حکومت کا درآمدی گیس مقامی سسٹم میں شامل کر کے قیمت بڑھانے کا فیصلہ

Gas

Gas

اسلام آباد (اصل میڈیا ڈیسک) حکومت نے درآمدی گیس کو مقامی گیس میں شامل کرکے نئی اضافی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے قانون جلد پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے گا بعد ازاں گیس کی قیمت میں اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل کردیا جائے گا۔

یہ بات وفاقی وزرا اور معاونین خصوصی نے سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز کو بریفنگ میں بتائی۔ بریفنگ میں وزیر خزانہ شوکت ترین، وزیر توانائی حماد اظہر، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب اور معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان موجود تھے۔

بریفنگ میں وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے کہا کہ گیس کی اوسط قیمت کا قانون لانے کے بعد فوری طور پر گیس کی اوسط قیمت مقرر کرنے سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ ابھی عوام کو منتقل نہیں کیا جائے گا اور گیس کی قیمتوں کی موجودہ سلیبز برقرار رہیں گی مگر بعد میں بتدریج گیس کی اوسط قیمت کے نظام کے تحت گیس کے اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اگر گورنر اسٹیٹ بینک ان سے مشاورت نہیں کریں گے تو وہ گورنر اسٹیٹ بینک کو نوکری سے فارغ کردیں گے لیکن ایسی نوبت نہیں آئے گی اگر قانون میں کچھ ترمیم کرنا پڑی تو وہ پارلیمنٹ میں جائیں گے اور قانون میں ترامیم کروائیں گے، پاکستان کی پارلیمان سپریم ہے اور تمام فیصلے پارلیمان کو ہی کرنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری آئی ایم ایف کا دیرینہ تقاضا ہے، اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے بل سے حکومت کا کنٹرول ختم ہونے کا تاثر درست نہیں کیونکہ گورنر، ڈپٹی گورنرز اور بورڈ ارکان کا تقرر حکومت کرے گی، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہر ادارے کو خودمختار بنانا چاہتی ہے اور اس حکمت عملی کے تحت اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ضمنی مالیاتی بل سے عام آدمی پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا، جن شعبوں کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی ہے ان میں سے بیشتر ری فنڈ اور ایڈجسٹ ہو سکتے ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ شرح سود کا تعین زری و مالیاتی مانیٹری پالیسی کمیٹی کرتی ہے، پہلی بار ایکس چینج ریٹ کو مارکیٹ کی حرکیات کے مطابق کیا گیا جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، ایکس چینج ریٹ کو مارکیٹ کی حرکیات کے مطابق کرنے سے حسابات جاریہ کے کھاتوں پر دباؤ کم ہوا ہے۔