ابھی کل پرسوں

Sad Girl

Sad Girl

میں نے کچھ خواب جلائے تھے ابھی کل پرسوں
جانے کیا ڈھونڈنے آئے تھے ابھی کل پرسوں
دل کی تختی کہ سفیدی سی جمی تھی جس پہ
اس پہ کچھ نقش بنائے تھے ابھی کل پرسوں
خردمندوں کی طرح کیسے مجھے ٹوکتے ہیں
جن پہ آسیب کے سائے تھے ابھی کل پرسوں
لے کے آنکھوں کی اداسی،تیرے چہرے کا سکوت
میں نے کچھ شعر بنائے تھے ابھی کل پرسوں
ہائے وہ شام کے منظر کہ میری آنکھوں کو
چند لمحوں کو ہی بھائے تھے ابھی کل پرسوں
ہم نے الفت کی رہِ خار پہ چلتے چلتے
رنج ہی رنج اٹھائے تھے ابھی کل پرسوں
ہم جہاں بھر کے نکمے تھے فقط عشق کیا
اور بس درد کمائے تھے ابھی کل پرسوں

زریں منور