‘

سعودی ولی عہد کے بیان کے مطابق عام شہروں کے ذرائع نقل وحمل کے برعکس دالائن منصوبہ میں سفری وقت کو کم کرنے کے لیے تیزرفتار سفر کے نئے حل پیش کیے جائیں گے تاکہ اس کے مکین اپنی صحت پر توجہ مرکوز کرسکیں۔جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اس نئے شہر میں زیادہ سے زیادہ فاصلہ صرف 20 منٹ میں طے کیا جاسکے گا۔

نیوم منصوبہ کے پائیدارترقی کے تصور کو عملی جامہ پہناتے ہوئے دالائن میں صاف توانائی مہیا کی جائے گی۔یہ آلودگی سے پاک ،صاف اور ماحول دوست ہوگی۔اس منصوبہ پر تعمیراتی کام اس سال کی پہلی سہ ماہی میں شروع ہوجائے گا۔

نیوم
شہزادہ محمد بن سلمان نے 2017ء میں نیوم کے منصوبہ کا اعلان کیا تھا۔یہ ہمہ نوع اعلیٰ ٹیکنالوجی کا حامل مستقبل کی نسل کا شہر ہوگا اور یہ مملکت میں جدّت طرازی ، تجارت اور تخلیقیت کا عالمی مرکز ثابت ہوگا۔

اس شہر کے نام کے پہلے تین حروف نیو (این ای او)لاطینی لفظ نیو(این ای ڈبلیو) سے اخذ کیے گئے ہیں اور آخری میم (ایم) عربی لفظ مستقبل کا مخفف ہے۔

نیوم سعودی عرب کے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ان میں بحیرۂ احمر کا ترقیاتی منصوبہ اور قدیہ بھی شامل ہیں۔ان سب کا مقصد سعودی عرب کی سیاحت کی صنعت کو فروغ دینا ہے اور اس کی معیشت کو متنوع بنانا ہے تاکہ تیل کی آمدن پر انحصار کم کیا جاسکے۔

نیوم شہر صوبہ تبوک میں سعودی عرب ، مصر اور اردن کی سرحدوں کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ ساڑھے 26 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہوگا۔اس میں پہلا پرائیوٹ زون ہوگا جو تین ملکوں تک پھیلا ہوگا۔

سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ نے اس شہر کو جدید انداز میں بسانے اور یہاں مختلف صنعتی زونوں کے قیام کے لیے 500 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم مختص کی ہے۔