fbpx

اسرائیل نے مغربی کنارے میں مزید نئی بستیوں کی منظوری دیدی

Settlements

Settlements

اسرائیل (اصل میڈیا ڈیسک) اسرائیل نے مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے میں مزید یہودی بستیاں بسانے کو منظوری دے دی ہے۔ پہلے اسرائیل نے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے اس علاقے کو اپنے میں ضم کرنے کا منصوبہ عارضی طور پر ملتوی کر دیا تھا۔

اسرائیل نے بدھ 14 اکتوبر کو فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں تعمیر ہونے والے سینکڑوں نئے مکانات کی منظوری دیدی۔ مغربی کنارے سے متعلق اسرائیل کی سول انتظامیہ کی منصوبہ بندی کمیٹی نے ایک بیان میں اس کا اعلان کیا۔ اس بیان کے مطابق متعدد بستیاں بسانے کے مقصد سے ایک ہزار 313 ہاؤسنگ یونٹس کو منظوری دی گئی ہے۔ سول انتظامیہ کے مطابق اس کے علاوہ 853 اضافی ہاؤسنگ یونٹس میں بھی کافی پیش رفت پہلے ہی ہوچکی ہے تاہم ابھی اس یونٹ کو حتمی طور پر منظوری نہیں ملی ہے۔

اسرائیل نے ان اقدامات کا اعلان ایک ایسے وقت کیا ہے جب اس نے متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے مقصد سے ایک ماہ سے بھی کم وقت پہلے ہی مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اپنے منصوبے کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطی سے متعلق اپنے جس متنازع امن منصوبے کا اعلان کیا تھا اس میں بھی اسرائیل کے اس منصوبے کی حمایت کی گئی تھی کہ وہ غرب اردن سمیت فلسطین کے ان علاقوں کو اپنے میں ضم کر سکتا ہے جہاں اس نے یہودی بستیاں بسا رکھی ہیں۔ حالانکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق مقبوضہ علاقوں پر قبضہ غیر قانونی ہے اور وہ فلسطینیوں کی سرزمین مانی جاتی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کے اس نئے اعلان سے نہ صرف عرب اسرائیل امن معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے بلکہ اس سے فلسطینیوں میں بھی شدید غم و غصے کی لہر پھیل سکتی ہے۔ فلسطین مغربی کنارے، غزہ پٹی اور یروشلم سمیت ایک علیحدہ ریاست کے قیام کی کوشش میں ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ایک ترجمان نبیل ابو ردانہ کا کہنا تھا، ”ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بستیاں بسانے کے پاگل پن کو روکنے کے لیے فوری طور پر مداخلت کرے، جو کسی بھی بامعنی امن عمل کی تباہی کا باعث ہے۔” فلسطین نے خلیجی ممالک کے ساتھ اسرائیلی معاہدے کی بھی مخالفت کی ہے اور بطور احتجاج عرب لیگ کی صدارت سے استعفی دیدیا ہے جو اس وقت اس کے پاس تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کی سول انتظامیہ، جو مغربی کنارے پر بستیاں بسانے کا نگراں ادارہ ہے، کی بدھ اور جمعرات کو ہونے والی میٹنگ میں نئی بستیوں کا معاملہ اس کے اہم ایجنڈے میں شامل تھا۔ اسرائیل نے سن 1967 کی جنگ میں ان علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔ اس مسئلے پر بین الاقوامی برادری امریکا اور اسرائیل کے موقف سے قطعی متفق نہیں ہے اور ان بستیوں کو غیر قانونی تسلیم کیا جاتا ہے۔

مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقوں میں تقریبا آٹھ ماہ کے وقفے کے بعد تعمیراتی کام کو منظوری دی گئی ہے اور باور کیا جاتا ہے کہ اس سے وزیراعظم بینجیمن نیتن یاہو کو ان رہنماؤں کی حمایت مل سکتی ہے جو مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں بسانے کے وکالت کرتے رہتے ہیں۔ اسرائیل کی ایک غیر سرکاری تنظیم نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ” نیتن یاہو مغربی کنارے کے ڈی فیکٹو انضمام کو مستحکم کرنے کے لیے پوری طاقت سے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔”

کورونا وائرس کی وبا، بڑھتی بے روزگاری اور معاشی بدحالی سے اسرائیلی وزیراعظم کی مقبولیت میں تیزی سے کمی ہورہی ہے۔ نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے کئی مقدمات بھی چل رہے ہیں اور عدالت نے بعض کیسز میں انہیں قصوروار بھی ٹھہرایا ہے۔ اس ماحول میں وہ ایسے اقدامات کرنا چاہتے ہیں جس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوسکے۔