fbpx

ہانگ کانگ اور ٹوکیو دنیا کے انتہائی مہنگے شہر

Hong Kong - Tokyo

Hong Kong – Tokyo

ہانگ کانگ (اصل میڈیا ڈیسک) دنیا میں تارکین وطن کے لیے دس مہنگے ترین شہروں میں سے چھ ایشیاء میں ہیں اور ہانگ کانگ ان میں سر فہرست ہے۔

ہانگ کانگ میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری مظاہروں کے باوجود اسے مسلسل دوسرے برس بھی یہ’اعزاز‘حاصل رہا جبکہ اشک آباد اور ٹوکیو انتہائی مہنگے چوٹی کے تین شہروں میں شامل ہیں۔

تارکین وطن کے لیے رہائشی اخراجات سے متعلق مرسر کے 26ویں سالانہ سروے کے مطابق دنیا میں چوٹی کے دس انتہائی مہنگے شہروں میں ایشیاء کے چھ شہر شامل ہیں۔ مکانوں کی قیمت اور بہت زیادہ کرایے کی وجہ سے ہانگ کانگ کو دنیا کا سب سے مہنگا شہر قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ ہانگ کانگ میں گزشتہ کئی ماہ سے مظاہرے ہورہے ہیں اس کے باوجود یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب یہ ایشیائی ملک دنیا کا سب سے مہنگا ملک ہونے کا ‘اعزاز‘ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔

سروے میں 209 ملکوں کا جائزہ لیا گیا اور روزمرہ ضروریات اور استعمال کی 200 اشیاء اور خدمات کی لاگت کی بنیاد پرمہنگائی کا تعین کیا گیاہے۔ ان میں مکان، نقل و حمل، کھانے پینے، کپڑے، گھریلو استعمال کی چیزیں اور تفریح شامل ہیں۔

سروے کے مطابق دنیا کا دوسرا سب سے مہنگا شہر ترکمانستان کا دارالحکومت اشک آباد ہے۔ جو ان دنوں افراط زر کی اونچی شرح اور درآمدات نیز خام مال پر آنے والی بھاری لاگت کا بوجھ جھیل رہا ہے۔ فہرست میں تیسرا مقام جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کا ہے۔

مہنگے شہروں کے لحاظ سے سنگا پور اور نیویارک بالترتیب پانچویں اورچھٹے مقام پر ہیں، جبکہ سوئٹزر لینڈ کے شہر زیورخ، برن اور جنیوا کو بالترتیب چوتھا، آٹھواں اور نواں مقام ملا ہے۔ چین کے شہر شنگھائی اور بیجنگ دنیا کے سب سے مہنگے شہروں کی فہرست میں بالترتیب ساتویں اور دسویں نمبر پر ہیں۔

سروے کے مطابق افریقہ میں سب سے مہنگا شہر چاڈ کا نجامنا ہے، جو فہرست میں 15ویں نمبر پر اور سان فرانسسکو سے ایک درجہ آگے ہے۔ نائجیریا کا دارالحکومت لاگوس 17ویں مقام پر ہے اورمہنگے شہر کے لحاظ سے برطانوی دارالحکومت لندن سے ایک درجہ آگے ہے۔

مہنگے شہروں کی فہرست میں تل ابیب مشرق وسطی کا سب سے مہنگا شہر ہے اس کے بعد دوبئی کا نمبر آتا ہے۔ تاہم عالمی فہرست میں تل ابیب 12 ویں نمبر پر اور دوبئی 23 ویں نمبر پر ہے۔

سروے کے مطابق تیونس اور ونڈہوک دنیا کے سب سے سستے شہر ہیں۔

مرسر کی اس فہرست سے کمپنیوں کو بیرون ملک اپنے ملازمین پر ہونے والے اخراجات کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سروے کے ذریعہ تارکین وطن کی رہائش پر آنے والے اخراجات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس برس کے سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایشیائی اورافریقی ممالک غیر ملکیوں کے لیے زیادہ مہنگے ہوتے جارہے ہیں۔