ایران جوہری معاہدے سے قبل سے بھی زیادہ وسیع پیمانے کا جوہری پروگرام چلائے گا

Javad Zarif

Javad Zarif

تہران (جیوڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک کی جانب سے جوہری معاہدے کے تحفظ پر مبنی اقدامات نہ اٹھانے کی صورت میں ان کا ملک جوہری پروگرام کو معاہدے سے قبل سے بھی زیادہ وسیع پیمانے پر جاری رکھے گا۔

وزارت ِ خارجہ میں پریس کانفرس دینے والے ظریف نے بتایا کہ اگر یورپی فریق ممالک نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کی تو ایران، امریکہ کی پابندیوں کے خلاف جوہری معاہدے کی ضمانتوں میں گراوَ لانے کے اقدامات کو جاری رکھے گا ، لہذا یورپ کو چاہیے کہ یہ معاہدے کا تحفظ کرے۔

جوہری معاہدے کے خاتمے کی صورت میں ایران کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں خبردار کرنے والے ظریف نے بتایا کہ “اگر معاہدے کا تحفظ نہ کیا گیا تو پھر ہم اپنے جوہری پروگرام کو معاہدے سے قبل کے دور سے بھی کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر جاری رکھ سکتے ہیں۔”

امریکہ کی ان پر پابندیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ظریف نے بتایا کہ “مجھ پر پابندیاں عائد کرنے کی واحد وجہ میرا ایرانی عوام کا ترجمان ہونا ہے، امریکی انتظامیہ میں بعض شخصیات ڈپلومیسی کی دشمن ہیں۔ ”

گزشتہ ماہ نیو یارک کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس طلب کیے جانے کے دعووں کی تصدیق کرتے ہوئے ایرانی وزیر نے بتایا کہ نیو یارک میں اس دعوت کو مسترد کرنے پر دو ہفتوں کے اندر پابندیوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کا کہا گیا تا ہم میں نے اس پیش کش کو ٹھکرا دیا۔

ایران کے متحدہ امریکہ سے مذاکرات نہ کرنے کی وضاحت کرنے والے ظریف کا کہنا تھا کہ”کیا امریکہ میں انقلاب برپا ہوا ہے کہ ہم ان سے دوبارہ مذاکرات کریں؟ امریکہ مذاکرات کا دعوی نہیں کرسکتا کیونکہ اس نے مذاکرات کی میز کو بذاتِ خود ترک کیا تھا۔ ”

برطانیہ کے ساتھ ٹینک بحران کا بھی ذکر کرنے والے ظریف نے کہا کہ”برطانیہ کی جبل طارق میں کاروائیاں بحری لوٹ مار ہیں، یرغمال بنایا جانے والا ٹینکر شام نہیں جا رہا تھا۔ ”

ظریف نے برطانیہ پر تہران کے خلاف پالیسیوں کے ذریعے”امریکی اقتصادی دہشت گردی میں شراکت داری” کرنے کا موردِ الزام ٹہرایا ہے۔