fbpx

بھارت میں شراب نہ ملنے پر سینیٹائزر پینے سے دس افراد ہلاک

Senator

Senator

آندھرا پردیش (اصل میڈیا ڈیسک) بھارت میں کورونا کی وجہ سے نافذ لاک ڈان کے دوران شراب کی عدم دستیابی پر سینیٹائزر پینے کی وجہ سے دس افراد ہلاک ہو گئے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سینیٹائزر شراب کا متبادل نہیں اور اسے پینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے ایک چھوٹے سے قصبے کوریچڈو میں دس افراد کی موت کی وجہ سینٹائزر پینا بنی۔ ان افراد کو شراب میسر نہیں ہوئی کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے جاری لاک ڈان میں قصبے میں شراب کی دکان بند تھی۔ مقامی پولیس نے ان افراد کی وجہ سینیٹائزر پینا بتائی ہے اور یہ بھی بتایا کہ وہ کئی دنوں سے اسے پی رہے تھے۔ سینیٹائزر پینے والے کچھ اور افراد کو ہسپتال میں علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔

ضلعی پولیس کے اعلی پولیس اہلکار سدہارتھ کوشال کا کہنا ہے کہ شراب کی لت میں مبتلا افراد نے شدید طلب سے مجبور ہو کر ایسا کیا۔ ان کے مطابق حالیہ مہینوں میں سینیٹائزر پینے کے چند اور واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ کوشال کا یہ بھی کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈان نافذ ہے اور شراب کی دکانیں بند ہیں اور اس باعث عادی افراد سینیٹائزر پینے کا رسک لیتے ہیں۔

پولیس افسر سدہارتھ کوشال کے مطابق کئی افراد کو سینیٹائزر پینے کے بعد ہسپتال پہنچایا گیا اور علاج معالجے سے ان کی زندگیاں بچ گئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا بعض سینیٹائزر پینے والے افراد کی موت دوسری صحت کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہونے کا امکان بھی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ آندھرا پردیش میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران کووڈ انیس بیماری میں اضافہ نو گنا ہو چکا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں اس وبا میں اضافہ تین گنا بتایا گیا۔ بھارتی ریاستوں میں ہر دس لاکھ افراد پر سب سے زیادہ کورونا ٹیسٹنگ بھی آندھرا پردیش میں ہو رہی ہے۔

بھارتی وزارت صحت کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں میں سارے ملک میں کورونا وائرس کی لپیٹ میں آنے والے نئے مریضوں کی تعداد ستاون ہزار سے زائد ہے۔ محکمہ ہیلتھ کے مطابق اسی عرصے میں سات سو اناسی افراد ہلاک ہوئے۔ بھارت میں کورونا وبا سے ہونے والی ہلاکتیں پینتیس ہزار سات سو سے بڑھ چکی ہیں۔ بھارتی محکمہ صحت نے یہ بھی بتایا کہ کورونا ٹیسٹنگ کی سہولت میں جلد اضافہ کر دیا جائے گا۔

ہندو قوم پرست سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے چند روز قبل لاک ڈان سے بند یوگا مراکز اور ورزش کے مقامات یعنی جِم دوبارہ کھولنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کے گھروں سے نکلنے کے ساتھ ساتھ سامان کی نقل و حمل پر عائد پابندی کو بھی ختم کر دیا ہے۔