بھارت: دو ریاستوں کے سرحدی تنازعے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک

India States - Border Disputes

India States – Border Disputes

آسام (اصل میڈیا ڈیسک) بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ تشدد کے بعد اب حالات قابو میں ہیں اور صورت حال پر اس کی نظر ہے۔ گزشتہ روز ریاست آسام اور میزورم کے درمیان تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں دونوں جانب سے خوب گولیاں چلیں۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام اور میزورم کے درمیان سرحدی تنازعہ کافی پرانا ہے تاہم 26 جولائی پیر کی شام کو اس حوالے سے دونوں کے درمیان خونریز جھڑپیں شروع ہوئیں جس میں ریاست آسام کے چھ پولیس اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ حالات پر قابو پانے کے لیے بھارتی حکومت نے سینٹرل ریزرو پولیس فورسز کو تعینات کیا ہے اور اب حالات قابو میں بتائے جا رہے ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارتی وزير داخلہ امیت شاہ نے چند روز قبل ہی سرحدی تنازعات سے متعلق شمال مشرقی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک میٹنگ کی تھی اور مسائل بات چیت سے حل کرنے پر زور دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق آسام کے سرحدی ضلع کچار کے لیل پور گاؤں اور اس کے پڑوس میں میزورم کے ایک گاؤں کے درمیان غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کے لیے آسام پولیس نے ایک مہم شروع کی تھی جس کی وجہ سے اس علاقے میں کئی دنوں سے حالات کشیدہ تھے۔ یہی کشیدگی بالآخر دو ریاستوں کی پولیس کے درمیان خونریز جھڑپوں کی وجہ بنی۔

آسام کے وزير اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کا الزام ہے کہ میزورم کی پولیس نے آسام پولیس کے خلاف مشین گنوں کا استعمال کیا۔ انہوں نے ہسپتال کا دورہ کرنے کے بعد کہا، ’’آسام کے چھ پولیس اہلکار ریاست کی سرحد کی حفاظت کرتے ہوئے ہلاک ہوگئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں جو اسپتال میں زیر علاج ہیں۔‘‘

ادھر میزورم کے وزیر اعلیٰ زورام تھانگا نے ایک بیان میں ریاست آسام کی جانب سے، ’’در اندازی، جارحیت اور اس کی غیر منصفانہ کارروائیوں‘‘ پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے بلااشتعال تشدد اور نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا اس سے بچا بھی جا سکتا تھا۔

اس دوران دہلی میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے بات چیت کی ہے اور کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی حالات پر گہری نظر ہے اور اب حالات پوری طرح سے قابو میں ہیں۔ اس تشدد سے متعلق جو ویڈیوز منطر عام پر آئی ہیں اس میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر فائرنگ کرنے اور حملے کرنے کے ہولناک مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

آسام نے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر تعزیت کے لیے تین روز کے لیے سرکاری ریاستی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ریاستیں اس تشدد اور کشیدگی کے لیے ایک دوسرے پر الزام عائد کر رہی ہیں۔ ریاست آسام کا کہنا ہے اس تشدد میں اس کے پچاس سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی نے سرحدی تنازعے پر اس طرح کے تشدد کے لیے مرکزی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ وزیر داخلہ ایک بار پھر پوری طرح سے ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ حزب اختلاف کے بعض دیگر رہنماؤں نے اس تشدد کے لیے مرکزی حکومت پر نکتہ چینی کی ہے۔

ریاست آسام اور میزروم کے درمیان ڈیڑھ سو کلومیٹر سے بھی زیادہ طویل سرحد ہے تاہم اس سرحد سے متعلق دونوں کے درمیان ابتدا ہی سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور وقتاً فوقتا دونوں میں تکرار ہوتی رہتی ہے۔ گزشتہ جون میں بھی اسی طرح کا ایک واقعہ پیش آيا تھا جس کے بعد دونوں جانب کے لوگوں میں پر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔

تاہم دونوں ریاستوں کی پولیس کے درمیان اس طرح کی خونریز جھڑپوں کا شاید یہ پہلا واقعہ ہے جب پولیس عملے کی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ کافی توڑ پھوڑ بھی کی گئی ہے۔

سن 1972 سے پہلے تک میزورم ریاست آسام کا ہی ایک حصہ تھا جسے اس دور میں ’لوشائی ہلز‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ تاہم طویل جدوجہد کے بعد سن 1972 میں اسے ایک نئی ریاست کا درجہ دیا گيا اور تبھی سے دونوں میں سرحدی تنازعہ جاری ہے۔