ایرانی جرنیل کی شہادت عالمی سانحہ

General Qasem Soleimani

General Qasem Soleimani

تحریر : مبارک علی شمسی

3 جنوری بروز جمعتہ المبارک کی دھند میں لپٹی ہوئی منحوس صبح ایک درد ناک خبر کیساتھ نمودار ہوئی جس نے پوری امت مسلمہ کو کرب میں مبتلا کر دیا اور دنیا کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔ اور اس افسوس ناک واقعہ پر ہر آنکھ اشک بار ہے اور ایران میں امریکہ خلاف مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں اور ایرانیوں میں شدید غم و غصہ کی لہر پائی جاتی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ بغداد کے ایئر پورٹ کے نزدیک امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کی شہادت ہے۔ اور امریکہ نے بھی اس کی ذمہ داری کو قبول کر لیا ہے اور ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ٹرمپ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹر پر امریکی جھنڈا پوسٹ کیا ہے۔ اور اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے ہزاروں امریکیوں کو مارا ہے۔

انہوں نے میڈیا کو بتاتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ نہیں چھیڑنا چاہتے تھے ہم تو جنگ کا خاتمہ چاہتے تھے جس کیلئے قاسم سلیمانی کو راستے سے ہٹانا از حد ضروری تھا۔ اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ امریکہ مسلم ممالک کیخلاف الزام تراشی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا اور مسلم دشمنی کیلئے کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور جب ثبوت طلب کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو امریکہ چپ سادھ لیتا ہے اور امریکہ کی اس خاموشی سے اس کی مکاری منافقت اور مسلم دشمنی کی قلی چاک ہو جاتی ہے۔ اور اس بات سے بھی روگردانی نہیں کی جا سکتی بلکہ یہ بات تو تاریخ کے پنوں پہ آج بھی نمایاں ہے کہ امریکہ ماضی میں بھی مسلم ممالک کیخلاف ایسی بزدلانہ تخریبی کاروائیاں کرتا رہا ہے۔ 1998 ء میں جب امریکی صدر کلنٹن کو مواخذہ کی تحریک کا سامنا تھا تو اس نے جوہری ہتھیاروں کا الزام لگا کر عراق پر حملہ کر دیا تھا اور بعد میں جب امریکی صدر باراک اوبامہ کو اسی تحریک کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے اسامہ بن لادن کا الزام لگا کر افغانستان پہ جنگ مسلط کر دی تھی اور اب جب امریکہ میں نئے الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور ٹرمپ کو بھی اسی تحریک کا سامنا ہے جس سے جان چھڑوانے کیلئے اور الیکشن میں لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے اس نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کروایا ہے۔ اس حملے میں ایرانی قدس کے جنرل قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی کے ڈپٹی ہیڈ ابو مہدی المہندس سمیت 9 آدمی شہید ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے جبکہ اسی رات کی تاریکی میں امریکہ کی جانب سے دوسرے حملے کی اطلاعات بھی ملی ہیں جس میں عراقی شیعہ ملیشیاوْں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں 6  آدمی اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں حالات کافی حد تک کشیدہ ہیں اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ پیشرفت سے خطے کے امن کو شدید خطرہ لاحق ہے اور اس عالم رنگ و بو میں تیسری عالمی جنگ کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔

ملت اسلامیہ کا ایک عظیم سرمایہ اور ایک بہادر لیڈر اس دنیا سے چلا گیا جس نے اپنی بصیرت اور شجاعت سے دشمنوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اس نڈر جرنیل کو عالمی دہشتگرد تنظیم داعش کے سربراہ ابو بکر بغدادی نے انہیں زندہ پکڑ کر جلانے کی دھمکی دی تھی جس کے جواب میں اس بلند حوصلہ جرنیل نے کہا تھا کہ اے ابو بکر مجھے بستر پر نہیں مرنا اور یہ بات بھی ذہن نشین رکھنا کہ جب تم مجھے دھمکی دے رہے تھے تو میں مسجد کے اندر موجود تیسری صف پر بیٹھ کر تیری بکواس سن رہا تھا۔ اگر میں چاہتا تو تجھے اسی وقت فی النار کر دیتا۔ یہ عظیم مرد مجاہد روحانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز تھا اس جرنیل نے جس جوان کو بھی تھپکی دے کر شہادت کی دعا دی تو آپ کی دعا نے شرفت قبولیت پایا اور اس جوان نے شہادت کی موت پائی۔

اس عظیم شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ جام شہادت نوش کرنے والے جنرل قاسم سلیمانی 11 مارچ 1957 ء کو ایران کے صوبہ کرمان کے شہر رابر کے قنات ملک نامی علاقہ میں پیدا ہوئے پلے بڑھے اور پھر تعلیم سے فراغت کے بعد پانی کے محکمہ میں بھرتی ہو گئے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی بھر پور کامیابی کے بعد جنرل قاسم سلیمانی نے 1980 ء میں پاسداران انقلاب اسلامی فورس میں شمولیت اختیار کر لی اور اپنے آپ کو ملک و ملت کی خدمت کیلئے وقف کر دیا۔ 1980 ء سے لے کر 1988 ء تک جاری رہنے والی عراق اور ایران کی جنگ میں حصہ لے کر اپنی بہادری کے وہ جوہر دکھلائے کہ لوگ آپ کے معترف بن گئے اور قسمت کی دیوی آپ پر مہربان ہو گئی۔ اور آپ کامیابی کے بام و در عبور کرتے چلے گئے یہاں تک کہ جنرل قاسم سلیمانی کو ایرانی فوج کے 10 اہم ترین اور نڈر و بہادر فوجیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ جنرل قاسم سلیمانی کو 1998 ء میں جنرل احمد وحیدی کی جگہ القدس بریگیڈ کا سر براہ مقرر کیا گیا۔ 2007 ء میں جنرل یحیٰی رحیم صفوی کے دستبردار ہونے کے بعد بھی جنرل قاسم سلیمانی پاسداران انقلاب کی سربراہی کیلئے دیگر جرنلز کیساتھ نامزد ہوئے تھے تاہم 24 جنوری 2011ء میں ایران کے سپریم لیڈر قبلہ آیت اللہ خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کو میجر جنرل کے عہدہ پر ترقی دے دی۔

قدس فورس کا کمانڈر بننے کے بعد جنرل قاسم سلیمانی نے بیرون ملک خفیہ کاروائیوں کے ذریعے مشرق وسطی میں ایران کی اہمیت اور اس کے اثر و رسوخ میں بے پناہ اضافہ کیا اور ایران سے وفادار ملیشیاوْں کا ایک مکمل نیٹ ورک تیار کر لیا تھا جس سے امریکہ سمیت ایران اور مسلمان دشمن ممالک خائف تھے۔جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے قدس فورس کا سر براہ بننے سے پہلے ایران کے صوبہ کرمان میں اپنی ملازمت کے فرائض سر انجام دیئے یہ صوبہ افغانستان کے قریب پڑتا ہے اور اسی وجہ سے افغانستان میں کاشت ہونے والی منشیات وغیرہ کی گزرگاہ تھا جس کے ذریعے یہ منشیات سمنگل ہو کر ترکی اور پھر یورپ بھر میں جاتی تھی مگر جنرل قاسم سلیمانی نے اس غیر قانونی مواد کی سمنگلنگ کو روک کر منشیات کی روک تھام میں بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرتے ہوئے خاصی شہرت حاصل کی۔

قاسم سلیمانی نے اپنے کیریئر کے دوران حزب اللہ اور فلسطینی علاقوں میں حماس کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے شام کے صدر بشار الاسد کو ان کیخلاف 2011 ء میں شروع ہونے والی مسلح مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کیلئے انہیں بہترین حکمت عملی بھی تیار کر کے دی تھی جسے شامی صدر نے بہت سراہا تھا۔ جنرل قاسم سلیمانی کو بیک وقت شام اور عراق کی کمانڈنگ کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ان کی دانشمندانہ جنگی چالوں کی بدولت عراق میں داعش کا وجود خاک میں مل گیا تھا اور شامی فوج کے اعلٰی آفیسران قاسم سلیمانی سے رابطے کر کے مشورے کیا کرتے تھے اور جنگی ترکیبات کے طریقے جان کر ان پر عمل پیرا ہوتے تھے۔ 62 سالہ جنرل قاسم سلیمانی نے جوانی سے لے کر تا حال اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ متعدد جنگیں لڑیں اور ہر جنگ میں فتح کی سند پائی۔

آیت اللہ خامنہ ای اور جنرل قاسم سلیمانی دونوں ایک ہی بریگیڈ کے عہدوں پر فائز تھے اور انہوں نے اکٹھے ہی جنگیں لڑی ہیں۔ اسی تناظر میں سپریم لیڈر  آیت اللہ خامنہ ای اور جنرل قاسم سلیمانی کے درمیان گہرے تعلقات تھے اور ان کی شہادت پر انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کو زندہ شہید کا لقب دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ امریکہ نے جو سنگین کاروائی کی ہے اس کا رد عمل اس سے بھی زیادہ سنگین ہو گا۔ ایسی صورت حال میں مسلم ممالک کو ایران کا ساتھ دینا چاہیئے ورنہ امریکی حملے کا اگلا نشانہ کوئی اور اسلامی ملک بھی بن سکتا ہے۔ اب امریکہ نے آگ کے ڈھیر پر جو چنگاری پھینکی ہے اس پر ایران کی جانب سے اگر رد عمل آتا ہے تو اس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔ اب ایسی صورتحال میں پاکستان کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا اور پاکستان کو اپنے پتے احتیاط کے ساتھ کھیلنا ہوں گے۔

3 جنوری بروز جمعتہ المبارک کی دھند میں لپٹی ہوئی منحوس صبح ایک درد ناک خبر کیساتھ نمودار ہوئی جس نے پوری امت مسلمہ کو کرب میں مبتلا کر دیا اور دنیا کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔ اور اس افسوس ناک واقعہ پر ہر آنکھ اشک بار ہے اور ایران میں امریکہ خلاف مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں اور ایرانیوں میں شدید غم و غصہ کی لہر پائی جاتی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ بغداد کے ایئر پورٹ کے نزدیک امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کی شہادت ہے۔ اور امریکہ نے بھی اس کی ذمہ داری کو قبول کر لیا ہے اور ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ٹرمپ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹر پر امریکی جھنڈا پوسٹ کیا ہے۔ اور اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے ہزاروں امریکیوں کو مارا ہے۔

انہوں نے میڈیا کو بتاتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ نہیں چھیڑنا چاہتے تھے ہم تو جنگ کا خاتمہ چاہتے تھے جس کیلئے قاسم سلیمانی کو راستے سے ہٹانا از حد ضروری تھا۔ اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ امریکہ مسلم ممالک کیخلاف الزام تراشی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا اور مسلم دشمنی کیلئے کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور جب ثبوت طلب کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو امریکہ چپ سادھ لیتا ہے اور امریکہ کی اس خاموشی سے اس کی مکاری منافقت اور مسلم دشمنی کی قلی چاک ہو جاتی ہے۔ اور اس بات سے بھی روگردانی نہیں کی جا سکتی بلکہ یہ بات تو تاریخ کے پنوں پہ آج بھی نمایاں ہے کہ امریکہ ماضی میں بھی مسلم ممالک کیخلاف ایسی بزدلانہ تخریبی کاروائیاں کرتا رہا ہے۔ 1998 ء میں جب امریکی صدر کلنٹن کو معاوضے کی تحریک کا سامنا تھا تو اس نے جوہری ہتھیاروں کا الزام لگا کر عراق پر حملہ کر دیا تھا اور بعد میں جب امریکی صدر باراک اوبامہ کو اسی تحریک کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے اسامہ بن لادن کا الزام لگا کر افغانستان پہ جنگ مسلط کر دی تھی اور اب جب امریکہ میں نئے الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور ٹرمپ کو بھی اسی تحریک کا سامنا ہے جس سے جان چھڑوانے کیلئے اور الیکشن میں لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے اس نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کروایا ہے۔

اس حملے میں ایرانی قدس کے جنرل قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی کے ڈپٹی ہیڈ ابو مہدی المہندس سمیت 9 آدمی شہید ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے جبکہ اسی رات کی تاریکی میں امریکہ کی جانب سے دوسرے حملے کی اطلاعات بھی ملی ہیں جس میں عراقی شیعہ ملیشیاوْں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں 6  آدمی اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں حالات کافی حد تک کشیدہ ہیں اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ پیشرفت سے خطے کے امن کو شدید خطرہ لاحق ہے اور اس عالم رنگ و بو میں تیسری عالمی جنگ کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔

ملت اسلامیہ کا ایک عظیم سرمایہ اور ایک بہادر لیڈر اس دنیا سے چلا گیا جس نے اپنی بصیرت اور شجاعت سے دشمنوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اس نڈر جرنیل کو عالمی دہشتگرد تنظیم داعش کے سربراہ ابو بکر بغدادی نے انہیں زندہ پکڑ کر جلانے کی دھمکی دی تھی جس کے جواب میں اس بلند حوصلہ جرنیل نے کہا تھا کہ اے ابو بکر مجھے بستر پر نہیں مرنا اور یہ بات بھی ذہن نشین رکھنا کہ جب تم مجھے دھمکی دے رہے تھے تو میں مسجد کے اندر موجود تیسری صف پر بیٹھ کر تیری بکواس سن رہا تھا۔ اگر میں چاہتا تو تجھے اسی وقت فی النار کر دیتا۔ یہ عظیم مرد مجاہد روحانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز تھا اس جرنیل نے جس جوان کو بھی تھپکی دے کر شہادت کی دعا دی تو آپ کی دعا نے شرفت قبولیت پایا اور اس جوان نے شہادت کی موت پائی۔

اس عظیم شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ جام شہادت نوش کرنے والے جنرل قاسم سلیمانی 11 مارچ 1957 ء کو ایران کے صوبہ کرمان کے شہر رابر کے قنات ملک نامی علاقہ میں پیدا ہوئے پلے بڑھے اور پھر تعلیم سے فراغت کے بعد پانی کے محکمہ میں بھرتی ہو گئے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی بھر پور کامیابی کے بعد جنرل قاسم سلیمانی نے 1980 ء میں پاسداران انقلاب اسلامی فورس میں شمولیت اختیار کر لی اور اپنے آپ کو ملک و ملت کی خدمت کیلئے وقف کر دیا۔ 1980 ء سے لے کر 1988 ء تک جاری رہنے والی عراق اور ایران کی جنگ مکں حصہ لے کر اپنی بہادری کے وہ جوہر دکھلائے کہ لوگ آپ کے معترف بن گئے اور قسمت کی دیوی آپ پر مہربان ہو گئی۔ اور آپ کامیابی کے بام و در عبور کرتے چلے گئے یہاں تک کہ جنرل قاسم سلیمانی کو ایرانی فوج کے 10 اہم ترین اور نڈر و بہادر فوجیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ جنرل قاسم سلیمانی کو 1998 ء میں جنرل احمد وحیدی کی جگہ القدس بریگیڈ کا سر براہ مقرر کیا گیا۔ 2007 ء میں جنرل یحیٰی رحیم صفوی کے دستبردار ہونے کے بعد بھی جنرل قاسم سلیمانی پاسداران انقلاب کی سر براہی کیلئے دیگر جرنلز کیساتھ نامزد ہوئے تھے تاہم 24 جنوری 2011 ء میں ایران کے سپریم لیڈر قبلہ آیت اللہ خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کو میجر جنرل کے عہدہ پر ترقی دے دی۔

قدس فورس کا کمانڈر بننے کے بعد جنرل قاسم سلیمانی نے بیرون ملک خفیہ کاروائیوں کے ذریعے مشرق وسطٰی میں ایران کی اہمیت اور اس کے اثر و رسوخ میں بے پناہ اضافہ کیا اور ایران سے وفادار ملیشیاوْں کا ایک مکمل نیٹ ورک تیار کر لیا تھا جس سے امریکہ سمیت ایران اور مسلمان دشمن ممالک خائف تھے۔جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے قدس فورس کا سر براہ بننے سے پہلے ایران کے صوبہ کرمان میں اپنی ملازمت کے فرائض سر انجام دیئے یہ صوبہ افغانستان کے قریب پڑتا ہے اور اسی وجہ سے افغانستان میں کاشت ہونے والی منشیات وغیرہ کی گزرگاہ تھا جس کے ذریعے یہ منشیات سمنگل ہو کر ترکی اور پھر یورپ بھر میں جاتی تھی مگر جنرل قاسم سلیمانی نے اس غیر قانونی مواد کی سمنگلنگ کو روک کر منشیات کی روک تھام میں بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرتے ہوئے خاصی شہرت حاصل کی۔ قاسم سلیمانی نے اپنے کیریئر کے دوران حزب اللہ اور فلسطینی علاقوں میں حماس کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے شام کے صدر بشار الاسد کو ان کیخلاف 2011 ء میں شروع ہونے والی مسلح مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کیلئے انہیں بہترین حکمت عملی بھی تیار کر کے دی تھی جسے شامی صدر نے بہت سراہا تھا۔ جنرل قاسم سلیمانی کو بیک وقت شام اور عراق کی کمانڈنگ کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ان کی دانشمندانہ جنگی چالوں کی بدولت عراق میں داعش کا وجود خاک میں مل گیا تھا اور شامی فوج کے اعلٰی آفیسران قاسم سلیمانی سے رابطے کر کے مشورے کیا کرتے تھے اور جنگی ترکیبات کے طریقے جان کر ان پر عمل پیرا ہوتے تھے۔

62 سالہ جنرل قاسم سلیمانی نے جوانی سے لے کر تا حال اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ متعدد جنگیں لڑیں اور ہر جنگ میں فتح کی سند پائی۔ آیت اللہ خامنہ ای اور جنرل قاسم سلیمانی دونوں ایک ہی بریگیڈ کے عہدوں پر فائز تھے اور انہوں نے اکٹھے ہی جنگیں لڑی ہیں۔ اسی تناظر میں سپریم لیڈر  آیت اللہ خامنہ ای اور جنرل قاسم سلیمانی کے درمیان گہرے تعلقات تھے اور ان کی شہادت پر انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کو زندہ شہید کا لقب دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ امریکہ نے جو سنگین کاروائی کی ہے اس کا رد عمل اس سے بھی زیادہ سنگین ہو گا۔ ایسی صورت حال میں مسلم ممالک کو ایران کا ساتھ دینا چاہیئے ورنہ امریکی حملے کا اگلا نشانہ کوئی اور اسلامی ملک بھی بن سکتا ہے۔ اب امریکہ نے آگ کے ڈھیر پر جو چنگاری پھینکی ہے اس پر ایران کی جانب سے اگر رد عمل آتا ہے تو اس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔ اب ایسی صورتحال میں پاکستان کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا اور پاکستان کو اپنے پتے احتیاط کے ساتھ کھیلنا ہوں گے۔

Syed Mubarak Ali Shamsi

Syed Mubarak Ali Shamsi

تحریر : مبارک علی شمسی