حج کے دوران غلطی

Hajj

Hajj

تحریر : ڈاکٹر خالد فواد الازہری

بہت سے مسلمان سادہ لوح اور شریعت اسلامی سے ناواقف ہونے کی وجہ سے دوران حج ناقابل تلافی غلطیاں کربیٹھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے حج کو اللہ کے ہاں شرف قبولیت نہ ملنا یقینی ہے ۔حج فرض ہے اور حج کے مناسک کی ادائیگی کے دوران بہت سے فرائض کی مخالفت کی جاتی ہے جب کہ وہ مناسک سنت کے درجے میں آتے ہیں لہذا دین کو درست انداز سے سیکھنا ہر مسلمان پر ضروری ہے تاکہ دین و دنیا کے خسارے سے نجات حاصل کی جاسکے۔

سآج کل حجاج فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ کا سفر کررہے ہیں۔اس میں کو ئی شک نہیں کہ حج ایک بہت فریضہ ہے جس کے ذریعہ سے مسلمان اللہ تعالیٰ سے مغفرت و بخشش اور عفودرگزر کے طالب ہوتے ہیں۔لازمی بات ہے حجاج کے لیے کہ جب وہ اپنے گھروں ،علاقوں سے سفر حج کا قصد کرتے ہوئے نکلیں تو ان کے قلوب و اذہان طااہر و طیب ہوں یعنی ان کے حاشیہ خیال میں بھی کسی مسلمان کے خلاف نہ تو بدشگونی ہواور نہ ہی کسی کو سفر سے پیشتر یا بعد از سفر کسی کو نقصان نہ پہنچائیں۔حجاج حج پر جاتے ہیں تو ان کا ارادہ ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے درگزرفرمائے ،جب سفر حج سے واپس آتے ہیں تو ان کی تمنا و آرزوہوتی ہے اللہ تعالیٰ ان کے اس مالی و جسمانی اور روحانی سفر کو شرف قبولیت بخشے۔

مسلمان حاجی جب شہر حرام میں پہنچتے ہیں تو وہ وہاں پر لاکھوں حجاج کو دیکھتے ہیں جو چہاردانگ عالم کے اسلامی ممالک سے سمٹ کر حج کے لیے پاکیزہ شہر میں آپہنچتے ہیں ذوالحجہ کے مہینہ میں۔حج کے فریضہ میں اصل بات یہ ہے کہ مسلمان دنیابھر کے مسلمانوں سے شناسائی و معرفت حاصل کرے اور کل کائنات کے مسلمانوں کے مابین محبت و الفت کا رشتہ قائم ہوا اور سب ایک ساتھ مل کر مناسک حج اداکریں۔ حج سال میں چونکہ ایک بار فرض ہے تو اس مقدس سفر کی بدولت مسلمانوں کوایک دوسرے کی تکالیف وآزمائشوں سے ناصرف واقفیت حاصل ہوتی ہے بلکہ لازمی ہے کہ مسلمانوں کو مسائل کے گرداب سے نکالیں کے لیے کوششیں بھی بروئے کارلانے کی تدابیر کی جائیں۔

تاہم حج کے موقع پر بعض لوگوں سے ایسی غلطیاں سرزد ہوجاتی ہیں جن کو دورکرنے کے لیے غور و خوض کرنے کی اشد ضرورت ہے۔مثال کے طورپر حجر اسود کو بوسہ دینا سنت ہے۔بہت سے حجاج کرام بزور قوت ،دھکم پیل کے ذریعہ سے حجر اسود کو بوسہ دینے یا چھونے کی کوشش کرتے ہیں۔جس کے نتیجہ میں بہت سے حجاج کو تکلیف پہنچتی ہے اوربہت سے حجاج ایک دوسرے کو نقصان پہنچابیٹھتے ہیں ،کبھی کبھار تو ایسا بھی ہوتاہیے کہ لوگ اس بھیڑ چال کے نتیجہ میں گرپڑتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے پر پھلانگتے چلے جاتے ہیں اور کبھی بچے گرچاتے ہیں اور بسااوقات اموات بھی واقع ہوجاتی ہیں جس کا لمحہ بھر بھی خیال نہیں کیا جاتا۔

مسلمان کی زندگی کی حفاظت کرنا اور کسی مسلمان کو تکلیف و اذیت نہ پہنچانا فرض ہے ،نبی اکرمۖ کا ارشاد ہے کہ ”انسان اللہ تعالیٰ کی عمارت ہے جس نے اس کو نقصان پہنچایا وہ ملعون ہے”۔حجر اسود کو بوسہ دینا سنت ہے کیا یہ درست ہے کہ سنت کی ادائیگی کے لیے فرض سے پہلوتہی برتی جائے کہ لوگوں کی جانوں کو نقصان پہنچایا جائے،جس کی بنیاد غلط فہمی پر مبنی ہو کہ حجر اسود کو بوسہ دینے کے لیے بھیڑ جمع کرلی جائے۔؟؟اسلامی شریعت نے مسلمانوں کے لیے بہت آسانی پیدا کردی ہیں کہ اگر کسی شخص کا ہاتھ حجر اسود تک نہیں پہنچتا تو کافی ہے کہ وہ حجر اسود کی طرف ہاتھ کا اشارہ کرلے۔

بہت سے شعائر اسلام کی ادائیگیوں میں لوگوں کی جانب سے منکرات کا ظہور ہوتاہے جس کے سبب انسان ایک دوسرے کو دکھ اور الم پہنچانے کے موجب بن جاتے ہیں۔اسکی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایک نے اگر زور و زبردستی ایک امر کو سرانجام دینے کی کوشش کی تو دوسرا اس سے زیادہ شدت و قوت کے ساتھ وہ امر سرانجام دینا چاہتاہے جس کے باعث ایک دوسرے کو تکلیف پہنچنا فطرتی بات ہے۔اسی طرح کی غلطیوں میں سے ایک غلطی یہ بھی ہے کہ لوگ راستوں میں چلتے ہوئے اشیاء خورد و نوش کو تناول کرتے ہیں اور کھانے اور پینے کے بعد وہ فاضل کچرامقررہ جگہ پر پھینکنے کی بجائے راستوں اور ٹھہرنے کی جگہوں پر پھینک دیتے ہیں جس کے سبب بدبو و غلاظت کے تعفن کے ساتھ کیڑے اورجراثیم کی نشونما کا مرکز بن جاتے ہیں جس سے انسانوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔اسی طرح منکرات و ناپسندیدہ امور میں سے یہ بھی ہے کہ شیطان کو کنکرمارنے(رمی جمرات)کے وقت عجیب و غریب مخالفت و غلطیوں کا ظہور ہوتاہے کہ لوگ شیطان کو چھوٹے چھوٹے کنکر مارنے کی بجائے اپنی خواہش و آرزوکو شریعت کا حصہ سمجھتے ہوئے جوتے اور مشروبات کی بوتل وغیر ہ اور چیزیں پھینکتے ہیں۔ایسے افعال کے ارتکاب سے شریعت اسلامی کی حدود و قیود کو نقصان پہنچایا جاتاہے نہ کہ نفع۔

اسی طرح حج کے موقع پر ظاہرہونے والے منکرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگ منیٰ میں قیام کے دوران ایسی حرکات سرزد کرتے ہیں جو کسی صورت مسلمانوں کی شان سے مناسبت نہیں رکھتے۔اسلام نے صفائی و طہارت کو دین کا اہم جز قراردیا ہے جبکہ بعض لوگ منیٰ میں قیام کے دوران سونے والوں کے پاس گندگی پھینک دیتے ہیں جس کی وجہ سے کیڑے جمع ہوجاتے ہیں اور حجاج کرام کو اس سے شدید تکلیف پہنچتی ہے ۔اس طرح کے افعا کا سرزد ہونا مسلمانوں کے شیان شان نہیں ۔حج کا سفر پاکیزہ سفر ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ حجاج کے گناہوں کو معاف کردیتاہے اور غلطیوں کو مٹادیتاہے اور تحفةً لوگوں کو ایک نئی زندگی عنایت کرتاہے بعینہ شکم مادرسے پیدا ہونے والے بچے کی طرح گناہوں سے پاک کردیتاہے۔لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کردے اور دوسری جانب لوگ اپنے بھائیوں کو نقصان پہنچارہے ہوں۔دوران طواف لوگوں کے سینوں میں غیظ و غضب موجود ہو اور اپنے افعال کے ذریعہ سے لوگوں کو دکھ اور تکلیف حالت احرام میں پہنچا رہے ہوں۔کیا یہ طواف ہے؟؟کیا یہ عبادت ہے؟؟یقین جانئے اللہ تعالیٰ ایسے افعال کو پسند نہیں کرتااور نہ ہی اللہ تعالیٰ عبادت میں لوگوں نقصان پہنچانے کو پسند کرتاہے۔

آخری بات یہ ہے کہ برصغیر پاکستان و ہندوستان اور بنگلہ دیش و افغانستان وغیرہ کے ہاں ایک عمل رائج ہے کہ حجاج چالیس دن تک دوران حج مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کریں گے۔یہ فعل شریعت اسلامی کے مخالف ہے ۔نبی اکرمۖ نے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ جب کبھی سفر پر جائیں تو اپنی ضرورت اور کام کے مکمل ہونے کے فوراً بعد واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔آپۖ کا ارشادہے کہ سفر عذاب کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑہ ہے ،آپ کو کھانے پینے اور نیند سے روکتاہے،جب اس کی حاجت پوری ہوجائے فوراً اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جائے۔ایسے میں سوچنے کی بات ہے کہ برصغیر کے لوگ کیوں چالیس دن تک مکہ میں رہتے ہیں اور مدینہ میں بھیڑ و جمگھٹا بنائے رکھتے ہیں ۔محسوس یہی ہہوتاہے کہ ان لوگوں نے دین کو اچھی طرح سمجھا نہیں ہے۔اس طرح کی بہت سے مشکلات ہیں جومسلمانوں سے صادر ہوتی ہیں دین کی درست تفہیم نہ ہونے کی وجہ سے اورحج سے واپسی کے بعد اپنے علاقہ و وطن منتقلی کے بعد جو مخالفتیں ظاہر ہوتی ہیں وہ بھی ایک طویل موضوع سخن ہے۔

حج میں ظاہرہونے والیٰ غلطیوںکا تدارک دوران حج اور بعد از حج ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق کو معاف کرسکتے ہیں لیکن انسانوں کو تکلیف و اذیت کسی بھی درجہ میں پہنچانے والوں کے لیے معافی کا دروازہ اسوقت تک بند رہے گا جب تک لوگ انسانوں سے معافی نہ مانگیں۔حج میں وہی انسان طاہر وطیب ہوتاہے جو ماضی کی غلطیوں پر صدق دل سے معافی طلب اور آئندہ غلطی کو نہ دہرانے کا عزم کرتا ہے۔

Dr Khalid Fuaad Al Azhari

Dr Khalid Fuaad Al Azhari

تحریر : ڈاکٹر خالد فواد الازہری