حکومت بزور بازو

Maulana Fazlur Rehman

Maulana Fazlur Rehman

تحریر : انجینئر افتخار چودھری

کسی زمانے مین ہوا کرتا تھا کہ اگر تم فلاں پہلوان کو گرا لوگئے تو حکومت تمہیں مل جائے گی پتہ نہیں کسی نے جمیعت علمائے اسلام کے امیر کے کان میں کہہ دیا ہے کہ ایسا کر لو حکومت لے لو۔یعنی الیکشن میں ہارو اتنے ووٹر ادھر لے آئو حکومت تمہاری۔بزور بازو ملے گی۔
ملک میں ایک ہنگامہ بپاء ہے جمیعت العلمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن نے احتجاج کے لئے ایک ملیشیا تیار کر لی ہے۔وردی پوش لوگوں کا ایک گروہ تیار کر لیا ہے فرق صرف یہ رہ گیا ہے بیلچے کی بجائے ڈنڈے انہیں دیئے گئے ہیں بر صغیر پاک و ہند کی تاریخ میں ١٩ مارچ ١٩٤٠ کا خونیں واقعہ ہوا تھا اس دنیا لاہور کی سڑکوں پر خون کی ہولی کھیلی گئی تھی خاکساروں نے ایک انگریز افسر کا سر قلم کیا تھا جس کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کی جان گئی۔چار روز بعد اسی لاہور میں مسلمانان ہند منٹو پارک میں اکٹھے ہو رہے تھے حضرت قائد اعظم کو تجویز دی گئی کہ اجلاس ملتوی کر دیا جائے لیکن انہوں نے سختی سے منع کر دیا کہ جلسہ ہو کے رہے گا۔اس قسم کے ملیشیا سوائے خون ریزی کے کچھ جنم نہیں دے سکتے ایک عام پاکستانی ان تیاریوں پر پریشان ہے۔دھرنوں کی سیاست کی ابتداء پاکستان تحریک انصاف نے خود رکھی جناب وزیر اعظم انہیں کنٹینر اور کھانا دینے کی بھی پیش کش کرچکے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جمعیت کے پاس وہ طاقت ہے جو صرف مذہبی جماعتوں کے پاس ہوتی ہے۔

پورے پاکستان سے ایک سیٹ نہ جیتنے والی جماعت کے امیر علامہ طاہر القادری کے پاس اتنی طاقت تھی کہ وہ کامیاب دھرنہ دے سکیں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مولانا فضل االرحمن یہ کام نہیں کر سکتے تو یہ ان کی بھول ہے مولاناکے پاس کارکنان کی بڑی تعداد ہے جو اسلام آباد آ بھی سکتے ہیں اور چھا بھی سکتے ہیں لیکن ١٢٦ دن کے دھرنے نے حکومت تو نہ الٹی تھی۔اس قسم کی قوت تحریک لبیک کے پاس بھی ہے یہ طاقت پاکستان کی ہر مذہبی جماعت رکھتی ہے۔ویسے سوچنے کی بات ہے کیا پی ٹی آئی اور جمعیت کا دھرنہ ایک جیسا ہے۔اسے ایک آدمی کی نظر سے دیکھئے وہ دھرنہ ووٹ کی سچائی کے لئے تھا یہ دھرنہ ان لوگوں کے بچائو کے لئے ہے جو ملک کو لوٹ کر کھا گئے ۔تحریک انصاف نے ٢٠١٣ کے انتحابات میں دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔اس نے مطالبہ کیا کہ چار حلقے کھول دئے جائیں۔اس عام سے مطالبے کو مان لینا چاہئے تھا اس کے بعد عمران خان کی جماعت نے الیکشن کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹایا اپیلیں دائر کیں لیکن کسے نے اودھی گل نہ سنی۔پارٹی نے جد وجہد جاری رکھی پھر مظاہروں کا ایک پر امن سلسلہ شروع کیا جو الیکشن کمیشن کے باہر آواز بلند کرنے اپنے مرکزی دفتر سے شارع دستور کی جانب جاتا جسے مین سڑک پر جانے سے پہلے روک لیا جاتا لوگ نعرے بازی کرتے اور چند تقریریں کر کے منتشر ہو جاتے۔مظاہروں کا یہ سلسلہ کوئی چار ہفتے جاری رہتا۔پی ٹی آئی اس دوران اداروں کے سامنے مطالبات رکھتی رہی آہستہ آہستہ ناک ڈائون اور پھر دھرنے میں چلی گئی ١٢٦ کے دھرنے میں لوگ ڈی چوک کے ایک کونے میں پڑے رہے۔دن کو چھٹی اور رات کو عشاء کی نماز کے بعد تقریریں شروع ہو جاتیں۔چار حلقوں سے مطالبات کی شروعات نئے انتحاب وزیر اعظم کے استعفی تک پہنچیں۔١٢٦ دن کا احتتام آرمی پبلک اسکول کے سانحے پر ختم ہوا اسی دوران ناک ڈائون کے نتیجے میں عدالت نے کہا کہ ہم آپ کا مسئلہ حل کرتے ہیں۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولانا کا انداز سیاست سیدھی سادی خونریزی کو دعوت دینے کے مترادف ہیں۔ایک عام آدمی دیکھ رہا ہے کہ جمیعیت العلمائے اسلام کے امیر ٢٠١٣ سے سے زیادہ نشستیں تو ٢٠١٨ کے انتحابات میں ان کی پارٹی کو ملی ہیں ان کا دعوی ہے کہ انہیں ڈیرہ اسمعیل خان سے جبرا ہرایا گیا ہے۔بادی النظر میں تو یہ بات نہیں مانی جا سکتی اس لئے کہ ان کی پارٹی کے جاں نثار جو اب ان پر جان واری کرنے اسلام آباد آ رہے ہیں انہوں نے دھاندلی کہاں ہونے دی ہو گی۔لیکن اس کے باوجود علی امین گنڈا پور نے بڑی دلیرانہ آفر دے دی ہے کہ ہو اس نشست کو چھوڑ کر دوبارہ مولانا کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔مسئلہ مولنا کا حل کیا جا رہا ہے۔

انہیں اعتراض ہے کہ ان کی نمائیندگی پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے تو پھر وہ اس پیشکش کو قبول
کیوں نہیں کرتے؟اس پیشکش نے مولانا کے مو ء قف کی نفی کر دی ہے۔میاک ایک غیر جانبدار لکھاری کی حیثیت سے چاہوں گا کہ مولانا اس پیشکش سے فورا فائدہ اٹھائیں اور وہ اسمبلی جس میں انکے والد مرحوم ان کے بھائی اور چند عزیز وقتا فوقتا آتے رہے ہیں ایک بار پھر جیت کر پہنچیں۔لگتا یہ ہے کہ معاملہ کوئی اور ہے مولانا چاہتے ہیں کہ اس نظام کی بساط الٹ دی جائے۔پنجابی میں کہتے ہیں نہ کھیڈاں گے تے نہ کھڈن دیاں گے۔کیا یہ مارچ خونیں مارچ ہو گا؟ہمیں اس پر بھرپور توجہ دینا ہو گی سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی نے مرکز میں ادھر ادھر سے لوگ اکٹھے کر کے حکومت بنائی ایم کیو ایم ،ق لیگ،جنوبی پنجاب سے کچھ لوگ لے کر عمران خان بر سر اقتتدار آئے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ انہوں نے مولانا سے دست پنجہ کیوں نہیں کیا؟کیا وجہ تھی کہ وہ پارٹی جو مشرف ،زرداری،اور نواز شریف کے ساتھ مل کر حکمتیں بناتی رہی اس سے اغماض برتا گیا؟یہ بات سچنے کی ہے؟پی ٹی آئی کے حلقوں کے لوگ نجی محفلوں میں اس قسم کی گفتگو کرتے رہتے ہیں۔

کیا مولانا اس قدر کڑوے تھے کہ انہیں نگلنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی؟میری ذاتی رائے ہے کچھ ایسا ہی ہے۔جمیعیت علمائے اسلام کا موء قف پہلے دن ہی سے بڑا سخت رہا انہوں نے پہلے پہل تو نون لیگی اور پیپلز پارٹی کے اکابرین سے کہا کہ اسمبلیوں میں بلکل نہ جائیں۔مولانا کو یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ یہ دو پارٹیاں بلکہ تیسری پی ٹی آئی بھی شامل کر لیں ان میں اس قسم کے اتحاد کا فقدان ہے کہ وہ اپنے لیڈران کے فیصلوں پر لبیک کہیں اور ان کے اشاروں پر مستعفی ہو جائیں اس کا عملی مظاہرہ ہو چکا ہے پی ٹی آئی کے اراکین نے ایک وقت پر استعفے دینے سے انکار کر دیا تھا یہ مذہبی لوگوں کا گروہ نہیں تھا جو صرف پارٹی ٹکٹ کی وجہ سے اسمبلی میں پہنچا تھا ان میں بہت سے وہ لوگ تھے جن کا اپنا حلقہ انتحاب تھا وہ کسی پارٹی میں بھی ہوں جیت ان کا مودر ہوتی ہے انہیں الیکٹیبل کہا جاتا ہے جن کی ایک بڑی تعداد حکومت اور اپوزیشن کی دوسری جماعتوں میں موجود ہے۔

اب اگر کوئی بھی لیڈر ان سے استعفی مانگے تو یہ لوگ مستعفی نہیں ہوں گے مولنا نے نواز شریف اور زرداری کی اس مجبوری کو مد نظر نہیں رکھا اور خوامخواہ ہی ایک ضد پکڑ لی۔منسٹر انکلیو سے نکلنا ان کے لئے آدم کے خلد سے نکلنے سے زیادہ صدمہ تھا۔پھر آگے چلئے مولانا کا یہودی چورن نہیں بک سکا ستم ظریفی دیکھئے کہ عمران خان کو اٹھتے بیٹھتے یہودی کہا گیا۔انہوں نے ان پر بار بار حملے کئے کبھی قادیانیوں کا ایجینٹ کبھی یہودیوں کا مہرہ غرض حضرت مولانا نے ہر وہ تیر آزمایا جو اس ملک کے مذہبی حلقوں میں پسند کیا جاتا تھا۔اس کے جواب میں عمران خان جب مدارس کے بائیس لاکھ بچوں کے مستقبل کی بات کرتے تو مذہبی حلقے سیخ پاء ہو جاتے ان کا خیال یہ تھا کہ یہ لوگ تو ہیں ہی ہمارے ان کی کوئی بات نہیں کر سکتا۔جن دنوں جامعہ حقانیہ کی مالی مدد کا فیصلہ کیا گیا اس بات کی لبرل حلقے تو مخالفت کرتے ہی رہے خود مولانا اور ان کی جماعت کو اس میں سازش نظر آئی۔مساجد کے علماء کے وظائف یکم محرم کی چھٹی نصاب میں قران پاک کا ناظرہ پڑھانا اور حفظ بھی انہیں ہضم نہیں ہوا۔جب یکساں نصاب تعلیم کی بات کی جاتی ہے تو حضرت کو اس میں بھی سازش نظر آتی ہے۔مجھے مدارس کے بچوں سے پیار ہے میں نے اپنی آنکھوں سے ان بچوں کی زبوں حالی دیکھی ہے،یہ پاکستان کی سب سے بڑی این جی او ہے غریب لوگوں کے بچے دور دراز سے تحفیظ القران کے لئے آتے ہیں۔اگلے روز قاری محبوب الرحمن کے مدرسے میں گیا تھا ان ننھے معصوموں سے ایک تفصیلی نشست ہوئی یہ وہ بچے تھے جو بونیر مانسہرہ،شانلہ،سوات اور دور دور سے آئے تھے انہیں پشتو اور گوجری کے سوا کوئی زبان نہیں آتی تھی۔

ان بچوں کے دماغ جو کورے کاغذ کی مانند ہوتے ہیں ان پر مولانا اور ان کے پیروکار اگر یہ لکھ دیں کہ عمران خان یہودی ہے تو پوری عمر اسے مٹانا مشکل ہو گا ۔پاکستان کے وزیر اعظم نے جنرل اسمبلی میں جو تقریر کی ہے وہ تاریخی تقریر ہے جن چار نکات پر وہ بے تکاں بولے وہ وقت کی ضرورت تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی مذہبی پیشواء کو بھی موقع دیا جاتا تو وہ انہی جذبات کا اظہار کرتے۔انہیں ایک کالم میں لکھتے ہوئے کہا تھا کہ سفیر کشمیر آپ تو سفیر امت مسلمہ نکلے۔سچ بھی یہی ہے کہ مغرب نے مسلمانوں کے بارے میں جو دوہرامعیار اختیار کر رکھا ہے اس پر عمران خان نے کاری ضرب لگائی ہے عمران نے علامہ اقبال کو پڑھا ہے مجھے کہنے دیجئے کہ وہ فکر اقبال سے قاضی حسین احمد کی قربت کی وجہ سے متاثر ہوئے۔اس بات کا میں گواہ ہوں کی اسلامی جمیعت طلبہ کے لڑکوں نے پنجاب یونیورسٹی میں ان سے ناراوا سلوک کیا تو قاضی حسین احمد ہی تھے جو ان کے ساتھ کھڑے ہوئے خود عمران خان نے اس بات کا اشارہ دیا کہ اس لڑائی کو جماعت اور پی ٹی آئی کی لڑائی نہ بنایا جائے۔وقت وہ بھی نہیں رہا اور وقت یہ بھی گزر جائے گا۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ان دنوں جب بھارتی مظالم کی انتہا ہے کرفیو کو لگے ستر دن ہونے کو ہیں کشمیر عالمی مسئلہ بن چکا ہے تو ایسے میں پاکستان کے میڈیا کو اسلام آباد میں آنے والے سیل رواں کی فکر ہے تو سمجھ لیجئے کہ مسئلہ کشمیر پر چادر پوشی کی جا رہی ہے انڈیا جا جا کشمیر سے نکل جا کی بجائے وہ آ رہا ہے وہ چھا رہا ہے کا نعرہ ہے اور کسے فائدہ پہنچ رہا ہے یہ میں اپنے قاری پر چھوڑتا ہوں
کشمیر کمیٹی کے سربراہ جس کا عہدہ وزیر کے برابر ہوتا ہے حضرت فضل الرحمن کے کیا کارنامے ہیں؟او آئی سی اگر آج ماٹھا ہے تو ان کے دوران کون سا ہمارے ساتھ کھڑا تھا۔اس روز مفتی کفائت اللہ کے ساتھ ایک ٹاک شو میں شریک تھا کہنے لگے ہم سے کعبہ والوں کی سفارش کرائی جا رہی ہے اور ہم نہیں مان رہے۔دیکھ لیجئے ہٹ دھرمی کی حدیں کہاں تک جا پہنچیں پہلی بات ہے ایسی کوئی کوشش تو مجھے نظر نہیں آتی لیکن اگر کسی نے کی بھی ہے تو کعبہ والوں کی نہیں مانیں گے؟تو کیا میڈین البرائٹ کی سنیں گے جس سے وزارت عظمی کی بھیک مانگی تھی مان لینے میں کیا ہرج ہے۔اور ویسے منا لینے میں کیا قباحت ہے جہانگیر ترین ہے ناں؟
اس بات پر بھی حیران ہوں کہ حکومتی صفوں میں چند وزراء ایسے ہیں جو مولانا فضل الرحمن کی حکومت سے لڑائی کو مولوی بمقابلہ عمران خان بتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مجھے دلی دکھ ہوتا ہے کہ علماء کا ایک بڑا طبقہ جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے کیا یہ نادان دوست ان سے بھی ناراضگی مول لینا چاہتے ہیں؟کیا ان کی خواہش ہے کہ عمران خان کو ایک سیکولر اور لبرل بنا کے رکھ دیا جائے۔ایک مزے کی بات سنا کر کالم کو ختم کرنا چاہوں گا ،پی ٹی آئی کو لبرل اور سیکولر بنانے کی خواہش بہت سوں کی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ پارٹی آزاد خیال لوگوں کی ہے ایک بار کوئی صاحب جو لبرل فورم کے صدر تھے وہ پی ٹی آئی میں آ گئے دوران اجلاس انہوں نے عجیب مطالبہ رکھ دیا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ نہ تو تحریک کے دوران لگایا گیا اور نہ بعد میں اب یہ کہاں سے آ گیا ہے کہنے والے کہتے ہیں عمران خان نے انہیں کھری کھری سنا دیں اور تیس منٹ تک تقسیم ہند پر لیکچر دیا۔وہ اکثر اقبال کی سوچ اور فکر پر بات کرتے ہیں انہوں نے دو قومی نظرئے کہ اولین خالق اور پہلے پاکستانی چودھری رحمت علی کو بھی سلام عقیدت پیش کیا۔
قوم اس وقت پریشان ہیں عشارئے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ملک ترقی کی جانب نکل پڑا ہے دو روز پہلے بے جی بھائی جان اور ابا جی کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے گیا تھا گجرانوالہ میں پہلی بار پاور لومز کی آوازیں سنائی دیں۔تاجروں کی کھینچا تانی جاری ہے کمال کا مطالبہ ہے کہ ہم شناختی کارڈ کی کاپی نہیں دیں گے۔یعنی بلیک منی سے کوئی ملک بھی خرید لے تو اسے خریدنے دیں گے۔

قارئین حالات اتنے بھی برے نہیں جتنے بتائے جا رہے ہیں۔اسی گجرانوالہ شہر کے ایک تاجر شوکت علی کو جب بتایا کہ پورے بازار میں پرچی ایک کرنسی ہے کیا آپ نہیں چاہتے کہ کاروبار میں غریب کا بھی حصہ ہو جو خریدے وہ بھی ٹیکس دے اور جو بیچے وہ بھی۔بس اتنی سی کہانی ہے ۔ ایک طرف ملکی معیشت کی ڈانواں ڈول کشتی سنبھل رہی ہے دوسری جانب ایک ارتعاش پیدا کیا جا رہا ہے۔یہ واحدملک ہے کہ جہاں کا سرمایہ دار ٹیکس نہیں دینا چاہتا اور وہ ایک اہم اداارے سے مل کر رعب ڈالنا چاہتا ہے۔کبھی موقع ملا تو انڈس موٹرز اور دوسری کمپنیوں کی معاشی دہشت گردی کی داستانیں شیئر کروں گا بس اتنا بتا دوں ایک بار ایک ہی چیسزنمبرزکی دو گاڑیاں اس کمپنی کی ڈیلر شپ کے استقبالئے پر اکٹھی ہو گئیں ایک اسلام آباد نمبر کی تھی دوسری فیصل آباد کی اس ایک جملے نے بہت کچھ بتا دیا ہو گا۔ڈالر سنبھل گیا تجارتی خسارہ بہتر ہو گیا نیا پاکستان ہائوسنگ کے گھروں کی تقسیم کا کام شروع ہو گیا نوجوان پروگرام بلا سود قرضوں کا اجراء شروع ہیلتھ کارڈ شروع بے نظیر انکم سپورٹ کے اراکین کو اے ٹی ایم شروع بایو میٹرک سے تصدیق بھی ہو گی جعلی لوٹ مار ختم ،سات ہزار بچے صرف اسلام آباد میں اسکولوں کے لئے رجسٹر،سول سروسز ریفارمز ہو گئیں،پنجاب حکومت اسکولوں کے اساتذہ کی نوے فی صد کمی پوری کرنے جا رہی ہے نوکریاں پیدا ہوں گی ،دبئی میں پاکستانیوں کی جائدادوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے جنہوں نے ملک لوٹ کر وہاں پلازے بنائے وہاں کی حکومتی عہدے دار پاکستان آ رہے ہیں،جاپان نے پاکستان کو دس بہترین دوستوں میں شمار کر لیا ہے اس کے فوائد غریب تک پہنچیں گےِبین الاقوامی کمپنی منی گرام پاکستان میں برانچیں کھول رہی ہے اوورسیز پاکستانی اس سے مستفید ہوں گے،اوورسیز پاکستانیوں کے لئے عدالتوں کا قیام کیا جا رہا ہے،قبضہ گروپ جیلوں میں،پونے سات سو ارب سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کے لئے رکھے گئے ہیں،سینئر رٹسٹس اور صحافیوں کے لئے پنجاب گورنمنٹ نے فلاحی اسکیم شروع کر دی ہے،ترکی کا ایک وفد میڈیکل کیئر کے شعبے میں تعاون کے لئے پاکستان آ رہا ہے۔

میں احمد جواد سیکرٹری اطلاعات کا شکر گزار ہوں جنہوں نے معلومات باہم پہنچائیں اور ایک نیا سیل نیریٹو بلڈنگ سینٹر بنایا ہے جو اس قسم کی معلومات دیتا ہے ڈاکٹر نبیل اس کے ہیڈ ہیں۔پی ٹی آئی کو یہ کام بہت پہلے کرنا چاہئے تھا ابھی ابھی خبر ملی کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل کر سفید میں آ گیا ہے۔یہ کام ہی تو ہیں۔مولاناکا اس وقت اس قسم کا یہ کردار مناسب نہیں ۔ایک بات یہ بھی ذہن میں رہے کہ ان کی مخالفت کو مولوی کی مخالفت میں بدلنے والے بھی کچھ صیح نہیں کر رہے۔سب مدارس ایسے نہیں ہیں یہ مدارس جنہیں پرویز رشید دہشت گردی کی کھیتیاں کہتا رہا یہ دہشت گردی کی کھیتیاں نہیں جنت کی کیاریاں نکلیں انہی سے وہ مردان حر نکلے جنہوں نے ١٩٧٤ میں قادیانیت کی سرکوبی کی خود میں مدرسہ اشرف العلوم سے گرفتار ہوا۔اس قسم کے شور شرابے دیکھتا ہوں تو سوال کرتا ہوں یہ کیاہو رہا ہے؟کیا بزور بازو حکومتیں ملا کرتی ہیں؟

Engineer Iftikhar Chaudhary

Engineer Iftikhar Chaudhary

تحریر : انجینئر افتخار چودھری