fbpx

ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی اطلاعات غلط ہیں، امریکا

Iran

Iran

امریکا (اصل میڈیا ڈیسک) امریکا کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے سے متعلق اطلاعات قطعی درست نہیں ہیں جبکہ ایرانی میڈیا نے قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں ایک معاہدہ ہونے کی بات کہی تھی۔

امریکا نے ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے کسی بھی مبینہ معاہدے سے انکار کیا ہے جبکہ ایران کے ایک سرکاری میڈیا ادارے اور ایران حامی ایک لبنانی ٹی وی چینل نے خبریں نشر کی تھیں کہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ اس بارے میں اطلاعات، ”سچ نہیں ہیں۔” وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف رون کلین نے بھی امریکی میڈیا سے بات چیت میں ان خبروں کی تردید کی اور کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے، ”کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔”

ان بیانات کے بعد اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر ماجد تخت روانچی نے بھی کہا کہ اس حوالے سے خبریں غیر مصدقہ ہیں۔ ایران کی سرکاری میڈیا سے وابستہ ‘ینگ جرنلسٹ کلب’ نے ان کے حوالے سے بتایا کہ ایران میں، ”امریکی قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے حوالے سے خبر کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔”

اس دوران برطانوی حکام نے ایرانی نژاد برطانوی شہری اور معروف کارکن نازنین زغاری ریٹکلف کی ممکنہ رہائی سے متعلق ایک علیحدہ معاہدے کے بارے میں بھی غیر مصدقہ اطلاعات کو نظر انداز کر دیا ہے۔

ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا اس طرح کی اطلاعات ویانا میں جوہری معاہدے پر جاری مذاکرات میں خلل ڈالنے یا پھر موقف کو سخت کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں یا نہیں۔

قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے سب سے پہلے ایران حامی لبنانی ٹی وی چینل نے خبریں نشر کی تھیں پھر اس کے بعد ایران کے ایک

سرکاری چینل نے بھی نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر سرکاری حکام کے حوالے سے یہ خبر نشر کی کہ امریکا اور برطانیہ سے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران نے چار امریکی قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کر لیا ہے جس کے بدلے میں امریکا تمام ایرانی قیدیوں کو رہا کر دے گا۔ ان اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا کہ معاہدے کے تحت امریکا نے ایران کے منجمد تقریبا ًسات ارب ڈالر کے اثاثے بھی جاری کرنے سے اتفا ق کیاہے۔

خبروں میں ایک غیر مصدقہ معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ نازنین زغاری ریٹکلف کی رہائی کے بدلے میں برطانیہ نے بھی چالیس کروڑ پاونڈ کی رقم ایران کو ادا کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ جبکہ برطانوی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ برطانیہ اس کیس کے حل کے لیے اپنی کوششیں مستقبل میں جاری رکھے گا۔

گزشتہ ہفتے ہی تہران کی ایک عدالت نے نازنین زغاری ریٹکلف کو مزید ایک برس قید کی سزا سنائی تھی جنہوں نے اپنی پانچ برس قید کی سزا پہلے ہی مکمل کرلی تھی۔ زغاری کے شوہر رچرڈ ریٹکلف نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات چیت میں کہا کہ انہیں قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے کسی معاہدے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں اور اس وقت وہ اس حوالے سے شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں۔

قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے یہ خبریں ایسے وقت آئیں جب ایران کے رہبر اعلی ایت اللہ علی خامنہ ای کا اہم خطاب ہو رہا تھا۔ تاہم انہوں نے بھی اس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ البتہ انہوں نے وزیر خارجہ جواد ظریف کی مبینہ لیک آوڈیو ریکارڈنگ پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ یہ بہت بڑی غلطی تھی۔

اس آڈیو ریکارڈنگ میں ایرانی وزیر خارجہ نے معروف ایرانی فوجی جنرل قاسم سلیمانی پر بھی نکتہ چینی کی تھی جنہیں امریکا نے گزشتہ برس ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔ اس آڈیوکے منظر عام پر آنے کے بعد جوادظریف نے اپنے تبصروں پر معذرت پیش کی ہے۔

ایران میں آئندہ 18 جون کو صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس میں خود جواد ظریف بھی ایک اہم اور مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔