عراق میں مظاہرین پر دوبارہ خونی حملے ہو سکتے ہیں: امریکا کی وارننگ

Demonstrators

Demonstrators

واشنگٹن (اصل میڈیا ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں پرامن مظاہرین پر دوبارہ قاتلانہ حملوں کا خدشہ ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ‘ٹویٹر’ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہماری نظر سے ایسی نئی رپورٹس گذری ہیں جن میں بغداد میں عراقی مظاہرین پر پرتشدد حملے کرنے کا ثبوت موجود ہے۔

مائیک پومپیو نے عراقی قیادت اور حکومت پر زور دیا کہ وہ مظاہرین پر حملوں میں ملوث اہلکاروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی میں عمل لائیں۔

درایں اثناء عراقی پارلیمنٹ کے رکن اور پارلیمنٹ کی سربراہی کمیٹی کے سربراہ حسن کریم الکعبی نے کل سوموار کو مقامی وقت کے مطابق ایک بجے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اجلا س میں عسکری قیادت کو بھی بلایا گیا ہے تاکہ مظاہرین پرحملوں ، بغداد اور السنک کے مقامات پر نامعلوم مسلح افراد کی طرف سےمظاہرین پر فائرنگ کے معاملے پر بحث کی جاسکے۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں ہفتے کے روز بغداد میں امریکی سفارت خانے کی طرف سے جمعہ کے روز پرامن مظاہرین پرحملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے حملوں کو خوفناک قرار دیا۔

سفارت خانے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ ملک میں کہیں بھی پرامن جلوسوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شہریوں کو کسی خطرے اور تکلیف کے بغیر اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے۔

عراقی ایوان صدر کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر برہم صالح نے جمعہ کے روز مظاہرین پرحملوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین پرحملوں میں ملوث مجرم مافیا آئین اور قانون کے دائرے سے خارج ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔