fbpx

یہ کمپنی چلا کے دکھائیں گے

Inflation

Inflation

تحریر : انجینئر افتخار چودھری

جی مارے گئے ہیں مہنگائی بہت ہے جب سے تبدیلی آئی ہے ہم تو مر گئے ہیں۔میں نے بحریہ ٹاؤن کے باہر ایک دکان کے مالک سے گفتگو کی ان میں سے چند کلمات نوٹ کر دئے ہیں۔مٹھے ایک موسمی پھل ہے جو آج کل مارکیٹ میں موجودہے۔بھائی ریاض کے پاس جا رہا تھا سوچا فروٹ لے چلو بھاؤ تاؤ کیا ایک سو اسی روپے کے درجن لئے کچھ اور سودہ خریدا ہزار کا نوٹ صرف کیا۔اسی روز جب اپنے گھر واپس لوٹ رہا تھا ایئر پورٹ سوسائٹی کے راستے میں نئے قبضے کے تھڑے بنے ہیں ریہڑیاں لگ گئی ہیں یہاں سے یہ مٹھے ڈیڑھ سو روپے ملے۔آگے نکلیں تو سوسائٹی شروع ہو جاتی ہے جس کے دروازے پر ریلوے نے مہربانی کی ہے ایک نرسری بنوا دی ہے زمین لیز پر دے کر موجودہ ریلوے منسٹر اورایم این اے نے اس سوسائٹی کو یہ تحفہ دیا ہے کہتے ہیں قانون اجازت نہیں دیتا کہ سوسائٹیوں پر رقم کی جائے البتہ قانون ووٹ مانگنے کی پابندی نہیں لگاتا یہ شق کسی جگہ موجود نہیں ہے اس سے سوسائٹی کے ہزاروں لوگ پریشان ہیں میں کوشش میں لگا ہوا ہوں کہ معاملات حل ہو جائیں۔قبضہ گروپ اتنا تگڑہ ہے کہ کہ اس نے میری شکائت پر میرے خلاف دعوی کر دیا ہے۔میں تو بھگت لوں گا مگر اللہ تو ہے ناں

مہنگائی کا جعلی سیلاب ہمیں لے ڈوبے گا اگر اس پر قابو نہیں پایا تو معاملات بگڑ سکتے ہیں۔میں ایک بات بتا دوں اتنی مہنگائی نہیں جتنا شور ہے اس وقت مارکیٹ کی سیلف ڈرائیو نے ہر شخص کو ٓزادی دے رکھی ہے۔کہ وہ اپنی مرضی سے قیمتیں بڑھا رہا ہے،وہ مٹھے جو بحریہ ٹاؤن کے دروازے پر ۰۸۱ روپے کے ایئر پورٹ سوسائٹی کے مدخل پے ۰۵۱ روپے اور تیسری بات سن لیجئے ایک پرائیویٹ سٹور سے بیگم نے شاپنگ کی تو ۰۹ روپے درجن ملے ہیں۔اس پر بحث کی جائے کہ کون چور ہے؟ برادر زید حبیب کا دکھ ٹھیک ہے لیکن ساری باتیں سچ بھی نہیں ہیں چینی کی قیمت والا ایک بورڈ دکھایا گیا کہ چینی ۵۱۱ روپے کلو ہے یقین کیجئے میں نے بڑے باوثوق ذرائع سے تحقیقی کرائی میٹرو پر چینی ۵۸ روپے کلو تھی اور جس سٹور سے بیگم سودہ لائی وہاں ۴۹ روپے تھی۔میں اب اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ اسی فی صد شوگر کی ملیں نواز شریف اور زرداری کی ہیں یعنی یہ تو بات تومجھے کہنے کی اجازت دیں کہ چوروں نے شور مچا رکھا ہے۔

آپ سختی کر کے دیکھ لیں برادر اجمل بلوچ اور کاشف چوہدری نہیں چھوڑیں گے
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے گڈ گورننس کا اس بات پر میں اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اپنے گھر کی منجی تلے ڈانگ مارنا چاہتا ہوں۔گرچہ اب وہ لمبے بالوں والے اور ویگو ڈالوں والوں کی بد معاشی ختم ہو گئی ہے مجھے پورے پنجاب کا علم ہے کہ اب وہ پہلے والی بد معاشیاں نہیں چلتیں۔گجرانوالہ کے ایک ہوٹل میں کھانا کھا رہا تھا ایک کروزر آ کے رکی اس کے ساتھ دو ڈالے تھے لمبے بال لمبے چولے خاکی جیکٹیں لگ یہ رہا تھا کہ میں ہوٹل میں نہیں کسی علاقہ غیر میں آ گیا ہوں۔مجھے بتائیے کیا اب ایسا ہوتا ہے۔اسی سوسائٹی میں رہتا ہوں یہاں کے پھنے خانوں کی شلواروں کے آزار بند کاٹے جاتے رہے تھے آج میں دیکھ رہا ہوں کہ شیڈول ۴ کے ملزم جیلوں میں بند کر دئے گئے ہیں۔لوگ کہیں گے کہ آپ سیاسی مخالفت کرتے ہیں کسی کی مجال نہیں تھی کہ یہاں کے زمینی خداؤں اور ان کے ساتھیوں کی بد معاشیوں پر آواز اٹھا سکتا تھا یہ احسن یونس ہی ہے اور علی شاہ جن کی ٹیم نے نتھ ڈال دی ہے خدا کی قسم لوگ دبکے ہوئے تھے سہمے ہوئے تھے۔جواد شاہ نے توں کڈ کے رکھ دیا ہے۔پنجاب بدلا ہے لیکن جناب بزدار اتنا بھی نہیں بدلا جتنا افتخار کہہ رہا ہے ابھی بھی

کہاں کا مہر منور کہاں کی تنویریں کہ بام و در پے سیاہی ڈھلک رہی ہے ابھی

ابھی بھی لوگوں کو جعلی مہنگائی کا سامنا ہے۔ابھی بھی ایئر پورٹ سوسائٹی جیسی حالت ہر جگہ ہے ماں نے شہر یار آفریدی کم ہی پیدا کئے ہیں جنہوں نے دھرتی کے ناسوروں کو سور بنا کے رکھ دیا تھا ۔اسے وقت کے فرعونوں نے قتل کی دھمکی دی مگر وہ جس کا ایمان ہے کہ جان اللہ کو دینی ہے اسے کیا ڈر۔یہ پیپلز پارٹی کے لیڈروں کے گھرانے کا حال ہے جو رات ٹی وی پر بیٹھ کر قانون کی حکمرانی کا نعرے لگاتے ہیں۔یہاں کوئی راجہ بھی تھا جو افغانستان کے بارڈر سے گرفتار ہوا سوزوکی ڈرائیور سے ٹائیکون بننے میں اسے دس سال لگے اور وہ دس سال سنہرے سال پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے تھے۔حرام کی دولت کا خمار آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی آج ایک بیرسٹر کو قتل کرنے کے بعد سلاخوں کے پیچھے بیٹھا راگ الاپ رہا ہے۔یہ کمپنی کب ختم ہو گی

ان مکر و فریب کے کھلاڑیوں نے جو انھی پائی ہوئی تھی وہ تو کہیں نہیں ہے لیکن جناب بزدار یہ آپ کے کمشنر کیا کر رہے ہیں شنید ہے یہ خوش الحان قاری کے صاحبزادے ہیں یہ ہمیں کب خوشی دکھا رہے ہیں کیا اسی طرح مہنگے سودے بکتے رہیں گے یہ آپ کے اے سی ڈی سی کس مرض کی دعا ہیں کہاں ہیں وہ مجسٹریٹ جو کبھی مارکیٹوں میں آتے تھے لوگوں کو ان جعل مہنگائی کرنے والوں کی ناک میں دم کرتے تھے

جناب کمشنر صاحب آپ کو منو بھائی کی پنجابی نظم بھی نہیں آتی صاحب بہادر کب آپ اپنے کمروں سے نکلیں گے یہ سارا کام عمران خان نے ہی کرنا ہے تو آپ معاف کرنا ایسا نہیں چلے گا۔آ پ کا ڈی سی اتنا مغرور ہے کہ ڈینگی کے دنوں میں دس بار کہا کہ کار واشنگ اسٹیشن بند کریں اچھا اچھا کرتے کہیں اور چلے گئے۔حضور یہ کمپنی نہیں چلے گی کہ آپ اس کے سربراہ ہوں آپ کے نیچے ڈی سی ہوں اور ان کے نیچے اے سی اوں کی بھرمار نتیجہ صفر۔مرنا آپ نے بھی ہے اور ہم نے بھی۔یہ سوال عوام ہم سے پوچھتے ہیں کہ ووٹ دیا تھا آپ کے ساتھ مظاہروں میں گئے تھے۔کبھی الیکشن کمیشن کے سامنے کبھی وزارت خارجہ کے باہر کبھی دھرنے میں آنسو گیس لاٹھیاں کھائیں۔کیا اس لئے کہ ہم میں سے طاہر آصف چودھری بولے تو اسے اٹھا لو حراست میں مر جائے تو کہہ دو دل کا دورہ تھا ہسپتال کچھ کہے پولیس کچھ کہے جناب کمشنر صاحب میں نے عثمان بزدار سے بات نہیں کرنی عوام نے آپ سے پوچھنا ہے۔احسن یونس تو اپنا کام کر رہے ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ کب راولپنڈی کے لوگوں کو ریلیف دینا ہے میرا سوال چیف سیکرٹری سے بھی یہی ہے کہ آپ جو روز عثمان بزدار صاحب کو سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں کیا آپ نے جان اللہ کو نہیں دینی آپ کا کمشنر سو رہا ہے آپ کا ڈی سی اونگھ رہا ہے آپ کا اے سی موجیں مار رہا ہے مجھے یہ بتائیں کہ کیا یہ کمپنی ایسے ہی چلے گی۔اس لکھاری کی نیت اور تھی اس کا کہنا کچھ اور تھا اس کے پیچھے نوٹ تھے میرے پیچھے وہ ووٹ ہیں جو جناب عمران خان کے بکسے میں ڈلے تھے اور ۵۲ جولائی ۸۱۰۲ کو ایک آواز آئی تھی کہ اب بدلے گا پاکستان اور اسے بدلیں گے ہم۔یہ ہم نے ہی کہا تھا اب نہیں تو کب ہم نہیں تو کون

حضور اس ملک کو چلنے دیں بیورو کریسی کے بارے میں اجمل نیازی نے کیا خوب کہا تھا جو کریسی مندہ کریسی سر یہ تو بتائیں چنگا کد کریسو؟

جعلی یہ مہنگائی مزدور نے اپنی دیہاڑ ایک ہزار کر لی،ٹھیلے والے نے عمران خان کو گالی دے کرسودہ سو فی صد مہنگا بیچ لیا مارا گیا تنخواہ دار وہ تنخواد دار جس نے حلال کھانا ہے حرام والوں کا ریٹ بڑھ گیا ہے طاہر آصف چودھری نے بھی یہی کہا تھا ناں کہ اب پٹواری کا ریٹ دوگنا ہو گیا ہے وہ لوگوں کو کہتا ہے آپ کو علم ہے تبدیلی کے دور میں پکڑے جانے کا مطلب موت ہے۔

چورو اور ڈاکوو خدارا لوگوں کی جان کو امان بخشو میرے گھر دس ماہ پہلے ڈاکہ پڑا وہ بے غیرت بھی یہی کہہ رہے تھے کہ ہمارے لئے حلال کمائی کے راستے بند ہیں ہم ڈاکہ اس لئے مار رہے ہیں کہ ہمارے بچے بھوکے مر رہے ہیں۔کیا مہنگائی نے نسل آدم کو مجبور کیا کہ وہ ڈاکے مارے۔رجھے ہوئے پھٹے ہوئے لوگو تم بھوک کے ڈر سے نہیں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے لئے ڈاکے مارتے ہو۔

کرونا میں لوگوں نے کس قدر خیرات کی اپنے لوگوں کے دکھوں کو جانا نوکروں کو چھٹیاں دیں تنخواہیں دیں۔یہ پاکستان ہی تھا جس میں یہ سب کچھ ہوا اب لوگو سوچو کہ کیا کرنا ہے کیا۔اسی طرح ملک کو چلنے دینا ہے یا صیح معنوں میں تبدیلی لانی ہے۔کم لوگ جانتے ہیں کہ اور بہت ہی کم لوگوں کو علم ہے کہ اس پاکستان میں عبدالستار ایدھی ختم نہیں ہوئے یہاں ایک سپر سٹور کھلا ہے وہاں جا کر احساس ہوا کہ احساس مرا نہیں زندہ ہے۔تزئین اختر نے زبردست مشورہ دیا کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو اس شخص کے حوالے کر دو حکومتوں کا کام کاروبار کرنا نہیں چھیچھڑے بلی کے حوالے نہ کریں۔میں لکھ کے دیتا ہوں اگر یہ یوٹیلٹی سٹورز اس شخص کو دے دیں جس نے کراچی لاہور گجرانوالہ اور اب پنڈی میں چینز کھولیں ہیں تو مصنوعی مہنگائی ختم ہو جائے گی۔

کہاں ہیں وہ تاجر جن کے بارے میں نبی پاکھضرت محمد ﷺ خاتم النبیین نے کہا تھا ایماندار تاجر میرے ساتھ ہو گا۔
اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو سچ پوچھیں ایسی کمپنی نہیں چلے گی۔لیکن ہم نے بھی عہد کیا ہوا کہ اگر اور بہت سے کام کر لئے ہیں ہیں قوم کا وقار بلند کیا ہے تو انشاء اللہ یہ کمپنی چلا کے دکھائیں گے۔

Engr iftikhar Chaudhry

Engr iftikhar Chaudhry

تحریر : انجینئر افتخار چودھری