ایران: پانی اور بجلی کی قلت کے خلاف مظاہروں میں شدت

Protest

Protest

تہران (اصل میڈیا ڈیسک) ایران میں پانی اور بجلی کی قلت کے خلاف مظاہرے دارالحکومت تہران تک پہنچ گئے۔ مظاہرین نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف بھی نعرے لگائے۔ گزشتہ دس دنوں سے جاری مظاہروں میں اب تک متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایران کے صوبہ خوزستان میں پانی کی کمی پرگذشتہ ہفتے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے دارالحکومت تہران تک پہنچ گئے۔ پیرکے روز مظاہرین نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف بھی سخت نعرے بازی کی۔ سوشل میڈیا پرموجود ان مظاہروں کی ویڈیوز میں مظاہرین کو ‘مرگ برآمر‘ کے نعرے لگا تے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

سرکاری حکام نے مظاہروں کے دوران پانچ افراد کی ہلاکت کی بات کہی ہے تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں شہری اور پولیس اہلکار دونو ں شامل ہیں۔

ایران میں اس برس 50 فیصد بارش کم ہونے کی وجہ سے بجلی بہت کم پیدا ہوسکی ہے اور امریکا کی جانب سے نافذ پابندیوں کے سبب پہلے سے ہی مسائل سے دو چار اسلامی جمہوریہ کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

پیر کے روز مظاہرین نے تہران کے مرکزی علاقے جمہوری اسلامی ایونیو میں مارچ کیا۔

گوکہ مظاہرہ پرامن رہا تاہم مظاہرین میں شامل کچھ لوگوں نے ”مرگ بر آمر” کے نعرے لگائے۔ ایران میں اس طرح کے نعرے لگانے والے کو گرفتار کیا جاسکتا ہے اور اسے سزا بھی ہوسکتی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ مظاہرین کی تعداد بہت محدود تھی، ”تقریباً پچاس لوگ تھے۔” تاہم سوشل میڈیا پرموجود غیر مصدقہ ویڈیو زمیں مظاہرین کی خاصی تعداد دیکھی جا سکتی ہے۔

مظاہرین نے ایران کی خارجہ پالیسی کی مخالفت میں بھی نعرے بازی کی ہے۔ ایک ویڈیو میں انھیں یہ نعرہ لگاتے ہوئے سنا جاسکتا ہے”غزہ یا لبنان کے لیے نہیں، میں نے ایران کے لیے اپنی زندگی قربان کی ہے۔‘‘

نیشنل کونسل آف ریزرٹنس ایران کے رکن علی صفوی کی جانب سے شئیر کی گئی ایک ویڈیو میں ‘مرگ بر آمر‘ کے نعرے سنے جا سکتے ہیں۔

مظاہروں کے ایک گھنٹہ کے بعد، تہران کے نائب گورنر، حامد رضا گدرزی نے جمہوری اسٹریٹ پر ہونے والی ریلی کے بارے میں مقامی میڈیا کو بتایا ‘علاءالدین گزرگاہ میں بجلی کی پریشانی تھی جس کی وجہ سے کچھ عدم اطمینان افراد کا مظاہرہ ہوا، حالات اب معمول پر ہیں۔‘

حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جنوب مغربی صوبے خوزستان میں پانی کی قلت کی وجہ سے شروع ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ‘سخت خشک سالی‘ کی وجہ سے ڈیموں میں پانی کی کمی ہوگئی ہے جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار کا کام مفلوج ہوگیا ہے۔ بلیک آوٹ کی وجہ سے تہران اور ایران کے دیگر اہم شہر بھی متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری طرف بجلی کی مانگ بڑھ گئی ہے لیکن مانگ پورا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

ہفتے کے روز ایران کے شمال مغربی صوبہ مشرقی آذربائیجان کے دارالحکومت تبریز میں بھی خوزستان کے حق میں ریلیاں نکالی گئی تھیں۔

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعے کو اپنے خطبے میں کہا تھاکہ خوزستان کے وہ ایرانی شہری جو پانی کی کمیابی پر احتجاج کر رہے ہیں، بے قصور ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ جلد از جلد پانی کی فراہمی کا مسئلہ حل کیا جائے۔

علی خامنہ ای کا کہنا تھا ”لوگوں نے اپنا غصہ، اپنی ناراضگی ظاہر کی لیکن ہم ان پر کسی قسم کا الزام نہیں لگا سکتے، یہ مسائل جلد حل ہونے چاہیں۔ اب، الحمدللہ، تمام سرکاری اور غیرسرکاری ذرائع اس کوشش میں ہیں کہ پانی کی فراہمی کا یہ مسئلہ جلد از جلد حل کیا جا سکے۔”

صدر حسن روحانی نے رواں ماہ کہا تھا کہ ایران ایک ‘غیر معمولی‘ خشک سالی سے گزر رہا ہے، پچھلے سال کے مقابلہ میں اوسط بارش 52 فیصد کم ہے۔

ایران، امریکا کی طرف سے عائد پابندیوں کی وجہ سے پہلے سے ہی پریشانی سے دوچار ہے۔ کورونا وائرس کی وبا کے بعد بجلی اور پانی کے مسئلے نے ایرانی حکام کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔